في ذكرى المصادقة على الدستور التونسي
في ذكرى المصادقة على الدستور التونسي

الخبر:   نشر في الصفحة الرسمية لمجلس نواب الشعب الخبر التالي: "بمناسبة الذكرى الخامسة للمصادقة على دستور الجمهورية التونسية، يعقد مجلس نواب الشعب جلسة عامة ممتازة يوم الاثنين 28 كانون الثاني/يناير 2019 بداية من الساعة التاسعة صباحا". كما صرح رئيس مجلس نواب الشعب محمد الناصر في تصريح لوكالة تونس أفريقيا للأنباء يوم الخميس، "إن البرلمان سيعقد الاثنين 28 كانون الثاني/يناير 2019 جلسة عامة ممتازة، احتفالا بمرور خمس سنوات على مصادقة المجلس التأسيسي على دستور الجمهورية الثانية".

0:00 0:00
Speed:
February 03, 2019

في ذكرى المصادقة على الدستور التونسي

في ذكرى المصادقة على الدستور التونسي

الخبر:

نشر في الصفحة الرسمية لمجلس نواب الشعب الخبر التالي:

"بمناسبة الذكرى الخامسة للمصادقة على دستور الجمهورية التونسية، يعقد مجلس نواب الشعب جلسة عامة ممتازة يوم الاثنين 28 كانون الثاني/يناير 2019 بداية من الساعة التاسعة صباحا".

كما صرح رئيس مجلس نواب الشعب محمد الناصر في تصريح لوكالة تونس أفريقيا للأنباء يوم الخميس، "إن البرلمان سيعقد الاثنين 28 كانون الثاني/يناير 2019 جلسة عامة ممتازة، احتفالا بمرور خمس سنوات على مصادقة المجلس التأسيسي على دستور الجمهورية الثانية".

التعليق:

من المعلوم أن الاحتفال هو اجتماع على فرح ومسرة، أما أن يكون اجتماعا على فشل وراءه فشل من خلفه محن ومصائب لا حصر لها ولا عد فهي مفارقة عجيبة، لكن هذا حالنا في بلد الزيتونة اليوم!

فقد تأسست الجمهورية الأولى على زعم الاستقلال فأغرقتنا في ظلمات استعمار فكري وثقافي كبل عقولنا سنين طويلة وسرنا فيه سير المضبوع الذي لا يدرك أنه يتبع مُفترسه إلى وكره، وحين قمنا ثائرين نريد التغيير أوهمونا أننا أصحاب قرار وأن مصيرنا بأيدينا ونحن من يختار الطريق... لكن حقيقة الأمر أننا خدعنا مجددا، بل إننا نعاقَب على مجرد رفضنا للظلم والقهر بيد من تصدر المشهد وزعم أنه يحمي الثورة...

دستور ولد ميتا وكبّر عليه أحد مؤسسيه أربعا (الصادق شورو) ورفضه الناس قبل المصادقة عليه، وقد كنا في حزب التحرير أعلنا رفضنا وتبرّؤنا منه في وقفة عز أمام مجلس النواب بباردو يوم 24 كانون الثاني/يناير 2014، لكن تبرُّؤنا هذا لا يجعلنا نغض الطرف عن الكوارث التي حدثت جراء هذا الدستور...

لقد كان إقرار مبدأ المساواة التامة بين الرجل والمرأة جرأة كبيرة على أحكام الله فتح المجال لمزيد من التجرؤ والتمادي حتى خرجت علينا لجنة الحريات الفردية والمساواة بتقرير يعلن الحرب صراحة على أحكام ديننا الحنيف ويحرفها أيما تحريف ليدعو لمساواة المرأة بالرجل في الميراث ويلغي المهر ويلغي العدة والقوامة...

وبإقرار حرية الضمير وتجريم التكفير فتح الباب على مصراعيه لكل من هب ودب، فخرج المثليون للعلن يتظاهرون وتوفر للمفطرين في شهر الصيام مجال للصياح وإشهار إفطارهم دونما حياء ولا خجل، بل تجاوزنا ذلك بكثير إلى حد سبّ الجلالة تحت قبة المجلس دون أن يحرك أحد ساكنا! ولم يكتفوا بنهب ثروات البلاد منذ الاستعمار فجددوا العقود ومددوها، بل باعوا البلاد ورهنوها عند صندوق النقد الدولي فصار هو الآمر الناهي، وعقدوا الاتفاقيات التي تدمر الاقتصاد والفلاحة (اتفاقية الأليكا)، وتصدوا لأحكام الله وحاربوها حتى يرضوا أسيادهم. وها هم بعد خمس سنوات بدل أن يقوموا بجردٍ لحجم الفشل والخسائر يغالطون أنفسهم ويستعدون للاحتفال!

يخادعون أنفسهم ويرفضون الإقرار بهزيمتهم، فدستورهم يحفظ مصالح العدو ويثقل كاهل الشعب فقد وصلت المديونية في تونس سنة 2018 إلى 70% من الناتج المحلي الإجمالي، ونزيف القروض متواصل بشروط تثقل كاهل الناس، وبلغت نسبة الفقر 15.2% خلال سنة 2016/2015 بحسب المعهد الوطني للإحصاء.. ووصلت سنة 2018 إلى 15.4% من عدد النشيطين المقدر بـ126 ألف و100 ساكن. تتوزع هذه النسبة بين الذكور والإناث كالآتي 12.5% ذكور و22.7% من الإناث. وكثر الإجرام حيث سجلت وزارة الداخلية 2700 قضية عنف خلال سنة 2017، وبلغت نسبة النساء اللاتي تعرضن للعنف إلى 47%.

وارتفعت أعداد حالات الطلاق لتصل إلى 16 ألفاً و452 حالة خلال سنة 2017/2016 أي بمعدل 45 حالة يوميا، وتنامت ظاهرة الحرقة ليصل عدد المهاجرين غير النظاميين إلى 38 ألف مهاجر في تشرين الأول/أكتوبر 2017 بحسب ما أشار إليه المعهد التونسي للدراسات الاستراتيجية. ناهيك عن حالات الانتحار التي بتنا نسمع عنها بشكل يومي، فقد وصلت في سنة 2016 إلى 583 حالة انتحار شملت مختلف فئات المجتمع التونسي، وانتشر ترويج المخدرات فقد سجلت وزارة الداخلية 4900 قضية مخدرات سنة 2016 منها 3186 قضية استهلاك و1641 قضية ترويج و73 قضية تهريب والإيقاع بـ8984 متهما. ولا ننسى ما وصل إليه حال قطاع الصحة وما أصبح الناس يعانونه من صعوبات الحصول على الدواء أو الإسعاف وما تعانيه الأسر من جراء مشكلة التعليم وأزماته المتكررة مع الاتحاد والغلاء الفاحش في المعيشة وارتفاع الأسعار الذي بات يفاجئ الناس بشكل يومي وشحّ المواد الأساسية، وغير ذلك كثير...

مشاكل بالجملة وأزمات تجر أزمات ومعاناة يومية أفقدت التونسيين الثقة في السياسة والسياسيين ولم يعد لديهم أمل في تحسن الأوضاع، ومن تسبب في كل هذا يقيم احتفالا على آلام الناس متغافلا عن الكوارث التي أحدثها باتباع أوامر أسياده والإعراض عن منهج ربه، ﴿صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ﴾، حتى وهم ينظرون إلى ديمقراطية الغرب وهي تتهاوى أمام أعينهم ما زالوا يصرون على نهجه!!

ألا فلتعلموا أن أهل تونس بل المسلمين وحتى الغرب يشهدون موت النظام الرأسمالي وينتظرون فقط دفنه داخل قبره ليعلنوا ميلاد نظام الإسلام العظيم الذي سيملأ الأرض عدلا بعد جور نظامكم هذا، ولم يبق إلا القليل، فانتظروا إنا معكم منتظرون.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعاد خشارم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست