أليس لنا من حل لليبيا غير الاستغاثة بمجلس الأمن؟!
أليس لنا من حل لليبيا غير الاستغاثة بمجلس الأمن؟!

الخبر:   شاركت تونس الاثنين 6 كانون الثاني/يناير 2020 في جلسة مشاورات طارئة بمجلس الأمن الدولي المنعقدة بطلب من الجمهورية التونسية والمملكة المتحدة وروسيا حول الأحداث الأخيرة في ليبيا وبحضور الممثل الخاص للأمين العام للأمم المتحدة، غسان سلامة. وبالإشارة إلى التّصعيد الأخير الذي يشهده الوضع في ليبيا وآخره سقوط عديد الضحايا في الهجوم على الكلية العسكرية جنوب طرابلس، عبرّت تونس عن استنكارها الشديد ورفضها المطلق لتواصل سفك دماء الليبيين، مشدّدة على ضرورة التحرك العاجل لمجلس الأمن لفرض احترام قراراته ذات الصلة بالشأن الليبي، وآخرها القرار 2486 لسنة 2019 الذي "يدعو كافة الأطراف إلى الالتزام بوقف دائم لإطلاق النار وحثّ جميع الدول الأعضاء لحظر السلاح". ...

0:00 0:00
Speed:
January 08, 2020

أليس لنا من حل لليبيا غير الاستغاثة بمجلس الأمن؟!

أليس لنا من حل لليبيا غير الاستغاثة بمجلس الأمن؟!

الخبر:

شاركت تونس الاثنين 6 كانون الثاني/يناير 2020 في جلسة مشاورات طارئة بمجلس الأمن الدولي المنعقدة بطلب من الجمهورية التونسية والمملكة المتحدة وروسيا حول الأحداث الأخيرة في ليبيا وبحضور الممثل الخاص للأمين العام للأمم المتحدة، غسان سلامة.

وبالإشارة إلى التّصعيد الأخير الذي يشهده الوضع في ليبيا وآخره سقوط عديد الضحايا في الهجوم على الكلية العسكرية جنوب طرابلس، عبرّت تونس عن استنكارها الشديد ورفضها المطلق لتواصل سفك دماء الليبيين، مشدّدة على ضرورة التحرك العاجل لمجلس الأمن لفرض احترام قراراته ذات الصلة بالشأن الليبي، وآخرها القرار 2486 لسنة 2019 الذي "يدعو كافة الأطراف إلى الالتزام بوقف دائم لإطلاق النار وحثّ جميع الدول الأعضاء لحظر السلاح".

ودعت تونس في هذا السياق إلى تضافر جهود جميع أعضاء مجلس الأمن من أجل التوصل إلى وقف فوري لإطلاق النار كأولوية ملحّة حقنا للدماء. وفي إطار التزام تونس بمبادئ الشرعية الدولية ودعمها لمسار التسوية السياسية الشاملة الذي ترعاه الأمم المتحدة، أكدت تونس مواصلة جهودها لإنجاح هذا المسار بما يحفظ وحدة ليبيا وسيادتها ويضع حدا لمعاناة الشعب الليبي الشقيق. (موزاييك أف أم)

التعليق:

هكذا إذن، تسير تونس تحت جناح بريطانيا، لتدخل مجلس الأمن بعد انتخابها كعضو غير دائم، وتشارك بريطانيا وأمريكا الالتزام بمبادئ الشرعية الدولية، وتناشد مجلس الإرهاب الدولي التحرك لوقف إطلاق النار وتطالبه بتثبيت الحدود الاستعمارية التي بيننا، مسايرة للموقف الأوروبي وخاصة البريطاني الذي يدفع باتجاه الحل السياسي للأزمة الليبية أمام تقدم قوات خليفة حفتر العسكرية متعددة الجنسيات من جهة، ونصب الفخ التركي لحكومة السراج من جهة أخرى، مع أن تبادل الأدوار التركي الروسي في ليبيا لا يعدو أن يكون استنساخا لما فعلوه في بلاد الشام خدمة لمصلحة أمريكا.

إن الكفار المستعمرين روساً كانوا أم أمريكان هم أعداؤنا فليس غريباً أن يبذلوا الوسع في قتلنا، أما أن يصطف معهم فرقاء ليبيون، يوالي بعضهم أمريكا، وبعضهم يوالي أوروبا، ثم يقتتلون فيما بينهم، قتالاً ليس من أجل الإسلام وإعلاء كلمة الله، بل لمصالح الكفار المستعمرين... فإنها لإحدى الكبر. ثم يأتي أحدهم زاعما العون والنصرة لحقن الدماء، مع أن النصر يكون في الدين لا في أجندات المستعمرين المتآمرين. قال تعالى: ﴿وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾.

أفلا يوجد من حل في ليبيا غير الاصطفاف وراء أحد بيادق الاستعمار بعيدا عن عقيدة الأمة ومشروعها الحضاري؟!

أليس لنا من حل غير الاستغاثة بمجلس الأمن الذي أثبتت كل الوقائع مدى جرمه وانحيازه إلى القوى الاستعمارية الكبرى وعلى رأسها أمريكا؟ وماذا إن لم يستجب مجلس أمنهم؟ هل سننتظر نتائج معركة جديدة ترسم لنا حدودا جديدة لا سمح الله؟

أليس بلد المليون حافظ لكتاب الله عن يميننا وبلد المليون شهيد عن شمالنا؟ أليس من أبنائه ورجاله المخلصين في القوات المسلحة رجل رشيد يوقف هذه المهازل في حق شعوب خير أمة أخرجت للناس؟!

إن قضايا المسلمين تحل بأيدي المسلمين وليس بأيدي أعدائهم، والحل سهل ميسور لمن يسره الله له، سلاحه الإخلاص لله في السر والعلن، والصدق مع رسول الله r في القول والفعل، وعندها سيرى المستغيثون الصغار والمتفاوضون الكبار أنهم أمام بلد إسلامي عريق منذ الفتح الإسلامي على عهد الخليفة الراشد عمر بن الخطاب رضي الله عنه، وجميع أهله مسلمون، وحل قضاياه في كتاب الله سبحانه وتعالى وسنة رسوله r، دونما أية صلة مع الكفار المستعمرين ولا وصاية منهم. قال تعالى: ﴿وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ﴾.

إن الحلول السياسية والعسكرية لدى المسلمين، لا بد لها من دولة راشدة تفعلها، ولا تترك في متناول أيدي العابثين المتربصين بالأمة، ولذلك فإن من أراد حلاً لليبيا وحقن دماء المسلمين فيها، فليدفع باتجاه إقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة عاجلا غير آجل، فإن كل خطوة في غير هذا الاتجاه، هي إضاعة لوقت الأمة واستنزاف لجهودها وتمكين للكافر المستعمر من رقابنا فضلا عن ثرواتنا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. وسام الأطرش – ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست