باباجان ينطلق من مبادئ حزب العدالة والتنمية القديمة
باباجان ينطلق من مبادئ حزب العدالة والتنمية القديمة

الخبر: ظهر علي باباجان في بث مباشر على شاشة التلفزيون لأول مرة بعد استقالته من حزب العدالة والتنمية الذي يعتبر أحد مؤسسيه. وقال باباجان، الذي كان ضيفاً على برنامج تيكي تيك الذي يبث على تلفزيون خبر ترك إنه يعتزم تشكيل الكيان القانوني للحزب الجديد في نهاية عام 2019. وأشار باباجان إلى أن "الاقتصاد، وحقوق الإنسان، وانتهاكات حرية التعبير، والقانون، والديمقراطية،

0:00 0:00
Speed:
December 04, 2019

باباجان ينطلق من مبادئ حزب العدالة والتنمية القديمة

باباجان ينطلق من مبادئ حزب العدالة والتنمية القديمة
(مترجم)


الخبر:


ظهر علي باباجان في بث مباشر على شاشة التلفزيون لأول مرة بعد استقالته من حزب العدالة والتنمية الذي يعتبر أحد مؤسسيه. وقال باباجان، الذي كان ضيفاً على برنامج تيكي تيك الذي يبث على تلفزيون خبر ترك إنه يعتزم تشكيل الكيان القانوني للحزب الجديد في نهاية عام 2019. وأشار باباجان إلى أن "الاقتصاد، وحقوق الإنسان، وانتهاكات حرية التعبير، والقانون، والديمقراطية، والديمقراطية داخل الأحزاب" مسائل أساسية يجب حلها. وصرح باباجان بأنه استقال من حزب العدالة والتنمية بسبب هذه المبادئ والقيم. (صحيفة سوزجو التركية)

التعليق:


عندما نلقي نظرة على القضايا التي أدرجها في قائمة المشكلات التي يجب حلها؛ الاقتصاد، وحقوق الإنسان، وانتهاكات حرية التعبير، والقانون، والديمقراطية، نرى أن علي باباجان، الذي استقال من حزب العدالة والتنمية وبدأ بتشكيل حزب جديد، يكرر المبادئ التي تأسس عليها حزب العدالة والتنمية. ويكرر باباجان اليوم مبادئ أردوغان الذي استقال من حزب أربكان وأسس حزب العدالة والتنمية في عام 2001.


والسؤال ألم يشكلا معا حزب العدالة والتنمية في ذلك اليوم؟ نظراً إلى أن أربكان كان نوعا ما إسلامياً أو محافظاً في ذلك الوقت مقارنة بأردوغان، يبدو أن أردوغان اليوم أكثر إسلامية من باباجان إلى تلك الدرجة. ويبدو أن باباجان أصبح اليوم ديمقراطيا وليبراليا وعلمانيا مقارنة بأردوغان، إلى الحد الذي بدا فيه أردوغان ديمقراطياً وليبرالياً وتحررياً مقارنة بأربكان. ومع ذلك، كل هذه الصفات ليست ذات أهمية بالنسبة لسياسيي اليوم، كما لم تكن بالأمس.


إذا كانت أمريكا والمنظمات الأمريكية؛ وسائل الإعلام التركية والإعلام العالمي، والمنظمات اليهودية في أمريكا، ومؤسسات الفكر والرأي في نيويورك وواشنطن، قد دعمت أردوغان وحزب العدالة والتنمية، فإن تلك الدعاية لحقوق الإنسان والحريات التي أعلنها أردوغان في عام 2001 ستكون بلا قيمة. ولو لم تدعم أمريكا أردوغان بالمال الكافي في المنطقة، فإن أيا من الوعود الاقتصادية لحزب العدالة والتنمية في تركيا لم يكن ليتحقق ولما تغلب على الأزمة المالية عام 2001. ولو لم تدعم أمريكا حزب العدالة والتنمية بموظفي جماعة غولن البيروقراطية، والمنظمات غير الحكومية والدعم الإعلامي، لما أمكنهم تصفية النفوذ السياسي الإنجليزي في تركيا. على الرغم من حقيقة أنهم كانوا خناجر مسلولة في وجه بعضهم بعضا، ورغم محاولة رجال غولن الإطاحة بأردوغان والحكومة من خلال محاولة انقلاب 15 تموز/يوليو، إلا أنهما (حزب العدالة والتنمية، وجماعة غولن) كانا يعملان معاً قبل عام 2013. وعلى الرغم من وجود اختلافات في الأداء، إلا أن هدفهما كان تصفية السياسة الإنجليزية وجعل السيادة للسياسة الأمريكية. وبعبارة أخرى، فإن جميع المبادئ التي تم طرحها عندما تم تأسيس حزب العدالة والتنمية - حقوق الإنسان وحرية التعبير والقانون والعدالة - كانت دائما لصالح المشاريع الأمريكية في تركيا.


إذن لماذا تخلى أردوغان عن هذه القيم والمبادئ الغربية، أو لماذا بدأ باباجان اليوم بإطلاق مبادئ حزب العدالة والتنمية التي عفا عليها الزمن؟ بالأمس، كان هذا هو الطريق بالنسبة لحزب العدالة والتنمية وأردوغان، لكن اليوم هناك طريق آخر. المواضيع التي تفوه بها علي باباجان والتي يجب حلها (الاقتصاد، وحقوق الإنسان، وانتهاكات حرية التعبير، والقانون، والديمقراطية، والديمقراطية داخل الأحزاب) هي مواضيع لم يعد أردوغان بحاجة إليها بعد الآن. لقد دافع عن القيم الأوروبية إلى أن وصل إلى السلطة، ولكنه عندما وصل إلى السلطة، ألقى بها وراءه. هذه المبادئ التي تخلى عنها حزب العدالة والتنمية وأردوغان هي مطلوبة مرة أخرى من جانب علي باباجان. وعلى أي حال، ما هي المبادئ الأخرى التي يمكن أن تقدمها العقول الغربية لهذا المجتمع؟ بالطبع ليست هي المبادئ الإسلامية وإنما المبادئ الغربية.


وعندما نسأل أين سيوضع الحزب الجديد الذي سيشكله علي باباجان في السياسة التركية، فإننا سنرى التالي: بالتأكيد إن البيئة التي سيخاطب فيها حزب علي باباجان الجماهير، والجمهور الذي سيطلب دعمه، هي في الواقع القاعدة الشعبية لحزب العدالة والتنمية المتلاشية. في الواقع حتى هذا يكفي لإظهار الجانب السياسي للحزب الذي سيشكله باباجان.


الحركة السياسية الجديدة التي سيقودها علي باباجان وعبد الله غول، ستكون في الكتلة السياسية الأمريكية في تركيا. وبهذه الطريقة، فإن جماهير الناخبين الذين لم يفلح أردوغان وحزب العدالة والتنمية - اللذان تتراجع شعبيتهما ويضعفان تدريجياً - في التأثير عليهم سيتجمعون هنا. إن تصريح باباجان بتفضيل السياسة الجماعية بدلاً من سياسة الرجل الواحد، سوف يجذب انتباه العلمانيين والليبراليين والديمقراطيين داخل تحالف الأمة. بعبارة أخرى، لا يطمح باباجان فقط للناخبين الذين انفصلوا عن تحالف الشعب، بل يطمح أيضاً للجماهير التي ستنفصل عن تحالف الأمة. وبهذه الطريقة، تهدف أمريكا إلى مواصلة سياساتها التي شكلتها وطبقتها على تركيا مع أردوغان وحزب العدالة والتنمية في السنوات الـ 15 الماضية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمود كار
رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست