أزمة كشمير هي قضية الإسلام، ويجب على البلاد الإسلامية الوقوف إلى جانبها
أزمة كشمير هي قضية الإسلام، ويجب على البلاد الإسلامية الوقوف إلى جانبها

اختارت الحكومة الإندونيسية أن تظل محايدة تجاه أزمة كشمير التي تضم الهند وباكستان، بعد أن أقنعت باكستان إندونيسيا بالمساعدة في الضغط على الهند في مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة لإلغاء وضع امتيازات كشمير. كتب تيوكو فاتيزاسياه المتحدث باسم وزارة الخارجية على موقع سي إن إن إندونيسيا عبر رسالة واتس أب يوم الأربعاء (2019/08/14): "تواصل كل من الهند وباكستان وإندونيسيا التشجيع على طرح مسألة القرار أولاً من خلال الحوار الثنائي". هذا الموقف من إندونيسيا ليس جديداً لأن السفير الباكستاني في إندونيسيا في العام الماضي - عبّر مرة عن انتقاده لصمت إندونيسيا بشأن أزمة كشمير كما ورد في تقرير الأناضول في نيسان/أبريل 2018.

0:00 0:00
Speed:
August 23, 2019

أزمة كشمير هي قضية الإسلام، ويجب على البلاد الإسلامية الوقوف إلى جانبها

أزمة كشمير هي قضية الإسلام، ويجب على البلاد الإسلامية الوقوف إلى جانبها

الخبر:

اختارت الحكومة الإندونيسية أن تظل محايدة تجاه أزمة كشمير التي تضم الهند وباكستان، بعد أن أقنعت باكستان إندونيسيا بالمساعدة في الضغط على الهند في مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة لإلغاء وضع امتيازات كشمير. كتب تيوكو فاتيزاسياه المتحدث باسم وزارة الخارجية على موقع سي إن إن إندونيسيا عبر رسالة واتس أب يوم الأربعاء (2019/08/14): "تواصل كل من الهند وباكستان وإندونيسيا التشجيع على طرح مسألة القرار أولاً من خلال الحوار الثنائي". هذا الموقف من إندونيسيا ليس جديداً لأن السفير الباكستاني في إندونيسيا في العام الماضي - عبّر مرة عن انتقاده لصمت إندونيسيا بشأن أزمة كشمير كما ورد في تقرير الأناضول في نيسان/أبريل 2018.

التعليق:

إن كشمير ليست قضية قومية لباكستان أو كشمير، ولكنها مجرد هيمنة اقتصادية أو جيوسياسية من النظام الهندوسي الهندي، بل هي قضية إسلامية. يجب عدم التخلي عن هذه الرابطة الإسلامية تحت أي ذريعة. هذا لأن الإسلام عقيدة شاملة لكل من الشؤون الروحية والسياسية. الإسلام لا يفصل بين الشؤون الاقتصادية والجيوسياسية أو الحكم وبين العقيدة الإسلامية، أي التوحيد. إن شؤون الثروة والأرض والدم والشرف لمسلمي كشمير هي شأن إسلامي!

صوتت العديد من البلاد الإسلامية، بما فيها إندونيسيا، على حيادها بشأن قضية كشمير، على الرغم من موقعها كأكبر بلد إسلامي وعضو غير دائم في مجلس الأمن الدولي. لقد أثبت هذا شيئين اثنين؛ أولاً، إن النظام العالمي العلماني الليبرالي اليوم لا يسمح لبلد إسلامي بإظهار انحيازه لإخوانهم الحقيقيين، بل إنهم تسمموا بالعلمانية التي يلفها شعار السلام العالمي بأن الدين هو مصدر الصراع. ثانياً، هذا دليل على أن المحاولات التي بعدد الألف ومائة مرة التي قامت بها الأمم المتحدة قد فشلت في حل مشاكل البلاد الإسلامية مثل الروهينجا أو سوريا أو فلسطين أو الإيغور. يجب أن يعرف حكام المسلمين اليوم عصر التحالفات، مثل نمل إبراهيم، على الرغم من أن أجسادها صغيرة إلا أن شجاعتها كبيرة لأن التحالفات واضحة وثابتة على الحقيقة.

قضية مهمة أخرى هي تاريخ كشمير. حيث كشمير بلد مسلم، فتحه المسلمون في نهاية القرن الهجري الأول. جاء ذلك ضمن فتوحات السند والهند على يد القائد المسلم محمد بن القاسم، الذي بدأ عام 94هـ-712م. ثم انتشر نظام الإسلام في شبه القارة الآسيوية في عهد الخليفة العباسي المعتصم 218-225هـ، 833-839م. واستمر تطبيق حكم الإسلام في معظم شبه القارة الآسيوية، والمعروفة اليوم باسم الهند وباكستان وكشمير وبنغلادش على مدى القرون القادمة تحت سلطة الخلفاء المتعاقبين. ثم سقطت كشمير في أيدي المستعمرين البريطانيين في أوائل القرن التاسع عشر. يشمل الحكم البريطاني في شبه القارة الآسيوية أكثر من 55٪ من شبه القارة الآسيوية ذات الأغلبية المسلمة، في حين تم استئجار كشمير إلى ملك هندوسي لمدة 100 عام. هذه هي بداية الطغيان في كشمير التي نجت لأكثر من 15 عاماً من الجرائم البشعة التي ارتكبت ضد المسلمين لتعزيز سلطتهم في كشمير. كشمير وفلسطين لديهما أنماط تاريخية مماثلة. كلاهما مشروع بريطاني يسمح فيه بالاستيلاء على الصلاحيات من المسلمين عندما منحت فلسطين ليهود ومنحت كشمير للهندوس.

في الوقت الحاضر، تهيمن القوى المستعمرة الجديدة على شؤون المجتمع الدولي، أي الدول الرأسمالية من الغرب والشرق التي تواصل تقوية قبضتها بشكل مستمر وتخلق صراعا في أنحاء مختلفة من العالم، وخاصة البلاد الإسلامية. والأمة النبيلة هم الضحايا الذين لا حول لهم ولا قوة من وحوش الكفار الذين سمح لهم النظام العالمي عدو المسلمين بالوجود.

من الواضح أن المسلمين الكشميريين تجاهلهم حكام المسلمين - العلمانيون عبيد الرأسمالية، الذين لا هم لهم سوى مصالحهم الشخصية، بدلاً من الدفاع عن دماء وشرف إخوانهم في العقيدة، فهم أكثر ولاءً للأمم المتحدة الفاشلة، بدلاً من أحكام الإسلام. طالما ظل النظام العالمي كما هو اليوم، فإن محنة النساء المسلمات في جميع أنحاء البلاد الإسلامية بلا شك لن تنتهي أبداً، لأن المشكلة الأساسية لكل هذه المعاناة ليست سوى غياب الخلافة كدرع للأمة - الدولة التي من شأنها القضاء على هيمنة الكفار على المسلمين وحماية شرف المسلمين في جميع أنحاء العالم. تذكروا حديث النبي صلى الله عليه وسلم: «إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» (مسلم)

علاوة على ذلك، يحظر على المسلمين التخلي عن تطبيق الإسلام على أرض خضعت لسلطة الإسلام. هذا ليس من منظور الشرف الإسلامي، بل الحاجة إلى تطبيق حكم الله سبحانه وتعالى؛ وهذا هو، تنفيذ الشريعة. وبالتالي، لا يجوز للمسلمين التخلي عن النضال.

قال الله تعالى: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْماً لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست