انقلاب مالي: جشع الرأسمالية مستمر ومآسٍ جديدة
انقلاب مالي: جشع الرأسمالية مستمر ومآسٍ جديدة

الخبر:   الثلاثاء 18 آب/أغسطس 2020 بدأت العناصر الرئيسية في الجيش المالي تمردها باقتحام قاعدة ساونياتا العسكرية في بلدة كاتي حيث تم تبادل إطلاق النار قبل توزيع الأسلحة من مستودع الأسلحة وتم القبض على كبار الضباط، فقد اعتقلت قوات الجيش العديد من المسؤولين الحكوميين، بمن فيهم الرئيس إبراهيم بوبكر كيتا (75 عاماً) الذي استقال وحل الحكومة. ويأتي هذا الانقلاب بعد أسابيع من الاحتجاجات المزعزعة للاستقرار بسبب الانتخابات المتنازع عليها، والفساد الحكومي وانعدام الأمن الذي استمر لمدة ثماني سنوات.

0:00 0:00
Speed:
September 05, 2020

انقلاب مالي: جشع الرأسمالية مستمر ومآسٍ جديدة

انقلاب مالي: جشع الرأسمالية مستمر ومآسٍ جديدة

(مترجم)

الخبر:

الثلاثاء 18 آب/أغسطس 2020 بدأت العناصر الرئيسية في الجيش المالي تمردها باقتحام قاعدة ساونياتا العسكرية في بلدة كاتي حيث تم تبادل إطلاق النار قبل توزيع الأسلحة من مستودع الأسلحة وتم القبض على كبار الضباط، فقد اعتقلت قوات الجيش العديد من المسؤولين الحكوميين، بمن فيهم الرئيس إبراهيم بوبكر كيتا (75 عاماً) الذي استقال وحل الحكومة. ويأتي هذا الانقلاب بعد أسابيع من الاحتجاجات المزعزعة للاستقرار بسبب الانتخابات المتنازع عليها، والفساد الحكومي وانعدام الأمن الذي استمر لمدة ثماني سنوات.

التعليق:

يعد هذا الانقلاب هو الثاني في البلاد في أقل من 10 سنوات، تابعا لانقلاب عام 2012 الذي أطاح فيه الجنود بحكومة أمادو توماني توري، حيث شكلوا اللجنة الوطنية لاستعادة الديمقراطية. وقد قطعت أمريكا المساعدات العسكرية إلى مالي في 21 آب/أغسطس، ردا على الانقلاب. فقد تم الانقلاب على الرغم من إدانته الإقليمية والعالمية واسعة النطاق، وقد احتفل به الماليون في العاصمة باماكو. وأدانت المجموعة الاقتصادية لدول غرب أفريقيا (إيكواس) محاولة الانقلاب في مالي وتحركت لتعطيل البلاد من هيئة صنع القرار. وقالت الهيئة الإقليمية إن الدول المجاورة للدولة التي تقع في غرب أفريقيا أغلقت حدودها وستفرض عقوبات مع استمرار الأزمة. وعلى الصعيد العالمي، أدان الرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون الانقلاب ودعا إلى إعادة السلطة إلى المدنيين وإطلاق سراح القادة المعتقلين. كما أصدرت وزارة الخارجية الأمريكية بيانا صحفيا في 19 آب/أغسطس 2020 أدانت فيه بشدة التمرد في مالي وقالت "... وتدعو أمريكا جميع الأطراف السياسية والعسكرية إلى العمل من أجل استعادة الحكومة الدستورية، ونحث جميع أصحاب المصلحة في مالي للانخراط في حوار سلمي، واحترام حقوق الماليين بما فيها حرية التعبير، التجمع والسلمي، ورفض العنف".

ومثل الانقلاب الآخر الذي وقع قبل ثماني سنوات، حيث أيدته أمريكا، من المرجح أن يكون الانقلاب الأخير قد حظي أيضاً بمباركتها، وبالتالي فإن إدانتها ليست مقنعة. ومن الجدير بالذكر أن قائد الانقلاب المالي العقيد أسيمي غويتا قد تلقى تدريباً من أمريكا وعمل لسنوات مع قوات العمليات الأمريكية الخاصة لمحاربة المسلحين الإسلاميين في غرب أفريقيا. إن حقيقة أن انقلاب عام 2012 تم تنفيذه من ضباط صغار ضد كبار مرؤوسيهم، وتفكك الأمن في مالي والاستيلاء على شمالها بأكمله من الطوارق وبعض الجماعات الإسلامية في المنطقة، وهكذا فقد نجحت فرنسا في ذلك الوقت من خلال جلب عميلها إبراهيم بوبكر كيتا إلى السلطة. ولهذا السبب أدانت فرنسا وحلفاؤها الأوروبيون إلى جانب هيئاتهم الإقليمية مثل المجموعة الاقتصادية لدول غرب أفريقيا الانقلاب بشدة. ومن الواضح أن أمريكا تتصارع مع فرنسا في مالي كمحاولة لتغيير الوضع الراهن فيها.

وهكذا أمست مالي الإسلامية عالقة في شباك المنافسة ما بين قديما "فرنسا المستعمر الأوروبي" وحديثا "أمريكا الاستعمارية". وعلاوة على ذلك، يقوم الاتحاد الأوروبي منذ عام 2013 بإعادة تدريب الجيش المالي، في حين إن القوة الفرنسية لمكافحة الإرهاب، عملية برخان، منتشرة في جميع أنحاء الساحل مدعومة بطائرات هليكوبتر بريطانية وحلفاء أوروبيين آخرين، فضلاً عن طائرات استطلاع أمريكية بدون طيار. وقد أنشئت بعثة الأمم المتحدة المتكاملة المتعددة الأبعاد لتحقيق الاستقرار في مالي (مينوسما) التي أنشئت بموجب قرار مجلس الأمن 2100 في 25 نيسان/أبريل 2013 كمكان للتدخل في الشؤون السياسية لمالي والسعي إلى تحقيق أجندة استعمارية تحت ذريعة الاضطلاع بعدد من "المهام المتصلة بالأمن". ومن الجدير بالذكر أن التدخلات الفرنسية والأمريكية قد جرت في جميع أنحاء أفريقيا حيث كانت مصالح كل منهما كبيرة.

على الرغم من غنى مالي بالثروة المعدنية كالذهب، الفوسفات، البوكسيت، الحديد، اليورانيوم وعدة معادن أخرى؛ إلا أن أهلها لم يستفيدوا من ذلك. يهيمن استخراج الذهب على صناعة التعدين في مالي مما جعلها تحتل المرتبة الثالثة في أفريقيا ولدى فرنسا فيها مصالح في تأمين الموارد. كما تقوم شركة الطاقة الفرنسية "أريفا" باستخراج النفط منذ عقود في النيجر المجاورة. وقد تحققت هذه الخطة الطامعة تحت شعار الحرب على شبكات الإرهاب في مالي بناء على طلب الحكومة في باماكو وبمباركة الأمم المتحدة.

مالي التي يعتنق أكثر من 90% من سكانها الإسلام تأرجحت من أزمة إلى أخرى مما جعلها دائماً في حالة من التوتر. وتواجه هذه الأزمة مشاكل سياسية وأمنية وإنسانية واقتصادية خطيرة ناجمة عن ظروف هيكلية طويلة الأمد مثل ضعف مؤسسات الدولة؛ والمشاكل التي تواجهها في هذا المجال؛ التماسك المجتمعي الهش؛ ومشاعر سلبية عميقة الجذور بين التجمعات المحلية في الشمال من الإهمال والتهميش والمعاملة غير العادلة من الحكومة المركزية. وقد أضاف التدخل الغربي والمهمة الغربية المزيد من المآسي. ينبغي توقع حدوث ذلك منذ أن تم إعطاء المستعمرين الكفار زمام المسؤولية على شؤون المسلمين. إن جميع محادثات الوساطة من الكتل الإقليمية والدولية مثل المجموعة الاقتصادية لدول غرب أفريقيا والمنظمة الدولية للفرانكفونية والاتحاد الأوروبي لن تحل أبداً المآسي في مالي لأنها جميعها أدوات استعمارية لا بد أن تخدم مصالح المستعمرين. من المؤسف فعلا أن نرى هذه البلاد الإسلامية أصبحت هدفاً لكل المستعمرين، وهذا لأن المسلمين تحكمهم أنظمة رأسمالية جشعة وليس الإسلام.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شعبان معلم

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست