عشرات المستوطنين يستبيحون المسجد الأقصى في الوقت الذي يزور كيان يهود وفد إعلامي عربي
عشرات المستوطنين يستبيحون المسجد الأقصى في الوقت الذي يزور كيان يهود وفد إعلامي عربي

القدس - معا - استباح عشرات المستوطنين، اليوم الأحد، المسجد الأقصى المبارك، في ذكرى ما يسمى "خراب أسوار القدس". وعلمت وكالة معا أن 104 مستوطنا اقتحموا المسجد الأقصى، عبر باب المغاربة، على شكل مجموعات متتالية، بحراسة مشددة من شرطة الاحتلال التي انتشرت في ساحات الأقصى وأخرى رافقتهم بجولتهم.

0:00 0:00
Speed:
July 23, 2019

عشرات المستوطنين يستبيحون المسجد الأقصى في الوقت الذي يزور كيان يهود وفد إعلامي عربي

عشرات المستوطنين يستبيحون المسجد الأقصى

في الوقت الذي يزور كيان يهود وفد إعلامي عربي

الخبر:

القدس - معا - استباح عشرات المستوطنين، اليوم الأحد، المسجد الأقصى المبارك، في ذكرى ما يسمى "خراب أسوار القدس".

وعلمت وكالة معا أن 104 مستوطنا اقتحموا المسجد الأقصى، عبر باب المغاربة، على شكل مجموعات متتالية، بحراسة مشددة من شرطة الاحتلال التي انتشرت في ساحات الأقصى وأخرى رافقتهم بجولتهم.

وعلمت الوكالة من شهود عيان، أن من بين المقتحمين المتطرف "يهودا غليك"، وأفاد شهود عيان أن معظم المقتحمين أدوا طقوسا دينية خاصة في ساحات الأقصى، كما تلقوا دروسا من الحاخامات حول ما يسمونه "الهيكل المزعوم"، علما أن المستوطنين تجولوا حفاة الأقدام داخل الأقصى بحجة "عدم تدنيس ساحات الهيكل المزعوم" وفق اعتقادهم.

ودعت جماعات الهيكل المزعوم لتنظيم اقتحامات جماعية لهذا اليوم، في ذكرى ما يسمى "خراب أسوار القدس" ويسبق ذلك ذكرى ما يسمى "خراب الهيكل المزعوم" شهر آب القادم.

وفد إعلامي عربي إلى تل أبيب من هذه الدول..

أعلنت وزارة الخارجية في كيان يهود، الأحد، أن وفدا إعلاميا من دول عربية وخليجية، سيصل إلى تل أبيب بدعوة منها.

 وأشار مراسل هيئة البث "مكان"، شمعون آران، وصول وفد إعلامي من دول عربية مكون من ستة أشخاص، إلى تل أبيب الأسبوع الجاري.

 ورحب الناطق باسم وزارة الخارجية في كيان يهود، نزار عامر، بالوفد، مشيرا إلى أن الزيارة "خطوة مهمة لبناء جسر السلام، وتعزيز التفاهم بين الشعوب".

التعليق:

يدنس الأقصى على مرأى ومسمع من المسلمين وكأن شيئا لم يحصل، في الوقت نفسه الذي يزور وفد إعلامي عربي كيان يهود. الغريب في هذه الزيارة أنه وفد إعلامي أي ليس عسكريا أو اقتصاديا لكي نقول إنهم لا يتابعون الأخبار والأحداث، وإن من سمات هذا الوفد أنه إعلامي أي أنهم سمعوا وشاهدوا كيف يدنس المسجد الأقصى وتقتحمه حفنة من يهود وهم يتسامرون معهم...

أي عار وأي خزي هذا؟! يزورون يهود ويهود يذلونهم ويحتقرونهم ويدنسون مقدساتهم!!

في عهد هؤلاء الأنذال الصديق أصبح عدوا والعدو أصبح صديقا، وعلى عهد هؤلاء الخونة صار المسلم (إرهابياً) يسجن ويهان واليهودي يعزز ويكرم!! يهود يصولون ويجولون في بلاد المسلمين، والمسلمون محرومون من زيارة البيت الحرام، ولنا وقفة مع وصية خليفة المسلمين كي نأخذ العبر منها:

هذه الرقعة دونها الأمير نور الدين زنكي عام 551 هجرية (أنا المنتصر بالله المجاهد في سبيله الأمير نور الدين زنكي طلبت كتابة هذه الحادثة ليقرأها من له علم بالقرآن والتوراة والإنجيل وعلم الفلك، في شهر صفر من عام 551 هجري كنا نجاهد الإفرنج في أنطاكيا وقد حاصرنا حصنا اسمه حارم وأثناء حصارنا نظرت فرأيت بيتاً من عيدان الشجر فقلت: لمن هذا البيت؟ فقالوا إنه لكاهن يهودي. فقلت: أحضروه بين يدي، فلما أحضروه لاطفته بالكلام فعرفت أنه تجاوز المائة عام من عمره فسألته: ما علمك؟ فقال: الكثير، فقلت: عن أمتي وأمتك، فقال: أتصدقني لو قلت يأتي زمان نقبض أربع أركان الأرض فيه؟ فقلت: ألا لعنة الله عليك، كيف؟ فقال: أتصدقني لو قلت لك سوف نعلو عليكم ونقتل صغاركم ورجالكم ونتوج عليكم ملوككم؟ فقلت: إنك لكاذب. قال: أتصدقني لو قلت لك في ذاك الزمان نطعم ونسقي نجوع ونميت وبإشارة من إبهامنا ندك المدن وأعظم الملوك يركع لنا؟ فقلت: إنك لشيطان، ومن يدمركم وكيف تنتهون؟ فقال: لا نخشى إلا من ملك بابل فإنه طاغية جبار عنيد ينقلب علينا بعد أن توجناه، فقلت: أكمل حديثك، فقال: نجمع عليه أهل الأرض مرتين وجنودا لا طاقة له بها، ويأتي طير من السماء يلقي ما في بطنه فيظن الناس وجنده وأهله أنه انتهى فيمرح أعداؤه ويبتهجون ولكن لا تكتمل البهجة، ويظهر بعد أيام معدودة كأنه عفريت من الجن، فيتبعه رجال ظلمة لا رحمة في قلوبهم فيكون سببا في قتل بشر لا يحصون وتكون نهايتنا على يديه ويقتل منا ما لا يتخيله بشر ويموت بالحمى في وادي السيسبان، فقلت: والله إنك لكاذب، فقال: والله يا مولاي لو قرأت كتابكم وحديث رسولكم بحفظ وعلم لوجدتني صادقاً). هذه المخطوطة وغيرها موجودة في المتحف الإسلامي في تركيا.

وقبل الختام نقول لهؤلاء الذين زاروا كيان يهود ودُنس الأقصى بحضرتهم: أفيقوا من غفلتكم فيوم الباطل قصير ويوم الحق لا مثيل له، وبما أنكم وفد إعلامي فمن الممكن أن تقع هذه الكلمات بين أيديكم وتتوبوا إلى الله وتأخذوا بنصيحة نور الدين زنكي.

ختاما إن الذي أوصلنا إلى هذا الحال هو التصاقنا بالأرض وتعلقنا بهذه الحياة، فلا بد لأمة الإسلام أن ترفع رأسها إلى السماء وتعمل وتضحي من أجل إعادة سلطان الإسلام الذي فتح أنطاكيا وسمع مقالة الكاهن اليهودي ونصح أمة الإسلام من بعده كي يقرؤوها ويتعظوا بها لا أن يقع غضب الله عليهم في الدنيا والآخرة، والله تعالى يقول: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ [إبراهيم: 42]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد سليم – الأرض المباركة (فلسطين)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست