فشل تركيا في حماية المرأة (مترجم)
فشل تركيا في حماية المرأة (مترجم)

الخبر:   خرجت العشرات من النساء في إسطنبول يوم السبت للاحتجاج والتنديد بالعنف المتزايد ضد النساء وفشل الحكومة في وقف الهجمات الوحشية عليهن في جميع أنحاء البلاد. تجمعت النساء في حي كاديكوي على الجانب الآسيوي من إسطنبول، يروين قصصاً مروعة عن نساء قُتلن مؤخراً في جميع أنحاء البلاد، بما في ذلك إمين بولوت، التي أثار مقتلها على يد زوجها السابق في آب/أغسطس غضباً عارما. وهتفن "أوقفوا قتل النساء!"، و"أوقفوا عنف الذكور" "لا تقفوا موقف المتفرج افعلوا شيئا". (وكالة الصحافة الفرنسية، إسطنبول الأحد، 29 أيلول/سبتمبر 2019) ...

0:00 0:00
Speed:
October 01, 2019

فشل تركيا في حماية المرأة (مترجم)

فشل تركيا في حماية المرأة

(مترجم)

الخبر:

خرجت العشرات من النساء في إسطنبول يوم السبت للاحتجاج والتنديد بالعنف المتزايد ضد النساء وفشل الحكومة في وقف الهجمات الوحشية عليهن في جميع أنحاء البلاد.

تجمعت النساء في حي كاديكوي على الجانب الآسيوي من إسطنبول، يروين قصصاً مروعة عن نساء قُتلن مؤخراً في جميع أنحاء البلاد، بما في ذلك إمين بولوت، التي أثار مقتلها على يد زوجها السابق في آب/أغسطس غضباً عارما.

وهتفن "أوقفوا قتل النساء!"، و"أوقفوا عنف الذكور" "لا تقفوا موقف المتفرج افعلوا شيئا". (وكالة الصحافة الفرنسية، إسطنبول الأحد، 29 أيلول/سبتمبر 2019)

التعليق:

على الرغم من قانون حماية الأسرة ومنع العنف ضد المرأة والذي تم إقراره عام 2012 وعلى الرغم من مصادقة تركيا على اتفاقية إسطنبول لمجلس أوروبا لعام 2011 بشأن منع العنف العائلي، فقد ازداد تعرض النساء للعنف والقتل في تركيا سنة بعد سنة.

ذكرت صحيفة حريات ديلي نيوز في أيار/مايو 2019، أن المحاكم التركية منحت 856،020 أمراً لحماية ضحايا العنف العائلي خلال الـ27 شهراً الماضية، وفقاً لرئيس أول غرفة مدنية لمحاكم العدل الإقليمية في أنقرة.

وقالت زينب أوكزوغلو خلال محاضرة أمام لجنة البرلمان التركي حول تكافؤ الفرص بين المرأة والرجل: "تتعرض حوالي 38 إلى 39 في المائة من النساء للعنف في تركيا في وقت ما خلال حياتهن".

تشكل النساء 82 في المائة من جميع ضحايا العنف المنزلي.

تتاح الإحصاءات بشكل رئيسي من مصادر تابعة لمنظمات غير حكومية لا مصادر حكومية، وتوجه معظم المجموعات النسائية أصابع الاتهام إلى الآراء السلبية للحكومة بشأن دور المرأة في الأسرة والمجتمع وتعد ذلك عاملا مساهما في تصاعد العنف.

تركيا مجتمع تغلب فيه نسبة المسلمين، وهي تصارع في ظل الممارسات الثقافية الممزوجة بالأفكار الإسلامية من جهة والنفوذ الغربي من جهة أخرى. هذا التحدي يمكن أن يؤدي إلى العزلة عن الإسلام وإلى تدمير الحياة الأسرية والعائلية للمتضررين من العنف بالكامل. وقد أدى رد الفعل على العنف ضد المرأة إلى ارتفاع عدد الجماعات النسائية التي تتحدث وتخرج في احتجاجات. وعلى الرغم من أن هذه الجرائم لا بد من القضاء عليها، كما يجب إدانة إخفاق الحكومة في حماية النساء وبشدة، إلا أنه من الخطير تفويت عيوب النظام الحالي.

عندما نرى تصاعد الجرائم ضد النساء، فإننا نملك فرصة لدراسة أسس النظام الحالي ودراسة البدائل الأكثر ملاءمة له والأقدر على حل المشاكل في المجتمع.

ونظراً لكون تركيا بلدا مسلما ولكون من يرتكب هذه الجرائم رجالا مسلمين، فإن علينا أن ننظر في الكيفية التي يمكن للإسلام فيها أن يقدم حلولاً لهذا الأمر وأن يكون واضحاً أيضاً أن الإسلام ليس سبب المشكلة.

يأتي الانسجام بين القوانين والفرد عندما يكون الأفراد واضحين بشأن هدفهم في الحياة أولاً، فهدفهم هو عبادة الله سبحانه وتعالى. هذه العلاقة، حيث التقوى هي الجهة المنظمة لأعمال الأفراد، تكون ذات تأثير أقوى عندما يكون للمجتمع بأسره الأساس نفسه. ومن شأن هذا أن يحدد الأدوار والمسؤوليات لكل من الذكور والإناث بطريقة واضحة، وليس ملوثة بالأفكار أو الثقافة الغربية. يمكن للفرد الذي تحركه التقوى أن ينضبط في تصرفاته دون الحاجة لتهديده بطريقة معينة.

إن الواجب أن يستند التعليم أو التربية والثقافة أيضاً (بما في ذلك نظرتنا إلى جميع الأمور) إلى هدفنا بإنتاج أفراد يربطون أفعالهم بالمساءلة. وعندما يرتكب الفرد معصية، تُستخدم حينها القوانين، لكن الواجب أيضاً أن تستند هذه القوانين والأحكام إلى عقيدة الأمة المستمدة من الشريعة، لأن هذا وحده ما سيوفر العدالة كونه لا يخضع لرغبات الإنسان ونزواته. يجب أن تسن هذه القوانين أيضاً باعتبارها أوامر من الله سبحانه وتعالى وليس خياراً. وبهذه الطريقة، تعمل القوانين على ردع الانتهاكات قبل معاقبة فاعليها.

قبل الإسلام، عانت النساء من نواح كثيرة بسبب الممارسات التي تجذرت بعمق في نفوس الناس حينها، ولكن بعد تطبيق الإسلام كنظام، لا باعتبارها مجموعة من الطقوس كما هو الحال هو كل بلاد المسلمين اليوم، علا شأن المرأة.

كان حال المرأة في الإسلام، عندما طبق باعتباره نظاما، معروفا. لم يكن هذا لتحقيق المساواة للمرأة أو لإضعاف شأن الرجال، ولكن لتحقيق الوئام بين الجنسين. روى ابن عباس رضي الله عنه أن النبي r قال: «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي» (ابن ماجه).

هناك بالتأكيد فشل من جانب الحكومة في حماية المرأة في تركيا، لكن هذا الفشل لا يعني أن سببه تجاهل تطبيق القوانين الحالية، بل يعني الفشل في تطبيق الإسلام كاملا شاملا، في خلافة على منهاج النبوة. عندما نبحث عن حلول، فلنسأل أنفسنا؛ هل أدى الإسلام إلى مثل هذه المستويات العالية من الجرائم ضد المرأة؟ وهل لا تزال الجرائم ضد المرأة موجودة في المجتمعات التي تتبع المعايير الغربية؟

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نادية رحمن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست