بوتين يعطي الأمر بمواصلة القمع ضد أعضاء حزب التحرير
بوتين يعطي الأمر بمواصلة القمع ضد أعضاء حزب التحرير

الخبر:   في 10 كانون الأول/ديسمبر 2019، أعلن الرئيس الروسي بوتين أنه لا ينبغي مناقشة الحظر المفروض على حزب التحرير. "بالنسبة لموقفك من تنظيم حزب التحرير المعروف، والذي تعتبره غير ضار. تم إنشاء هذا الحزب في عام 1953 في القدس من أحد زملائك، أحد قضاة المحكمة الشرعية. وفي وثائقه الأساسية القانونية، يعلن بشكل مباشر عن الحاجة إلى تأسيس الخلافة من خلال الاستيلاء على السلطة ونشر أفكاره في مختلف بلدان العالم، والدولة الروسية ليست مستثناة. يعمل هذا الحزب في العديد من البلدان بشكل قانوني. في جميع الدول الأعضاء في منظمة شنغهاي للتعاون، فهو محظور ويعتبر حزباً إرهابيا. كما أنه محظور في العديد من البلدان الإسلامية: في السعودية ومصر وتونس وفي عدد من الدول الأخرى. ...

0:00 0:00
Speed:
December 29, 2019

بوتين يعطي الأمر بمواصلة القمع ضد أعضاء حزب التحرير

بوتين يعطي الأمر بمواصلة القمع ضد أعضاء حزب التحرير

(مترجم)

الخبر:

في 10 كانون الأول/ديسمبر 2019، أعلن الرئيس الروسي بوتين أنه لا ينبغي مناقشة الحظر المفروض على حزب التحرير.

"بالنسبة لموقفك من تنظيم حزب التحرير المعروف، والذي تعتبره غير ضار. تم إنشاء هذا الحزب في عام 1953 في القدس من أحد زملائك، أحد قضاة المحكمة الشرعية. وفي وثائقه الأساسية القانونية، يعلن بشكل مباشر عن الحاجة إلى تأسيس الخلافة من خلال الاستيلاء على السلطة ونشر أفكاره في مختلف بلدان العالم، والدولة الروسية ليست مستثناة. يعمل هذا الحزب في العديد من البلدان بشكل قانوني. في جميع الدول الأعضاء في منظمة شنغهاي للتعاون، فهو محظور ويعتبر حزباً إرهابيا. كما أنه محظور في العديد من البلدان الإسلامية: في السعودية ومصر وتونس وفي عدد من الدول الأخرى.

في كانون الثاني/يناير 2003، تم اتخاذ قرار من محاكم جمهورية ألمانيا الاتحادية، التي اعتبرت بأنه حزب إرهابي. وبعد شهرين، فعلت المحكمة العليا في الاتحاد الروسي الشيء نفسه.

تتلخص أنشطة هذا الحزب على حقيقة أنه يحرم على أفراد طائفته (إذا جاز التعبير) التحول إلى الأديان الأخرى، ويتدخل في الحياة الشخصية والعائلية، وما إلى ذلك. للأسف، كانت هناك عواقب وخيمة بسبب الترويج لأفكاره المتعلقة بحقيقة أنه يحرم، على سبيل المثال، نقل الدم. ومنعوا نقل الدم للأطفال الذين يحتاجون إلى هذا الإجراء لإنقاذ حياتهم.

آخر حادث مأساوي وقع في الاتحاد الروسي في كاباردينو بلقاريا العام الماضي. الطفل قد مات. عندما قُدمت المساعدة لأتباع هذه الطائفة، تمكنت هذه الحركة، إذا جاز التعبير، بالقوة، من إنقاذ الأطفال هناك.

مرة أخرى أريد أن أقول إن هذا القرار اتخذته المحكمة العليا للاتحاد الروسي بتوافق تام مع القانون المعمول به في روسيا، وبالتالي فهو ضروري للتنفيذ"، قال بوتين رداً على طلب أحد المحامين مراجعة اعتبار الحزب إرهابيا، والذي تم التعبير عنه في مجلس حقوق الإنسان الرئاسي.

التعليق:

نذكر أن حزب التحرير اعتبرته روسيا منظمة إرهابية في عام 2003، وسبقه حقيقة أن أعضاء الحزب تعرضوا للقمع الوحشي والتعسفي على يد كريموف في أوزبيكستان ومحاكمه وخدماته الخاصة. تعدى التعذيب والقتل في سجون الطاغية ضد أعضاء حزب التحرير جميع الحدود، ونتيجة لذلك، بدأ العديد من المضطهدين في مغادرة أوزبيكستان متوجهين إلى روسيا. بعد ذلك وافق بوتين وكريموف على تسليم الأوزبيك الهاربين، بحيث يكون من الأسهل والأكثر "شرعية" لترحيلهم، وتم اتخاذ قرار بحظر الحزب في روسيا، لأنه قبل ذلك لم تكن هناك أسباب لاحتجاز وترحيل الأوزبيك إلى أوزبيكستان بناء على طلب جهاز الأمن القومي.

ثم كانت الجلسة المغلقة، أي المحكمة السرية التابعة للمحكمة العليا لروسيا، حيث كان هنالك بالإضافة إلى القاضي الذي اتخذ القرار، كل من مدير عام جهاز الأمن الفيدرالي ووزير الداخلية والمدعي العام وممثلين عن وزارة العدل. وفي الوقت نفسه، تم حظر 14 حزبا وحركة إسلامية أخرى بموجب القرار نفسه. ولم يكن هناك ممثل واحد لهذه الأحزاب، ولم يكن هنالك أي أحد ليقول أي شيء في الدفاع. ولم يتم نشر القرار نفسه إلا في عام 2006، بعد أن أشار نشطاء حقوق الإنسان مراراً وتكراراً إلى عدم شرعية تطبيق القانون أو القرارات التي لم يتم نشرها، أي غير المعروفة للناس. وفي عام 2003، وفقاً لهذا القرار، تم اعتقال العشرات من المسلمين، وتمت محاكمتهم وسجنهم.

بقرار من المحكمة العليا لروسيا بتاريخ 14 شباط/فبراير 2003، اعتُبر حزب التحرير السياسي كمنظمة إرهابية. على الرغم من سخافة هذا القرار وعدم شرعيته، فإنه منذ عام 2003، تعرض أعضاء الحزب للقمع.

وفقاً لهذا القرار الوهمي، أُدين كاسيماخونوف وزوجه دروزدوفا لأول مرة في روسيا. نظراً لأن ضباط الاستخبارات الفيدرالية لم يتمكنوا خلال أنشطتهم من العثور على حجة للمثول أمام المحكمة، فقد وجهت إليهما تهم بموجب المادة 210 من القانون الجنائي للاتحاد الروسي "تنظيم (المشاركة) في أنشطة منظمة إجرامية". لم تفهم المحكمة السؤال: ما هي جريمة هذه المنظمة وتحديداً المتهمين؟ ما الجرائم التي ارتكبتها هذه المنظمة وهؤلاء المتهمون، حتى لو كانت هذه المنظمة مجرمة؟ إذا بدأت المحكمة بالتحقيق، فستضطر إلى تبرئة المتهم والمنظمة نفسها. لذلك قال القاضي مباشرة قولاً شبيهاً لهذا: "لا يوجد أمر بالمثول أمام المحكمة، لكن وفقاً لقرار المحكمة العليا لروسيا، تُعدّ هذه المنظمة أنها "إرهابية"، لا يمكنني فعل أي شيء حيال ذلك". ونتيجة لذلك، حكم على كاسيماخونوف بالسجن 8 سنوات، وزوجه بالسجن 4.5 سنوات.

منذ ذلك الحين، اعتقل الآلاف من الناس، فقط في الوقت الراهن يوجد في روسيا أكثر من 300 شخص في السجن بتهمة الارتباط بحزب التحرير.

يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شيخ الدين عبد الله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست