فيروس كورونا (كوفيد-19) واقتصاد ماليزيا
فيروس كورونا (كوفيد-19) واقتصاد ماليزيا

الخبر:   في 16 آذار/مارس 2020، أعلن رئيس وزراء ماليزيا، داتو سيري محيي الدين ياسين، أنه سيتم تنفيذ أمر منع حركة الناس في جميع أنحاء ماليزيا بدءاً من 18 آذار/مارس وحتى 31 آذار/مارس 2020. وفي 25 آذار/مارس، أعلن محيي الدين إعلاناً آخر يقضي بتمديد أمر منع الحركة حتى 14 نيسان/أبريل 2020. وقد توقفت جميع الأنشطة عملياً باستثناء العديد من الخدمات الأساسية مثل الخدمات الطبية والغذائية والأمنية. إغلاق شهر واحد يعني أنه سيتم أيضاً إيقاف جزء كبير من الأنشطة الاقتصادية للأمة. وقد أثر ذلك بشكل واضح على مصدر رزق شريحة كبيرة من المجتمع. رداً على ذلك، أعلن الدكتور مهاتير في 27 شباط/فبراير 2020، رئيس الوزراء المؤقت آنذاك، عن تحفيز اقتصادي بقيمة 20 مليار رينجيت ماليزي. واليوم أعلن محيي الدين عن حزمة تحفيز اقتصادي جديدة بقيمة 250 مليار رينجيت ماليزي.

0:00 0:00
Speed:
March 31, 2020

فيروس كورونا (كوفيد-19) واقتصاد ماليزيا

فيروس كورونا (كوفيد-19) واقتصاد ماليزيا

(مترجم)

الخبر:

في 16 آذار/مارس 2020، أعلن رئيس وزراء ماليزيا، داتو سيري محيي الدين ياسين، أنه سيتم تنفيذ أمر منع حركة الناس في جميع أنحاء ماليزيا بدءاً من 18 آذار/مارس وحتى 31 آذار/مارس 2020. وفي 25 آذار/مارس، أعلن محيي الدين إعلاناً آخر يقضي بتمديد أمر منع الحركة حتى 14 نيسان/أبريل 2020. وقد توقفت جميع الأنشطة عملياً باستثناء العديد من الخدمات الأساسية مثل الخدمات الطبية والغذائية والأمنية. إغلاق شهر واحد يعني أنه سيتم أيضاً إيقاف جزء كبير من الأنشطة الاقتصادية للأمة. وقد أثر ذلك بشكل واضح على مصدر رزق شريحة كبيرة من المجتمع. رداً على ذلك، أعلن الدكتور مهاتير في 27 شباط/فبراير 2020، رئيس الوزراء المؤقت آنذاك، عن تحفيز اقتصادي بقيمة 20 مليار رينجيت ماليزي. واليوم أعلن محيي الدين عن حزمة تحفيز اقتصادي جديدة بقيمة 250 مليار رينجيت ماليزي.

التعليق:

لم تؤثر جائحة فيروس كورونا على الاقتصاد الماليزي وحسب بل أثرت أيضاً على اقتصاد العالم كله. وبالتوازي مع بقية الاقتصادات الرأسمالية في العالم، كلما حدثت أزمة كهذه، سيكون الحل الاقتصادي بمثابة حزمة تحفيز. ويُنظر إلى هذا التحفيز بشكل عام على أنه "المنقذ" من جانب الذين يواجهون الأزمات الاقتصادية مباشرةً. تلك الفئة تشمل الذين يعيشون على الدخل اليومي، وهم الذين يعتمدون على الأعمال اليومية الصغيرة. إن رئيس الوزراء الماليزي، بإعلانه عن حزمة 250 رينجيت ماليزي، قد أعطى في الواقع مثالا من خلال حساب مقدار ما يمكن أن تكسبه شخصية وهمية تسمى "العمة كيا" من حزمة التحفيز.

كل شيء جيد إذن! حسنا، هذا ليس هو الحقيقة. فأحد الأسئلة الواضحة هو من أين تؤمّن الحكومة الماليزية هذا المبلغ من المال؟ إن 250 مليار رينجيت ماليزي ليس بالمبلغ الصغير. لقد صرح البعض بأن ماليزيا لديها احتياطي حوالي 400 مليار رينجيت ماليزي. ويقولون ربما يكون هذا هو الوقت المناسب لاستعمالها كاحتياطيات. حسنا، ليس هذا هو الواقع. فالحكومة الماليزية لا تستطيع إنفاق الاحتياطيات لأنها لا تملكها في الأصل. فالاحتياطيات هي في الواقع نسخة احتياطية يحتاجها البنك المركزي لتسهيل الواردات وكحاجز لدعم وتثبيت قيمة الرينجيت. بدون الاحتياطيات، لا يمكن تخزين أي تخفيض لقيمة رينجيت بواسطة البنك المركزي الماليزي. ومن بين المصادر المحتملة لمثل هذا المبلغ من المال أشكال القروض عن طريق بيع السندات التي تصدرها الحكومة. ومن المرجح أن يتم شراء هذه السندات من المؤسسات المالية الوطنية مثل صندوق الادخار الذي هو في الحقيقة أموال مملوكة للشعب الماليزي. ومع خضوع ماليزيا بالفعل تحت ضغط الديون البالغة تريليون رينجيت ماليزي، فإن المزيد من هذه القروض، وإن كان ذلك لمساعدة الناس في الأزمات، سيؤدي إلى مزيد من الضغوط الاقتصادية. ومع عدم ظهور أي نهاية لحالة كوفيد-19، فإن الحالة الاقتصادية حتى في المستقبل القريب جدا تبدو قاتمة. وفي ظل النظام الحالي، فإن الاقتصاد هو بمثابة شبكة معقدة، وبالتالي، ليس من الصعب تصور انهيار اقتصادي كامل إذا استمرت أزمة كوفيد-19 الحالية إلى أجل غير مسمى.

ضمن الإطار الاقتصادي الحالي، من الصعب كسر حاجز التفكير الرأسمالي في حل الأزمات الاقتصادية. فإن مفهوم الثروة لا يزال يستحوذ بأنانية على أغنى 1% الذين لن يتخلوا أبداً عن وضعهم الحالي من حيث امتلاكهم نصف ثروات العالم. وكونها دولة رأسمالية، فإن ماليزيا لن تنظر أبداً إلى اختلال توازن الثروة في حل المشكلات الاقتصادية. ولن تتخيل الأمة حتى تخفيف قبضة القلة التي تملك الموارد الحيوية للبلاد. ويمكن الاتفاق على أنه في ظل الوضع الذي نحن فيه الآن، فإن ضمان "توزيع الثروة" للتأكد من أن البؤساء سيتحررون من أغلال الضائقة الاقتصادية الأليمة قد يكون من الصعب تحقيقه - وأنه ليس بهذه البساطة إعادة توزيع ثروة الأغنياء على الفقراء.

نعم، بالتأكيد سيكون من الصعب في ظل النظام الحالي. لكن هذه ليست مجرد مسألة توزيع الثروة، إنها مسألة تطبيق مبدأ الإسلام الذي يجعل رعاية شؤون الناس أولوية. إنها مسألة وضع توزيع الثروة كأساس للاقتصاد. إنها مسألة إيجاد نظام خالٍ من الربا، أساس كل الشرور في المجتمع الحالي. إنها مسألة ضمان إعطاء الناس حقوقهم الاقتصادية، لا سيما في المسائل الصحية. إنها مسألة عدم وضع الاقتصاد أبداً فوق حقوق الأمة. إنها مسألة وجود نظام يعيش الناس في ظله ويدافعون عن الأخوّة ويهتمون ببعضهم بعضا كأساس للأمة. لو كنا نعيش فقط في نظام يضمن هذه الحقوق، فإننا سنرى استجابات أكثر استنارة للأزمات - عندما يكون كوفيد-19 لا يزال العدو غير المرئي، ولكن "العمة كيا" لن تتصور أبداً أن هذا النظام - النظام الاقتصادي الإسلامي الحقيقي في ظل الخلافة - سوف يحتاج إلى استدعاء محفز بهذا الحجم!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

#كورونا

#Covid19

#Korona

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست