التصدي لمثل وباء كورونا يحتاج لدولة رعاية؛ خلافة راشدة على منهاج النبوة
التصدي لمثل وباء كورونا يحتاج لدولة رعاية؛ خلافة راشدة على منهاج النبوة

الخبر: تحدثت المصري اليوم في 14/3/2020م، عن وقائع المؤتمر الصحفي الذي عقده رئيس الوزراء المصري، بحضور وزراء التربية والتعليم والتعليم العالي والبحث العلمي، والصحة والسكان؛ والإعلام، وذلك للإعلان عن قرار تعليق الدراسة بالمدارس والجامعات لمدة أسبوعين اعتباراً من الأحد الموافق 15 آذار/مارس،

0:00 0:00
Speed:
March 17, 2020

التصدي لمثل وباء كورونا يحتاج لدولة رعاية؛ خلافة راشدة على منهاج النبوة

التصدي لمثل وباء كورونا يحتاج لدولة رعاية؛ خلافة راشدة على منهاج النبوة


الخبر:


تحدثت المصري اليوم في 14/3/2020م، عن وقائع المؤتمر الصحفي الذي عقده رئيس الوزراء المصري، بحضور وزراء التربية والتعليم والتعليم العالي والبحث العلمي، والصحة والسكان؛ والإعلام، وذلك للإعلان عن قرار تعليق الدراسة بالمدارس والجامعات لمدة أسبوعين اعتباراً من الأحد الموافق 15 آذار/مارس، وأشار وزير التربية والتعليم إلى أنه سيتم استغلال فترة تعليق الدراسة في إجراء الصيانة الفوري للمنشآت التعليمية التي تأثرت من جراء ما شهدته البلاد مؤخراً من سوء في حالة الطقس، ثم تطهيرها وتعقيمها، وأكد وزير التربية والتعليم على أن ما تم اتخاذه من قرارات اليوم، ما هي إلا إجراءات وقائية واحترازية، مشيراً إلى أن تلك القرارات لن تكون مفيدة إلا إذا استكملت خارج المدرسة، وذلك عن طريق منع الاختلاط خارج المدرسة، وتقليل التجمعات.

التعليق:


أعلن رئيس الوزراء المصري أن إصابات كورونا محدودة، وعلى الناس تقليل الخروج للشوارع، بينما قال وزير التعليم إن هناك 7 طلاب فقط في مناطق متفرقة من بين إجمالي المصابين بالفيروس على مستوى البلاد، والمحدود على حد قول رئيس الوزراء بينما تنقل رصد عن مدير مكتب نيويورك تايمز في القاهرة الذي يؤكد أن عدد المصابين بفيروس كورونا في مصر 19000 بينما الحكومة تدعى أنهم 110 فقط، هذا في الوقت الذي تم فيه تعليق الدراسة لمدة أسبوعين قابلة للزيادة مع إغلاق أماكن الدروس الخصوصية وكل التجمعات والإعلان عن تعقيم المدارس والجامعات كل تلك الفترة في إجراءات احترازية لا يعبر عنها وجود 7 طلاب مصابين فقط كما أعلن الوزير، بل تؤكد وجود أعداد كبيرة لم تعلن عنها الحكومة التي تعودت الكذب وعدم التحرك إلا بعد تفاقم الأمور ووقوع الكارثة، بل ربما تكون مستفيدة ومتربحة من وجودها وتفاقمها، ولن يعبأ هذا النظام بعدد من سيهلكهم الوباء منكم بل سيتاجر بهم في المحافل الدولية للحصول على أكبر قدر من المساعدات والمنح تضاف إلى أرصدة العملاء في بنوك أوروبا، هذا بخلاف كون النظام الرأسمالي النفعي تقوم قوائمه على أصحاب رؤوس الأموال المنتفعين والمتربحين من إنتاج الداء والدواء وهؤلاء تدور مصلحتهم حول بقاء الداء وانتشاره لتزيد معدلات بيعهم وتتضاعف ثروتهم، وحكام بلادنا ليسوا سوى أدوات في أيديهم.


رحم الله عمر بن الخطاب عندما قال "لو عثرت بغلة في طريق العراق لسألني الله عنها لِمَ لَم تصلح لها الطريق يا عمر"، مجرد بغلة بينما نحن أهون عند حكامنا من بغلة عمر! فلو كان فينا عمر لما انتظر حتى انتشر الوباء في بلاد الإسلام واحدة فأخرى بل لسارع كما يجب عليه حتى يوجد للأمة مخرجا وللداء دواء؛ فهذا واجب الرعية على الراعي والمسؤول عنها أمام الله يوم القيامة، فالتحرك الاحترازي لمصر تحديدا تأخر كثيرا جدا في ظل التعامل التجاري والاقتصادي الضخم مع الصين حيث بدأ الوباء، وكأن النظام أراد له أن يوجد ويتوغل، بينما التحرك السريع يجعل حصاره سهلا وإيجاد علاجه أيسر، ولكن هذا لا تقوم به إلا دولة رعاية خلافة راشدة على منهاج النبوة.


يا أهل الكنانة، إن أمنكم وصحتكم ترتبط بعقيدتكم وما انبثق عنها من أحكام تضمن رعايتكم على الوجه الصحيح وتلزم الحكام بهذه الرعاية دون إهمال أو تقصير وهذا واجبهم نحوكم، وواجبكم أن تطالبوا بهذه الرعاية على وجهها الصحيح وبالنظام والدولة التي تحققه لكم وتضمن بقاء الرعاية حتى لو انتهت الأزمة وانحسر الوباء، فالرعاية الدائمة تضمن عدم تكراره مرة أخرى وتضمن التصدي لمثله حال وجوده، وهذا لا يكون إلا في دولة خلافة راشدة على منهاج النبوة.


يا أهل الكنانة شعبا وجيشا، حكاما ومحكومين، إن لكم في هذا الوباء عظة وعبرة فها هو مخلوق ضعيف من مخلوقات الله يرهبكم ويقعدكم في بيوتكم خشية الموت، بينما يملك الخالق نفوسكم وأرواحكم ويتوعدكم بيوم عظيم لا ملجأ ولا منجى فيه من الله إلا إليه، فكيف تلقونه حينها وشرعه معطل ودولته غائبة ودينه لا يحكمكم ولا تسيرون به حياتكم، إن هذا لهو أخطر عليكم من هذا الوباء، فالأمة كلها تأثم منذ هدمت خلافتها على يد الهالك مصطفى كمال، وستبقى في إثمها حتى تقام مرة أخرى، فسارعوا لإقامتها ففيها نجاتكم من سؤال الله يوم القيامة، وهي وحدها الكفيلة بالتصدي لمثل هذا الوباء وغيره؛ فهي دولة رعاية لا يعنيها ما تنفقه على صحة الناس ورعايتهم وسد حاجاتهم بل يعنيها فقط أن تؤدي للناس حقوقهم مهما كلفها الأمر من مال ومشقة، فهذا واجبها وهذا هو الحكم الشرعي الذي يلزمها والعقيدة السامية التي تحركها، فسارعوا إلى إقامتها أيها المسلمون ففيها نجاتكم ونجاة العالم كله معكم، وبينكم شباب حزب التحرير يحملون لكم مشروعها كاملا جاهزا للتطبيق فورا ولا ينقصهم غير نصرة مخلصة من أبنائكم في جيش الكنانة تضع ما يحملون موضع التطبيق فيعم خيره الشجر والحجر قبل الطير والبشر، فسارعوا عسى الله أن يكتب للعالم النجاة بكم فتفوزوا فوزا عظيما.


﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سعيد فضل
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

#كورونا

#Corona

#Covid19

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست