الطريقة السهلة للاعتراف بالأسد هي بالتشبث باتفاقية أضنة (مترجم)
الطريقة السهلة للاعتراف بالأسد هي بالتشبث باتفاقية أضنة (مترجم)

الخبر:   قام وزير الخارجية التركي بتقييم وإجابة الأسئلة المتعلقة بسوريا. حيث تحدث جاووش أوغلو عن اتفاقية أضنة، والتي قام الرئيس بوتين بإعادتها إلى الواجهة أثناء زيارة الرئيس التركي أردوغان لموسكو. وأعطى جاووش أوغلو، والذي أعلن عن آخر التطورات بما يتعلق باتفاقية أضنة، الضوء الأخضر لنظام الأسد من خلال قوله: "على الرغم من انقطاع العلاقات مع النظام، إلا أن الاتفاقية لم يتم استثناؤها قط. إذا وقفت الحكومة السورية أمامنا عندما يكون هناك حل سياسي، عندها ستقوم بالكثير". وكان قد قال جاووش أوغلو سابقا: "بحال فوز الأسد بالانتخابات، على الجميع الأخذ بعين الاعتبار العمل معه".

0:00 0:00
Speed:
February 04, 2019

الطريقة السهلة للاعتراف بالأسد هي بالتشبث باتفاقية أضنة (مترجم)

الطريقة السهلة للاعتراف بالأسد هي بالتشبث باتفاقية أضنة

(مترجم)

الخبر:

قام وزير الخارجية التركي بتقييم وإجابة الأسئلة المتعلقة بسوريا. حيث تحدث جاووش أوغلو عن اتفاقية أضنة، والتي قام الرئيس بوتين بإعادتها إلى الواجهة أثناء زيارة الرئيس التركي أردوغان لموسكو. وأعطى جاووش أوغلو، والذي أعلن عن آخر التطورات بما يتعلق باتفاقية أضنة، الضوء الأخضر لنظام الأسد من خلال قوله: "على الرغم من انقطاع العلاقات مع النظام، إلا أن الاتفاقية لم يتم استثناؤها قط. إذا وقفت الحكومة السورية أمامنا عندما يكون هناك حل سياسي، عندها ستقوم بالكثير". وكان قد قال جاووش أوغلو سابقا: "بحال فوز الأسد بالانتخابات، على الجميع الأخذ بعين الاعتبار العمل معه".

التعليق:

كما هو معروف، فإن أردوغان قد قام بزيارة رسمية إلى روسيا الأربعاء الماضي. وكما تم الإعلان عنه، فإن الزيارة كانت تتعلق بسوريا، حيث تمت مناقشة قرار أمريكا الانسحاب من سوريا، والمنطقة الآمنة في شرق نهر الفرات، والوضع الحالي لإدلب. وبعد عودة أردوغان إلى تركيا، أعلن عن أن اتفاقية أضنة والتي تمت بين تركيا وحافظ الأسد، قد تمت إعادتها إلى الأجندة.

وحسب اتفاقية أضنة التي عقدت بين تركيا وسوريا في عام 1998، فقد وافقت سوريا على اعتبار حزب العمال الكردستاني منظمة إرهابية، ووعدت تركيا بأنه لن يسمح بأي نشاطات للمنظمة على الأرض السورية. وبعد هذه الاتفاقية طرد عبد الله أوجلان من سوريا وألقي القبض عليه في كينيا بمساعدة الاستخبارات الأمريكية حيث نقل إلى تركيا. ومن وجهة النظر هذه، يمكننا القول إن أمريكا تقف وراء اتفاقية أضنة، حيث إن حسني مبارك رئيس مصر آنذاك وهو عميل أمريكي مخلص، دخل المفاوضات مع كل من حافظ الأسد وتركيا. وليس أمرا خاطئا القول إن أمريكا تقف وراء حقيقة عودة اتفاقية أضنة إلى الأجندة مرة أخرى. على الرغم من أن بوتين هو من ذكر أردوغان بذلك، حيث إن أمريكا هي من وضعت هذه القضية على الطاولة، مما سيطمئن تركيا سياسيا في القضية السورية. حيث إنه وحسب اتفاقية أضنة والتي عادت إلى الأجندة للمرة الأولى منذ بداية الثورة السورية في 2011، فقد هدفت إلى اعتراف تركيا بالقاتل الأسد والقيام بتواصل رسمي مع النظام السوري.

إن حكام تركيا يعلمون أن أمريكا بنفسها أرادت الاعتراف بهذه الاتفاقية التي تمت في 1998. ويدركون تماما أيضا أن الاتفاقية لا تعني شيئا اليوم لأمريكا. حيث إنها ستستخدمها فقط كعامل مساعد لتسهيل اعتراف تركيا بالأسد. وبكلمات أخرى، فإن تركيا ستتواصل مع النظام السوري بسبب هذه الاتفاقية. وإلا فما الذي يفسر عودة الاتفاقية على الطاولة بعد كل تلك السنوات؟

وماذا ستطلب تركيا من سوريا حسب الاتفاقية؟ هل ستطلب منها منع نشاطات مسلحي حزب الاتحاد الديمقراطي/ وحدات حماية الشعب، وهم الجناح السوري لحزب العمال الكردستاني، أو ستطلب منها تسليم مسلحي وحدات حماية الشعب إلى تركيا.

إن هذا لهو أمر مضحك. حيث يجب علينا أن نتساءل: ألم تكن اتفاقية أضنة موجودة عندما سلم نظام الأسد شرق نهر الفرات لحزب الاتحاد الديمقراطي/ وحدات حماية الشعب الجناح السوري لحزب العمال الكردستاني في 2012؟ ألم تكن اتفاقية أضنة موجودة عندما عبرت قوات نظام البارزاني البشمركة إلى كوباني عبر الحدود التركية؟ ألم تكن موجودة عندما حضر صالح مسلم، رئيس حزب الاتحاد الديمقراطي، إلى أنقرة لمقابلة وزير الخارجية؟ بلى، فقد كانت هذه الاتفاقية موجودة.

إذاً فما الذي يجعلهم يخرقون اتفاقية أضنة ذلك الوقت، ويلتزمون الصمت أمام دعم الأسد لقوات حماية الشعب وتسليمهم المنطقة الشمالية ثم توضع اتفاقية أضنة على الطاولة مرة أخرى؟ إن أمريكا ترسم طريقة اعتراف تركيا بنظام الأسد من خلال إعادة اتفاقية أضنة إلى الأجندة مرة أخرى، لا شيء آخر... وبيان وزير الخارجية جاووش أوغلو يؤكد ذلك.

إن أمريكا تريد سوريا مع الأسد، ومن أجل سوريا مع الأسد يجب الاعتراف بها من الدول المجاورة. أما روسيا وإيران فقد أقرتا ذلك، وتبقى تركيا هي الدولة الوحيدة التي لم تقم بذلك بعد. ولهذا على تركيا وبكل صراحة الإعلان عن أن النظام السوري الوحشي هو حكومة شرعية، وذلك من خلال التحدث عن اتفاقية أضنة. ولولا ذلك فإن النظام السوري لن يمنع نشاطات وحدات حماية الشعب ضمن إطار اتفاقية أضنة، كما ولن يسلم مسلحيها إلى تركيا. حيث إن أمريكا بنفسها تدعم وحدات حماية الشعب هناك. فهل يمكن توقع شيء مثل هذا دون موافقة أمريكية؟ وذلك دون أن ننسى أن النظام السوري نظام مخلص وداعم لأمريكا، وأن تركيا تتبع سياسة ضمن إطار عمل السياسات الأمريكية عندما يتعلق الأمر بالقضية السورية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود كار

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست