السلطات الروسية تلاحق شباب حزب التحرير لأسباب سياسية (مترجم)
السلطات الروسية تلاحق شباب حزب التحرير لأسباب سياسية (مترجم)

الخبر:   في 4 كانون الأول/ديسمبر، ذكر مركز ميموريال لحقوق الإنسان في موقعه على الإنترنت: "في 29 تشرين الثاني/نوفمبر، عُقدت مائدة مستديرة في مركز ساخاروف في موسكو حول موضوع "حقوق الإنسان ومشكلة "المنظمات المحظورة" في روسيا". كان سبب مناقشة هذا الموضوع هو حكم تموز/يوليو في قضية حزب التحرير في أوفا، حيث تلقى 21 متهماً أحكاماً تصل إلى 24 سنة عقوبة بالسجن. في الواقع المتهمون كانوا مذنبين فقط للتعبير السلمي عن قناعاتهم التي لم تكن مرتبطة بأي دعوات للعنف. حيث تجري عمليات قضائية مماثلة تشمل مختلف "الجماعات المحظورة" في موسكو وتتارستان ومناطق أخرى من روسيا، وكذلك في شبه جزيرة القرم. في رأي نشطاء حقوق الإنسان "لا يمكن اعتبار الأحكام معقولة وعادلة".

0:00 0:00
Speed:
December 26, 2018

السلطات الروسية تلاحق شباب حزب التحرير لأسباب سياسية (مترجم)

السلطات الروسية تلاحق شباب حزب التحرير لأسباب سياسية

(مترجم)

الخبر:

في 4 كانون الأول/ديسمبر، ذكر مركز ميموريال لحقوق الإنسان في موقعه على الإنترنت: "في 29 تشرين الثاني/نوفمبر، عُقدت مائدة مستديرة في مركز ساخاروف في موسكو حول موضوع "حقوق الإنسان ومشكلة "المنظمات المحظورة" في روسيا". كان سبب مناقشة هذا الموضوع هو حكم تموز/يوليو في قضية حزب التحرير في أوفا، حيث تلقى 21 متهماً أحكاماً تصل إلى 24 سنة عقوبة بالسجن. في الواقع المتهمون كانوا مذنبين فقط للتعبير السلمي عن قناعاتهم التي لم تكن مرتبطة بأي دعوات للعنف.

حيث تجري عمليات قضائية مماثلة تشمل مختلف "الجماعات المحظورة" في موسكو وتتارستان ومناطق أخرى من روسيا، وكذلك في شبه جزيرة القرم. في رأي نشطاء حقوق الإنسان "لا يمكن اعتبار الأحكام معقولة وعادلة".

التعليق:

إن عمليات القمع ضد المسلمين وخاصة ضد شباب حزب التحرير في روسيا تكتسب زخما واسعا. حيث إن الاتهامات غير المبررة للأنشطة الإرهابية والانتهاكات المنهجية في جلسات المحكمة لا تترك مجالاً للشك في أن هذا يرتبط مباشرة بالموقف السياسي للسلطات تجاه الإسلام والمسلمين.

جمعت المائدة المستديرة التي عقدت في مركز ساخاروف في 29 تشرين الثاني/نوفمبر بين نشطاء حقوق الإنسان والمحامين وأقارب شباب حزب التحرير المتهمين بالمشاركة في "منظمة إرهابية" محظورة، كما كانت السلطات الروسية حاضرة. وتبادل نشطاء حقوق الإنسان والمحامون وجهات نظرهم حول المحاكمات وتحدثوا عن انتهاكات منظمة.

متحدثين بإيجاز قال نشطاء حقوق الإنسان والمحامون إن عمليات الاعتقال والتحقيقات والمحاكمات ضد شباب الحزب تتم بشكل روتيني.

وتبدأ القضايا دون وجود عناصر الجريمة، فهم متهمون بعمل (إرهابي) أو التهديد بعمل (إرهابي)، ببساطة لا توجد حقائق على وجود الجريمة.

ويتم تقييم الخبراء من الأشخاص المهتمين بشكل واضح، ويعتمدون بشكل كامل على التحقيق. إن القضاة والمدعين العامين في المحكمة يدافعون تماماً عن استنتاجاتهم، ولا يسمحون للمتهم بأن يطرح على هؤلاء الخبراء أسئلة لتحديد أساليب بحثهم، وطريقة الجدال، وطريقة التحقق من أبحاثهم، وكفاءتهم، ومصادر الثقافة، وما إلى ذلك، حيث تكشف هذه الأسئلة عدم كفاءتهم والتحيز وعدم صحة طريقة بحثهم وحتى انتهاك هذه الأساليب من الخبراء أنفسهم.

وخلال المحاكمات، يحاول القضاة بكل الطرق الحد من الدفاع عن المتهمين بتقديم مطالبات تحت ذرائع مختلفة. المطالبات المقدمة بشكل متغطرس وغير عقلاني مرفوضة تماما وغير مبررة وغير معقولة وغير قانونية. وقد استوفيت مطالبات الادعاء بالكامل، على الرغم من كونها غير مدفوعة وغير مبررة. فمبدأ المساواة بين الأطراف غير وارد.

يرفض القضاة استدعاء خبراء مستقلين كي يشاركوا في التحقيقات. إذا كان الخبراء المستقلون يقومون باستنتاجات حول غياب التطرف في الثقافة الحزبية، فإنهم يتلقون تحذيراً حول عدم مقبولية الأنشطة المتطرفة مع التهديد ببدء قضية جنائية فيما يتعلق بهم، بتهم "التطرف وتبرير الإرهاب".

يرفض القضاة بكل الطرق الممكنة الأسئلة المتعلقة بشرعية وصحة قرار المحكمة العليا الروسية في 14 شباط/فبراير 2003، مشيرين إلى حقيقة أن هذا القرار هو قرار من المحكمة العليا الروسية وغير قابلة للطعن. أيضا، لا يسمح القضاة بطرح الأسئلة ومعرفة وجود أو عدم وجود أفعال المتهم، على الأقل بطريقة ما تتعلق بـ(الإرهاب). أو مع وجود أي عواقب خطيرة مجتمعيا من المحتمل أن تحدث أو قد تنشأ نتيجة لأنشطة المتهم. في هذه الحالة، سوف يصبح عبث التهم واضحاً. سيصبح من الواضح أن نشاطهم لا علاقة له بـ(الإرهاب والتطرف)، وليس له أي عواقب خطيرة مجتمعيا.

من المعروف أن حزب التحرير هو حزب سياسي إسلامي، يرفض استخدام القوة لأنها لا تتفق مع طريقة النبي محمد r، في إقامة الدولة الإسلامية. وفقا لذلك، لا يوجد دعوة لأفعال العنف في برنامج الحزب. إن حقيقة أن الخدمات الخاصة لديها كمية كبيرة من المواد من أدبيات الحزب تعطي السلطات فرصة كاملة لدراسة أفكار الحزب، وستكون مقتنعة بأن الحزب يقوم بعمل مبدئي وليس ماديا. ثم، حتى اليوم، لا توجد حقيقة مؤكدة واحدة لمشاركة شباب الحزب في ارتكاب الهجمات الإرهابية، والتحضير لها أو التحريض عليها.

في الآونة الأخيرة، نشر مركز ميموريال لحقوق الإنسان المراجعة الثانية "الإبادة الجنائية للإرهاب في روسيا وإساءة استعمال الدولة"، المكرسة للاستخدام غير المشروع لمواد مكافحة (الإرهاب) في القانون الجنائي للاتحاد الروسي، أي قانون 205 (أنشطة إرهابية). وفي نهاية عام 2013، قانون 205.5 (تنظيم أنشطة منظمة إرهابية والمشاركة فيها). هذه المادة تستخدم أساسا ضد المسلمين. اليوم، وفقا للمادة 205.5 من القانون الجنائي للاتحاد الروسي يتم سجن حوالي 230 من الشباب المرتبطين بالحزب.

في هذا الاستعراض، يتحدثون عن الاضطهاد وتطبيق المادة 205.5 من القانون الجنائي على حظر الحزب. في الجزء الأخير من المراجعة، كتب التلخيص: "الخطر العام لحزب التحرير في روسيا هو افتراض. إن مسألة ما إذا كان ينبغي اعتبار المنظمة متطرفة ما زالت موضع نقاش، ولكنها ليست إرهابية، على الرغم من قرار المحكمة العليا للاتحاد الروسي".

في الختام، يمكننا القول بأمانة إن مقاضاة شباب الحزب من السلطات الروسية، وفبركة القضايا الجنائية وعدم الاستعداد القاطع لتقديم حجج معقولة لاتهاماتهم واضطهادهم لا أساس لها من الصحة. وهذا يثبت مرة أخرى جميع التناقضات والمحاكمات التي لا أساس لها من الصحة في ما يسمى بالجرائم، والتي لم تكن في واقع الأمر أبدا. السبب الوحيد لاضطهاد شباب الحزب وما زال هو الجانب السياسي المبدئي المحض. ولكن بغض النظر عن مدى عدم قدرة سلطات الاتحاد الروسي الكافرة على محاولة وقف دعوة الحزب، فإن الله سبحانه وتعالى سيساعد عباده ويقيم دينه. يقول الله سبحانه وتعالى في كتابه الكريم: ﴿يُرِيدُونَ أَن يُطْفِؤُواْ نُورَ اللّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست