أيها الحكام! هل وصلتكم أخبار الفيروس في الصين أما نحيب إخواننا فلا؟
أيها الحكام! هل وصلتكم أخبار الفيروس في الصين أما نحيب إخواننا فلا؟

الخبر: دعا وزير الصحة التركي، فريتتين كوكا، العالم بأسره إلى إظهار تضامنه مع الصين فيما يتعلق بتفشي فيروس كورونا الجديد، "دون انتظار دعوة أو طلب مساعدة". (وكالات الأنباء)

0:00 0:00
Speed:
February 13, 2020

أيها الحكام! هل وصلتكم أخبار الفيروس في الصين أما نحيب إخواننا فلا؟

أيها الحكام! هل وصلتكم أخبار الفيروس في الصين أما نحيب إخواننا فلا؟
(مترجم)


الخبر:


دعا وزير الصحة التركي، فريتتين كوكا، العالم بأسره إلى إظهار تضامنه مع الصين فيما يتعلق بتفشي فيروس كورونا الجديد، "دون انتظار دعوة أو طلب مساعدة". (وكالات الأنباء)

التعليق:


أحد الموضوعات الرئيسية، التي لا تزال على جدول الأعمال، هو بلا شك فيروس كورونا الذي انتشر أولاً في مدينة ووهان الصينية ثم انتقل إلى مدن أخرى. تعدى إجمالي عدد القتلى الـ1000 شخص. إن تعبير وزير الصحة بشأن الموضوع، الذي يتضمن أنه من المُلحّ مساعدة الصين، التي تعد واحدة من أكثر دول العالم دموية، يصعب هضمه.


هل تعرفون متى يطلب الوزير مساعدة للصين؟ هل أنتم على علم بالوقت الذي يدعو فيه الوزير للتضامن من أجل الكفار في الصين؟


إن هذا يأتي في الوقت الذي يقبع فيه الملايين من إخوتنا مسلمي الإيغور في السجون بمرارة تحت اضطهاد كفار الصين.


وفي الوقت الذي تحتجز فيه الصين المحتلة حوالي مليون مسلم في معسكرات الاعتقال لتحويلهم عن الإسلام.


وفي الوقت الذي تقفز فيه أخواتنا من المباني لحماية عفتهن.


وفي الوقت الذي وضعت فيه الحكومة الصينية الوثنية رجلاً صينياً في بيت كل مسلم، متجاهلةً خصوصية المسلمين.


وفي الوقت الذي تقود فيه الحكومة الصينية الكافرة حملة واسعة لتنفير الشباب المسلم في تركستان الشرقية من الإسلام ولغرس الإلحاد في أذهانهم.


وفي الوقت الذي منعت فيه الحكومة الصينية المسلمين من الصيام ومن إعفاء اللحى ومنعت النساء من ارتداء الحجاب والشباب المسلمين من دخول المساجد.


وفي الوقت الذي تخلى فيه العالم عن إخواننا في تركستان الشرقية وتركهم بين خياري الموت نتيجة التعذيب المنهجي أو الهجرة.


إن ذلك كله في الوقت الذي ينتظر فيه إخواننا قائداً يحررهم من دوامة هذا الطغيان...


إذن نعم في حين إن كل هذا وأكثر هو العلاج الذي تعتبره الصين المحتلة الكافرة مناسباً للمسلمين، فإن وزير الصحة في جمهورية تركيا يدعو إلى تقديم المساعدة للدولة القاتلة. ألم تخش الله عند نطقك بهذه الكلمات؟ وصلتك أخبار الفيروس في الصين، لكن أخبار إخواننا، الذين يبكون تحت التعذيب من الصين الكافرة، لم تصل إليك؟! وصلتك الأخبار المتعلقة بهلاك قليل من الصينيين بسبب الفيروس، لكن لم تصلك أخبار ملايين المسلمين الذين تعرضوا للتعذيب في معسكرات السجون؟!


في حين إن نبينا eقال: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ» تتنافسون من أجل مساعدة الكفار، فيما تتخلون عن إخوانكم. إن هذا حقا عند الله خِطآَ كبير. أتعلمون هذا؟


أيعقل أن تكونوا غير مدركين لصرخات إخوانكم في تركستان الشرقية؟ ألم تخترق صرخات أخواتنا ونحيبهن، اللائي انتهكت عفتهن، جدران قصوركم؟ بالله عليكم! أحقا لم تسمعوا بالقسوة التي يواجهها إخواننا وأخواتنا؟ أو ربما فعلتم، لكن قلوبكم أصبحت كالحجارة؟ أم أنكم كنتم تبحثون عن مكاسب سياسية كالمعتاد؟ بل ربما ستستمرون في الإصرار على التضحية بإخوانكم وأخواتكم لأجل السياسة؟ هل ستتجاهلون حسابكم أمام ربكم من أجل حساب الائتمان من الصين؟


من الواضح أن اتفاقيتكم التجارية مع الصين الكافرة تمنعكم من رؤية الحقيقة وسماع صرخات إخوانكم وأخواتكم ومن قول ما هو واجب. اعلموا أنه سيأتي يوم لن تنفعكم فيه البضائع والثروة. إن مسؤوليتكم، مع ذلك، هي أن تلملموا جراح إخوانكم المسلمين، لا الصين المحاربة فعلا للمسلمين. إن مسلمي تركستان الشرقية إخوانكم وأخواتكم في الدين... وإن الواجب عليكم حماية وإنقاذ مسلمي الإيغور من طغيان النظام الصيني الملحد. فشرط عبوديتكم لربكم، أن تحبوا ما أمر به، وأن تبغضوا ما نهى الله عنه.


إن الواجب القيام بما هو ضروري بالنسبة لأولئك الذين صدقوا عهدهم مع الله، وأن نظهر الود والرحمة لهم، في الوقت الذي نظهر فيه الكراهية والعداوة والبعد عن أعداء الله، وأولئك الذين ينتهكون حرمات الله وحدوده. ولأن هذا ما يطلبه الإسلام منا، فإن موالاة الحكام الحاليين لأعداء الله وصدهم عن الذين صدقوا مع الله، مخالف لأمر الله. للأسف، فإن أولئك الذين يحكموننا، يسارعون حرفياً لإرضاء الكفار. ومع ذلك، فإنه ينبغي أن يكون معلوماً أن أولئك الذين نالوا رضا وود وتمجيد الكفار، لن يرضوا الله تعالى.


إننا نعلم جيداً أن هؤلاء الحكام، الذين كانوا مقيدين بسلاسل الكفار كالعبيد، والذين يصافحون أيديهم، لن يكونوا قادرين على الاستجابة لصرخات المسلمين. إن الخلفاء وحدهم من يرون أن حياة ودماء المسلمين عزيزة كحياتهم ودمهم، وهم الذين سيستجيبون لصرخات المسلمين الذين يطلبون الغوث. ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ ٱلْمُؤْمِنُونَ﴾ [الروم: 4]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
عبد الله إمام أوغلو

#كورونا

#Corona

#Covid19

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست