فاجعة شاطئ زناتة بضواحي البيضاء... شباب المغرب يفرون من الموت قهرا إلى الموت بحرا ولا بواكي لهم!
فاجعة شاطئ زناتة بضواحي البيضاء... شباب المغرب يفرون من الموت قهرا إلى الموت بحرا ولا بواكي لهم!

الخبر: ما زالت مياه المحيط الأطلسي تلفظ جثث الشباب الذين ماتوا غرقا في عرض البحر في محاولة للعبور إلى أوروبا على متن زورق مطاطي، ويجري الحديث عن 56 شابا كانوا على متن الزورق تم انتشال 22 جثة بشاطئ زناتة منها 16 جثة لشبان من إقليم السراغنة، وحل عدد من أفراد أسر الضحايا بشاطئ النحلة من أجل معرفة مصير أبنائهم. (هسبريس 08 تشرين الأول/أكتوبر 2019)

0:00 0:00
Speed:
October 17, 2019

فاجعة شاطئ زناتة بضواحي البيضاء... شباب المغرب يفرون من الموت قهرا إلى الموت بحرا ولا بواكي لهم!

فاجعة شاطئ زناتة بضواحي البيضاء...
شباب المغرب يفرون من الموت قهرا إلى الموت بحرا ولا بواكي لهم!


الخبر:


ما زالت مياه المحيط الأطلسي تلفظ جثث الشباب الذين ماتوا غرقا في عرض البحر في محاولة للعبور إلى أوروبا على متن زورق مطاطي، ويجري الحديث عن 56 شابا كانوا على متن الزورق تم انتشال 22 جثة بشاطئ زناتة منها 16 جثة لشبان من إقليم السراغنة، وحل عدد من أفراد أسر الضحايا بشاطئ النحلة من أجل معرفة مصير أبنائهم. (هسبريس 08 تشرين الأول/أكتوبر 2019)

التعليق:


ما زالت مآسي قوارب الموت في عرض البحر لأبناء المسلمين تتوالى فصولا، ترجمانا داميا لإجرام أنظمة الخزي والعار التي نصبها الغرب الكافر أصناما بين ظهرانينا، أقفاصه التي سماها دولا وطنية، سجون خرابه فينا جحيم فقر وخراب جهل ومستنقع أمراض وكابوس عيش حتى أضحى الخلاص منها غرقا أو فقدا في عرض البحر.


أسموها قوارب موت والحقيقة المُرة أنها دول الخراب والموت، فالجريمة ليست في القارب المهترئ المتهالك الذي فر الشباب على متنه بل شناعة الجريمة وقبحها في النظام العميل ودولته الوطنية التي فر الشباب من جحيمها ولظى نار فقرها ومرضها وجهلها، فالسفاح القاتل ليس القارب المتهالك ولكنه النظام العميل الذي سلم البلاد والعباد للغرب الكافر المستعمر نهبا وإفقارا وتضليلا وتجهيلا.


شباب ينهشهم الفقر والمرض والجهل وقهر الأنظمة وظلمها، حسب أرقامهم الرسمية. أرقام هيئة الإحصاءات المغربية لسنة 2017 عن البطالة: أنها تطال خاصة الشباب وأن معدلها وصل إلى أكثر من 42% من بين شبان المدن، وأن حملة الشهادات هم الأكثر عرضة للبطالة، كما صرح المندوب السامي للتخطيط أحمد لحليمي لوكالة الأنباء الفرنسية أن بطالة الشباب "أصبحت بنيوية (دائمية) مع تراجع النظام التربوي وضعف نسيج الإنتاج". كما كشف تقرير صادر عن المفوضية السامية للتخطيط أن معدل الفقر بالمغرب ارتفع إلى 45% من ساكنة البلد. ورصد مؤشر الفقر متعدد الأبعاد الأخير 2018-2019 الصادر عن برنامج الأمم المتحدة الإنمائي (مؤشرات الصحة والتعليم ومستوى المعيشة) أن نسبة أهل المغرب الذين يعانون من الحرمان الشديد بلغت 45,7%. (هسبريس تموز/يوليو 2019).


في حين تطالعنا الأنباء أن الأموال المنهوبة والمودعة في بنوك سويسرا وبريطانيا قدر حجمها بما يفوق 41 مليار دولار حتى سنة 2015 حسب ما تم كشفه في وثائق بنما. وكشف تقرير إسباني أصدرته جمعية (أوكثي) أنه منذ منتصف 2017 إلى حدود كانون الثاني/يناير 2019 عرفت الرساميل المهربة من المغرب والمكدسة في البنوك الإسبانية ارتفاعا بمعدل 21% حيث احتلت مدن الجنوب الإسباني الرتبة الأولى في استقطاب رؤوس الأموال المهربة من المغرب.


هذا هو الحال في زمن الرويبضات اللئام في زمن أنظمة الخسة والعمالة، خبرناها أنظمة ضاربة في الفساد موغلة في العمالة فهي تتعامل مع أشد الناس فقرا وعوزا من أبناء هذا البلد كالمجرمين، في حين ترى في الغرب ومصالحه مقدسا تتمسح فيه وفي شعوبها دنسا يجب التطهر منه، يبغون للغرب ما لا يبغون لكم، ثرواتكم في يد الغرب نعمة وعليكم لعنة ونقمة. والذي زاد من قبح إجرامهم تجاهل مآسيكم وفواجعكم فلا بواكي لكم. فلو أن كلبَ سائحٍ أوروبي دهسته سيارة في شارع مزدحم قضاءً لصار الخبر حدثا وبات الحدث نبأ واستدعى بوق العهر السياسي لأنظمة العمالة النائحات والمراثي ونسب الفعل لإرهابي، أما أن يهلك العشرات من شباب هذه الأمة المكلومة بهكذا أنظمة وتنزف أكباد الأمهات دما فجعا فلا بواكي لهم، فخبر مصابكم وفجيعتكم في إعلام العهر السياسي في حكم كان وانتهى.


يا معشر الشباب المقهورين، يا معشر الأهل المحرومين بالمغرب:


هذا حالكم في زمن الرويبضات اللئام؛ سوء رعاية وإهمال وإذلال - حشف وسوء كيلة - يبغون لأنفسهم ما لا يبغون لكم، يتخوضون في أموالكم ترفا وفحش غنى ولكم في دويلاتهم جحيم الفقر وخراب الجهل ومستنقع الأمراض نصيبا وحظا، وسياطهم تلهب ظهوركم ظلما وقهرا.


يا معشر الأهل:


أما آن لكم أن تنفضوا عنكم غبار المهانة وتنزعوا عنكم لباس الذل وتكسروا أغلال القهر؟! ولن يكون ذلك إلا إذا اتخذتم من تحكيم شرع ربكم قضية مصيرية لكم، ولن يكون ذلك إلا بانتزاع سلطانكم المغصوب من هكذا رويبضات، وبيعة إمام راشد على كتاب الله وسنة نبيه e يعمل فيكم بسيرة الخلفاء الراشدين رضي الله عنهم؛ يخشى الواحد منهم الله في بغلة ما عبّد لها الطريق في شط العراق، ويجوع حتى يخشى عليه الموت عام الرمادة برا بقسم أن لا يشبع حتى يشبع أبناء المسلمين، ولن يكون ذلك إلا بالاستقامة على أمر الله والعمل الجاد مع العاملين لإقامة تاج فروض الإسلام العظيم؛ خلافة على منهاج النبوة يقام فيها أمر هذا الدين وتستقيم فيها حياة المسلمين، ويحكم فيها بشرع ربكم فترد لكم حقوقكم وتحمى بيضتكم وتعز أنفسكم ويُهاب جانبكم ويذل عدوكم وتستحقون شرف تكريمكم ﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّهِ﴾. فلنور الله ندعوكم فاستجيبوا وأجيبوا فذاك خلاصكم.


﴿الَر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
مناجي محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست