حاكم يحدد الأولوية لصالح خير الأمة فوق المصلحة
حاكم يحدد الأولوية لصالح خير الأمة فوق المصلحة

الخبر:   في حفل افتتاح كبير في إسطنبول، صرح الرئيس أردوغان فيما يتعلق بضحايا التقاعد المبكر أن البعض "متمسك بفكرة التقاعد المبكر". حيث قال: التقاعد المبكر كان هو السبب في إفلاس جميع الدول الإسكندينافية. التقاعد المبكر، لماذا؟ وأضاف أردوغان مصرحاً أن هذه المعادلة هي معادلة سيئة وشريرة ومؤذية، "لن نفعل ذلك مع حسابات سياسية. أنا أخبر أصدقائي: لا تشجعوني أبداً على السير بهذه الطريق. سأفعل أي شيء لصالح أمتي، ولن أخوض في أمر ضار بالأمة وبلادي. حتى لو خسرنا الانتخابات". (وكالات الأنباء، 2019/11/16م)

0:00 0:00
Speed:
November 24, 2019

حاكم يحدد الأولوية لصالح خير الأمة فوق المصلحة

حاكم يحدد الأولوية لصالح خير الأمة فوق المصلحة

(مترجم)

الخبر:

في حفل افتتاح كبير في إسطنبول، صرح الرئيس أردوغان فيما يتعلق بضحايا التقاعد المبكر أن البعض "متمسك بفكرة التقاعد المبكر". حيث قال: التقاعد المبكر كان هو السبب في إفلاس جميع الدول الإسكندينافية. التقاعد المبكر، لماذا؟

وأضاف أردوغان مصرحاً أن هذه المعادلة هي معادلة سيئة وشريرة ومؤذية، "لن نفعل ذلك مع حسابات سياسية. أنا أخبر أصدقائي: لا تشجعوني أبداً على السير بهذه الطريق. سأفعل أي شيء لصالح أمتي، ولن أخوض في أمر ضار بالأمة وبلادي. حتى لو خسرنا الانتخابات". (وكالات الأنباء، 2019/11/16م)

التعليق:

إذا كان حكام دولة ما يسرقون أشياء الناس ويعتقدون أنهم يستحقون ذلك لأنفسهم، ويستندون بذلك إلى القانون، إذن يمكن للمرء أن يقول إن هذا هو نفاق النظام والحكام. الحكام الذين يجعلون مسألة التقاعد جزءاً من سياستهم كما يفعلون بكل قضية أثناء الانتخابات، لا يمتنعون أبداً عن تجاهل وعودهم، والكلمات بعد الانتخابات، كما هي عادتهم. إن العديد من الحكام والإداريين تقاعدوا في سن مبكرة للغاية، هم متعنتون عندما يتعلق الأمر بالناس ويدعون أن هذا النوع من الممارسة سيؤثر سلباً على الاقتصاد، حتى لو كان هذا صحيحاً، فإن الأمور التي يقومون بها تتناقض مع أقوالهم. إن ادعاء أردوغان بأن الدول الاسكندينافية قد أفلست بسبب التقاعد المبكر يدل بوضوح على التلاعب بشكل فوضوي بعقول الناس. إن القول بأن الدول الاسكندينافية، التي دخل الفرد القومي الإجمالي فيها أعلى بكثير من تركيا، قد أفلست بسبب التقاعد المبكر، هو خداع إن لم يكن جهلاً.

بالطبع نحن لا نتحدث عن الحاجة للتقاعد هنا. إنها حقيقة أن الرأسمالية تظلم الناس حقوقهم وتحرمهم حقهم في الرعاية الصحية ووعود التقاعد، من خلال الاستحواذ على جزء من الأرباح التي عمل الناس من أجلها لسنوات. لكن من المحتم أيضاً أن تجعل الناس الذين يتصرفون ويفكرون في التقاعد، يؤدي هذا التفكير إلى نشوء مجتمع كسول. ومع ذلك، فإن الحكام الذين يسيطرون على النظام، لا يمانعون أبداً في التضحية بعمل الناس، فضلاً عن الشعب من أجل مناصبهم. هذا الموقف هو في الوقت نفسه مؤشر لموقفهم من أبناء شعبهم.

ولما كان الحال هكذا، فإن تصريح أردوغان حول فعل أي شيء لصالح الأمة وعدم الخوض في شيء ضار بها، هو على بعد سنوات ضوئية من الحقيقة. إن مصلحة المجتمع في بلد مسلم، هي التطبيق الكامل لشرع الله. أما في نظام يتم فيه وضع شرع الله جانباً، فلا فائدة من أي ميزة يمكن اعتبارها ميزة.

خصوصاً، حقيقة أن الحكام الذين وصل الشر حتى حناجرهم، يلهون الناس بمصالح دنيوية بسيطة، هي أكبر ضرر. ما نوع المنفعة التي حققها الحكام، الذين يجعلون من الربا محركاً أساسيا في كل مجالات الحياة بينما يحظره الإسلام بشدة، ويدفعون عشرات المليارات من الدولارات إلى جماعات الضغط والبنوك سنويا، ويضعون نسب ربا تتوافق مع ما يقوم به الناس من أعمال، لمعرفة المجتمع من الناحية الفقهية والمالية؟ ألا يعتبر ذلك ضاراً للناس عند شطب مليارات من ديون TL الضريبية الخاصة بالشركات والأندية الرياضية الضخمة، وقمع الناس بهامش الربح والضرائب؟ أي نوع من المنفعة يقدمها هؤلاء الحكام للناس، الذين يتوقعون حياة فائقة الترف لأنفسهم ويستخدمون كل وسائل الدولة لمصالحهم الخاصة؟

بمعنى آخر، ما نوع الفائدة التي يتم توفيرها للناس من خلال الرواتب التي يحصلون عليها، والأماكن التي يعيشون فيها، والمركبات وأماكن العمل التي يستخدمونها، والموظفين المعينين، والإمكانيات والمدفوعات التي لا تحصى؟ وأي مصلحة تقدم للناس في جعل القمار والخمور والزنا مشروعة في حين توجد نصوص قطعية في تحريمها، وجعل هذا الحرام علنيا أمام أبناء الشعب بفرض ضرائب عليهم؟ عزيزي أردوغان! كم هو حقيقي أن تدعي أنك تقف إلى جانب الناس في حين إن هذه القسوة والشرور تضر علانية بدين الناس ودنياهم، وهذا كله يتم بأيديكم!

وما هي الفائدة التي جلبها نظامك الديمقراطي للمسلمين، النظام الذي استوردته من الغرب عدو الإسلام والمسلمين، النظام الخرافي الذي ما زلت تصر على تطبيقه؟ أنت تدعي أنك صديق للكفار، ولكن هم من يأتون إلى بلادنا يصولون فيها ويجولون يذبحون ويقتلون ويدمرون، هل تسمي ذلك خيرا للمسلمين؟! بالتأكيد، لا يعد حقاً أي من هذه السلوكيات التي يحظرها الله، بغض النظر عن مدى منفعتها في الحياة الدنيا...

يجب على الحاكم الذي يفكر في مصلحة شعبه أن يكون من خلال التفكير بتطبيق أحكام الله وليس من خلال تطبيق الكفر والديمقراطية. هذا حق لله على عباده بالمعنى الدنيوي والأخروي، وهو مسؤولية الحكام.

النظام الإسلامي هو النظام الوحيد الصحيح والذي سيحل جميع المشكلات بما يتماشى مع الطبيعة البشرية. في حين إن هذا هو المصلحة الكبرى بالمعنى الأخروي، فإنه يوفر أيضاً المصلحة الكبرى بالمعنى الدنيوي من خلال ضمان الاحتياجات الأساسية لجميع الناس، وكونه نظاماً يشجع الإنتاج، يضمن مكافأة المنتجات دون الاهتمام بعمل الناس. لا تعطِ الأولوية للشعب، أعط الأولوية للحق؛ ولا تعط الأولوية للمنفعة بل أعط الأولوية للصلاح في الحقيقة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست