في الأساس، لم يتغير شيء (مترجم)
في الأساس، لم يتغير شيء (مترجم)

الخبر:   كان للأحداث المختلفة التي حصلت خلال عام 2018 تأثير قوي على المسلمين في ماليزيا. يجب النظر إلى هذه الأحداث كدروس للمسلمين حتى لا نكرر الأخطاء نفسها مرة أخرى. تشير الردود من وسائل الإعلام الرئيسية إلى الآمال بأن هذه التغييرات الجذرية في المشهد السياسي للبلاد خلال عام 2018 ستجمع آمالاً جديدة لعام 2019. كما نعلم جميعاً، فإن هذه التغييرات الجذرية ناجمة في المقام الأول عن نجاح تحالف الأمل في الإطاحة وكسر احتكار هيمنة الائتلاف الوطني الحاكم في ماليزيا (الجبهة الوطنية) الذي حكم ماليزيا لأكثر من 60 عاماً منذ "استقلالها". لكن هل يمكننا حقاً أن نتوقع حدوث تغيير حقيقي؟

0:00 0:00
Speed:
February 09, 2019

في الأساس، لم يتغير شيء (مترجم)

في الأساس، لم يتغير شيء

(مترجم)

الخبر:

كان للأحداث المختلفة التي حصلت خلال عام 2018 تأثير قوي على المسلمين في ماليزيا. يجب النظر إلى هذه الأحداث كدروس للمسلمين حتى لا نكرر الأخطاء نفسها مرة أخرى. تشير الردود من وسائل الإعلام الرئيسية إلى الآمال بأن هذه التغييرات الجذرية في المشهد السياسي للبلاد خلال عام 2018 ستجمع آمالاً جديدة لعام 2019. كما نعلم جميعاً، فإن هذه التغييرات الجذرية ناجمة في المقام الأول عن نجاح تحالف الأمل في الإطاحة وكسر احتكار هيمنة الائتلاف الوطني الحاكم في ماليزيا (الجبهة الوطنية) الذي حكم ماليزيا لأكثر من 60 عاماً منذ "استقلالها". لكن هل يمكننا حقاً أن نتوقع حدوث تغيير حقيقي؟

التعليق:

لقد نجحت القضايا المتعلقة بفضائح صندوق التنمية الماليزي، والفساد، وتكاليف المعيشة المتزايدة وغيرها في تكوين تصور لدى الناس، وخاصة الشباب لرفض حكم حكومة الجبهة الوطنية. وبالتالي، ليس من المستغرب أن يكون انتصار تحالف الأمل سبباً في حماسة عدد قليل من المسلمين، خاصة لأولئك الذين رأوا أن فوز تحالف الأمل كان نجاحاً لإسقاط نظام قادته كانوا يعانون من فضائح مختلفة. من السخرية أن عصر "ماليزيا الجديدة" يشهد كيف أصبح الأعداء السياسيون السابقون "أصدقاء" في تشكيل الحكومة، في حين إن "الأصدقاء" السابقين هم الآن خصوم يسعون جاهدين لإخراج بعضهم بعضاً. هذا يبين بوضوح كيف أن السياسات الديمقراطية والأصدقاء والخصوم هي عناصر عابرة. وتبقى المصلحة ثابتة! وبغض النظر عن ثباتها، فإن المصلحة في حد ذاتها عنصر مؤقت لا يستحق أن يصبح أساساً للترابط بين الإنسان.

بدأ الحماس بشأن "ماليزيا الجديدة" يتلاشى عندما بدأ الماليزيون يدركون أن وعود الانتخابات والتعهدات تظهر فشلها. معظم الوعود التي قدمت في البيان الانتخابي لم يتم تلبيتها. إن موقف الحكومة واستجابتها في تحويل سبب الفشل في الديون المتأصلة إلى أنه أمر موروث عن الحكومة السابقة هو ما جعل الناس يخيب أملهم. فقدت حكومة تحالف الأمل أيضاً الكثير من المصداقية في أعين الناس، حيث يرى الكثيرون "المنعطفات" في القرارات التي اتخذوها. من وجهة النظر الاقتصادية، على الرغم من التحسن في النمو الاقتصادي كما أعلنت الحكومة، فإن الوضع الاقتصادي للناس العاديين لا يزال في الدرجة نفسها. إن المؤشر العام للنمو الاقتصادي الجيد مع البيانات الاقتصادية الإيجابية هو شيء واحد ولكن يجب ألا نتجاهل الناس العاديين الذين يشعرون بعبء تكاليف المعيشة المرتفعة. يشير الاقتصاد "الجيد" إلى الأرقام التي تشير إليها معايير الإنتاج - الناتج المحلي الإجمالي والناتج القومي الإجمالي - عندما تسمح في الوقت نفسه فكرة حرية الملكية بحقوق الملكية العامة مثل النفط والغاز الطبيعي والبوكسيت والذهب والأخشاب وإمدادات المياه في أن تكون البلاد محتكرة ومكتسبة من حفنة من الأفراد والشركات الغنية. وبالتالي، فإن ما نراه هو أن الاقتصاد "ينمو"، ولكن لا يشعر به معظم الناس. وهذا يخلق فجوة أكبر بين الأغنياء والأغلبية. في العام الماضي سجلت زيادة في الفقر المدني على الرغم من المبادرات المختلفة التي اتخذت للتصدي لها. استناداً إلى تقرير منظمة اليونيسيف للأطفال لعام 2018، فإن أسرة من بين كل 3 أسر دخلها أقل من 2000 رينجيت ماليزي في الشهر. وعلى الرغم من أن المبلغ يتجاوز دخل خط الفقر، لا يزال فقراء المدن بوجه خاص يواجهون صعوبات في تلبية الاحتياجات الأساسية للعيش. وذكر التقرير أيضاً أن ثلاثة أجيال يعيشون في 22٪ من الأسر التي تعاني من مشاكل غذائية، بينما في الوقت نفسه، هناك أناس يعيشون مع ثروة وفيرة. وإلى جانب المشاكل الاقتصادية، يزداد الخطر بشأن موضوع الاندماج المجتمعي في البلاد على نحو متزايد بعد تصرفات البعض ممن يلعبون في المشاعر العرقية لتحقيق مكاسب سياسية. يمكن لهذه الأعمال أن تدعو إلى نزاع عرقي وتؤدي إلى تحول قد يهدد الانسجام في المجتمع.

كما شهدت حقبة "ماليزيا الجديدة" أعداداً متزايدة من أنصار الليبرالية الذين يجرؤون على الخوض في أحكام الإسلام. إنهم يسعون إلى الترويج لفكرة أن الدين شأن شخصي ويجب ألا يطبق في المجتمع والدولة. كما أن الممارسات المرتبطة بالإسلام والمؤسسات الإسلامية مستهدفة أيضاً، حيث يمكن ملاحظة ذلك بشكل واضح في قضية زواج المراهقين وتعدد الزوجات وحضانة الأطفال للوالدين المختلفين في الدين وختان الإناث. تحاول حكومة تحالف الأمل أن تبيع فكرة "رحمة اللين" الإسلامية التي تنحرف بوضوح عن معناها الحقيقي وهي في الحقيقة أداة تستخدم لتبرير دخول الأفكار العلمانية إلى الإسلام. إن ذلك لا يؤدي إلى الازدهار ولا إلى تطور الأمة على أساس الشريعة، بل يحفز على نشر تعاليم مضللة مثل الليبرالية والعلمانية والتعددية في المجتمع.

من الواضح أن الحكومة الجديدة لا تحقق أي تغيير حقيقي في المجتمع. بل وفي كثير من الجوانب، فإن الوضع أسوأ مما كان عليه في ظل الإدارة السابقة. ومع ذلك، من الواضح أن "ماليزيا الجديدة" لا تختلف كثيراً عن ماليزيا تحت اسم الجبهة الوطنية. لا يزال التنفيذ الحقيقي للإسلام غائباً بشكل واضح. هنالك فقط تغيير في وجوه أولئك الذين يحكمون ولكن لا يوجد أي تغيير في النظام، في الأساس لم يتغير شيء! ما نحتاجه اليوم ليس تغيير الوجوه التي تملأ الحكومة، ولا مستحضرات التجميل لإخفاء التحيز والتفاوتات الناشئة عن تطبيق النظام الرأسمالي اليوم. يحتاج المسلمون في هذا البلد إلى تغيير النظام حيث يتم تطبيق الإسلام على أكمل وجه تحت رعاية دولة الخلافة الراشدة.

من المسلم به أنه مع إقامة الخلافة لا يعني ذلك أن جميع المشاكل ستختفي إلا أنه - وفي ظل الخلافة، يتم استعادة الإسلام كطريقة حياة مسؤولة عن التعامل مع جميع المشاكل البشرية. وفقط عن طريق تطبيق الإسلام بصدق والإيمان بالله سبحانه وتعالى، فإن رحمته ستغطي كل ركن من أركان هذا العالم، وليس ماليزيا فقط.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست