أمريكا توظف سياسة إثارة العداء في خضم محادثات السلام
أمريكا توظف سياسة إثارة العداء في خضم محادثات السلام

قدمت أمريكا مكافأة بمقدار مليون دولار مقابل الحصول على معلومات حول مكان وجود حمزة بن أسامة بن لادن الزعيم السابق لتنظيم القاعدة، في الوقت الذي تواصل فيه الجولة الخامسة من المحادثات مع طالبان في قطر البلد المضيف للقاعدة سابقا، وقد زعم المسؤولون الأمريكيون أن حمزة بن لادن بدأ يظهر كأحد القادة الرئيسيين للجماعات "الإرهابية" والإسلامية المقيمين في منطقة بين أفغانستان وباكستان، كما أكد المسؤولون الأمريكيون أن حمزة، عن طريق التصريحات الصوتية والمرئية، حث على شن هجمات على أمريكا وحلفائها الغربيين كرد انتقامي على اغتيال والده.

0:00 0:00
Speed:
March 09, 2019

أمريكا توظف سياسة إثارة العداء في خضم محادثات السلام

أمريكا توظف سياسة إثارة العداء في خضم محادثات السلام

(مترجم)

الخبر:

قدمت أمريكا مكافأة بمقدار مليون دولار مقابل الحصول على معلومات حول مكان وجود حمزة بن أسامة بن لادن الزعيم السابق لتنظيم القاعدة، في الوقت الذي تواصل فيه الجولة الخامسة من المحادثات مع طالبان في قطر البلد المضيف للقاعدة سابقا، وقد زعم المسؤولون الأمريكيون أن حمزة بن لادن بدأ يظهر كأحد القادة الرئيسيين للجماعات "الإرهابية" والإسلامية المقيمين في منطقة بين أفغانستان وباكستان، كما أكد المسؤولون الأمريكيون أن حمزة، عن طريق التصريحات الصوتية والمرئية، حث على شن هجمات على أمريكا وحلفائها الغربيين كرد انتقامي على اغتيال والده.

التعليق:

تعد سياسة إثارة العداء واحدة من أهم المواضيع في السياسة الخارجية الأمريكية التي تهدف إلى تشويه الأفكار العامة وتجنب خرق النظام الداخلي من خلال إلهاء الرأي العام حول ظهور عدو أجنبي، وقد قدمت الحكومة الأمريكية دائما عدوا جديدا للمواطنين الأمريكيين في أوقات مختلفة وتماشيا مع سياستها الخارجية، فكثيرا ما تطلق الحملات وتنشر الدعايات فيما يتعلق بعدوها الذي أثار نفسه بحيث يرتجف المواطنون الأمريكيون عند ذكره، ولا سيما دافعي الضرائب، الذين يُخدعون في النهاية لتمويل ودعم الحرب.

وفي ضوء ذلك، أطلقت أمريكا أجندة "الحرب على الإرهاب" في 2001 أي بعد عقد من انهيار الاشتراكية، والتي بدورها فقدت شرعيتها العالمية بعد 18 عاما عندما تم الكشف عن أنها أطول حرب أمريكية، في الواقع كانت مبنية على افتراضات وادعاءات خيالية، ولكن وعلى النقيض من ذلك، فإن الهدف الرئيسي لها هو القيام بمحاربة المسلمين في جميع أنحاء العالم، والحقيقة أن شعار "الحرب على الإرهاب" يحمل موقفا تافها في السياسة الخارجية لأمريكا، ولهذا السبب، دأبت الحكومة الأمريكية على تحديد القوة الاقتصادية للصين والقدرة السياسية لروسيا بوصفهما المهددات الرئيسية للهيمنة العالمية الأمريكية، وعلى الرغم من أن أمريكا لا تزال العدو الذاتي لنفسها في البلاد الإسلامية فإن الدعاية والتهويل حول حمزة بن لادن هي إحدى تلك المؤامرات والمزاعم، في حين ليس لديهم أية أدلة حقيقية لإثبات هذه الادعاءات، على الرغم من أن الحرب من أجل هزيمة أمريكا هي الهدف الأساسي لأي ثائر مسلم.

قال مايكل إيفانوف، مساعد وزير الخارجية لشؤون الأمن الدبلوماسي، إن "حمزة بن لادن قد عبر إيران وموجود في مكان ما على الحدود بين أفغانستان وباكستان"، ويكشف هذا الإعلان مرة أخرى عن الهدف الشائن لأمريكا الذي يبرر - بعد فشل أجندة تنظيم الدولة في أفغانستان - وجودها العسكري في أفغانستان من خلال عرض عودة تنظيم القاعدة إلى المنطقة.

ومن ناحية أخرى، تشارك أمريكا في جولتها الخامسة من المحادثات مع طالبان، وعلى الرغم من أن حركة طالبان كانت توصف بأنها (إرهابية) وعدو لها، ولكن وبالتماشي مع السياسة الخارجية الأمريكية عقب تغيير السياسة الأمريكية من الحرب إلى السلام تم اعتبارها معارضة للحكومة الأفغانية، أما الآن، فإنها تمضي في محادثات معها.

وتشمل القضايا الأساسية في الجولة الخامسة من المحادثات "انسحاب القوات الأمريكية" وأنه "لا ينبغي استخدام أرض أفغانستان ضد أمريكا وحلفائها"، ومع وضع هذا في الاعتبار، فإن الدعاية المضادة حول ظهور القاعدة، في خضم محادثات السلام، تدعم أمريكا لاستخدام هذا كخيار للضغط على طالبان خلال المفاوضات حتى تتفق طالبان مع نشر وحدة عسكرية أمريكية احتياطية في أفغانستان للقتال ضد (الإرهابيين) الدوليين، مثل تنظيم القاعدة وتنظيم الدولة.

ويبدو أن طالبان متفائلة جدا بشأن انسحاب القوات الأمريكية، فقد قال سهيل شاهين، المتحدث باسم المكتب السياسي لطالبان في قطر "إذا لم تكن طالبان متفائلة بنتائج المحادثات، فلن يتم الانتقال إلى الجولة القادمة من المحادثات"، ولذلك فإن قضية انسحاب القوات الأمريكية من أفغانستان هي أحد الإجراءات والأساليب الخادعة التي تريد بها أمريكا دمج طالبان في نظام سياسي أمريكي، وفي الوقت الذي تتواصل فيه المحادثات، يتحدث الجانبان عن تقدم ملحوظ، تتداول طالبان بأن أمريكا ستنسحب من أفغانستان، بينما يبدو أن أجندة انسحاب القوات الأمريكية أشبه بفاتح الشهية لإقناع طالبان من أجل الجلوس على طاولة المفاوضات، ولكن من المرجح أن أمريكا بهذا الوعد الكاذب تخدع طالبان، ومن جهة ثانية تحاول أيضا عرض التهديدات المحتملة من مجموعة أخرى لضمان وجودها في أفغانستان.

لذلك، يجب علينا نحن المسلمين أن نعي سياسة العداء الاستفزازية التي تنتهجها أمريكا. من حيث سياستها الخارجية، وبالتلاعب قد تصف إحدى الجماعات بين المسلمين على أنها عدو ومن ثم تسعى لتحقيق أهدافها الإقليمية والاستراتيجية من خلال احتلال البلاد الإسلامية تحت ستار "الحرب على الإرهاب"، كما يظهرون أن عدوهم هو عدو للمسلمين، في حين إن أمريكا نفسها هي العدو اللدود للمسلمين، ولهذا ينبغي أن لا ننخدع بسياسة العداء التي تنتهجها أمريكا والتي تستخدمها في البلاد الإسلامية، وبالتالي، إنه لمن الضروري لطالبان أن تدرك السياسة الخادعة والماكرة الجارية وأن تنسحب من عملية التفاوض من أجل السماح بإغراق أمريكا في مستنقع أفغانستان وتخليص أفغانستان من المعاناة والإذلال والهزيمة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست