السعودية مشارك أساسي في اجتماعات المنامة و"صفقة القرن"
السعودية مشارك أساسي في اجتماعات المنامة و"صفقة القرن"

الخبر:   خطة أمريكا الاقتصادية في "صفقة القرن" تواجه رفضا رسميا وشعبيا - وجاء في الخبر "وستشارك في المؤتمر دول الخليج العربية المتحالفة مع الولايات المتحدة بما فيها السعودية والإمارات، إلى جانب مسؤولين من مصر والأردن والمغرب ولن يحضر لبنان والعراق". (روسيا اليوم 2019/06/23م)

0:00 0:00
Speed:
June 26, 2019

السعودية مشارك أساسي في اجتماعات المنامة و"صفقة القرن"

السعودية مشارك أساسي في اجتماعات المنامة و"صفقة القرن"

الخبر:

خطة أمريكا الاقتصادية في "صفقة القرن" تواجه رفضا رسميا وشعبيا - وجاء في الخبر "وستشارك في المؤتمر دول الخليج العربية المتحالفة مع الولايات المتحدة بما فيها السعودية والإمارات، إلى جانب مسؤولين من مصر والأردن والمغرب ولن يحضر لبنان والعراق". (روسيا اليوم 2019/06/23م)

التعليق:

رغم محاولات الحكومة السعودية التخفي خلف الستار، وذلك عن طريق الشعارات من مثل (قمة القدس) التي عقدت في السعودية العام الماضي، أو شعارات الوقوف خلف حقوق الشعب الفلسطيني، أو عن طريق إخفاض الصوت في مسألة المشاركة في اجتماعات المنامة والمزمع عقدها في 25-26 من الشهر الجاري في المنامة عاصمة البحرين وهي التي تمثل الحديقة الخلفية للسعودية، وعلى الرغم من كل الأحاديث التي صارت حقائق يتداولها الناس فيما بينهم عن علاقة محمد بن سلمان وكوشنير اليهودي والذي يعتبر عراب صفقة القرن وعن دورهم مجتمعين في هذه الصفقة، إلا أنه وبالرغم من كل ذلك فإن السعودية ما زالت تواصل الكذب والدجل على شعوب المسلمين، وأنها لن تتنازل عن حقوقهم ومقدساتهم! والآن ومع وصول صفقة القرن إلى أرض الواقع وجب التنبيه والتأكيد على النقاط التالية:

1- إنه وفي الوقت الذي تحجم فيه حكومة وتقبل حكومة من حكومات وحكام الضرار في بلاد المسلمين عن المشاركة في اجتماعات المنامة، فإنه لا بد من التذكير بأن السعودية كانت من أوائل من أعلن مشاركته بوفد رسمي في هذه الاجتماعات وذلك بحسب الخبر الذي نشرته صحيفة عكاظ بتاريخ 2019/5/22م وذلك بعنوان "وزير الاقتصاد والتخطيط يشارك في ورشة عمل بعنوان "السلام من أجل الازدهار" بالبحرين"، وقد جاء في الخبر "وتأتي مشاركة معاليه استمرارا لمواقف المملكة العربية السعودية الثابتة والداعمة للشعب الفلسطيني الشقيق...". إذا فالسعودية مشارك رئيس ولاعب مهم والذي ينحصر دوره في عملية التمويل المالي لهذه الصفقة وهو الدور الذي يظهر على الأقل حتى الآن.

2- ولعله أيضا ومن الأدوار الثانوية لحكام السعودية في هذه الصفقة، العمل على استرضاء حكام الضرار الآخرين في المنطقة، وذلك عن طريق دغدغة مشاعرهم بالأموال الطائلة وتحسين الأوضاع، وذلك لقاء ترغيبهم في التنازل عن الشعارات الفارغة وكشف وجوههم الخائنة الحقيقية، وذلك من أمثال الاجتماعات التي عقدتها السعودية في أوقات سابقة مع عباس وممثلي حركة فتح أو مع حكام الأردن والعراق وغيرهم، مع أنه من المعلوم أن جميعهم لا يرفضون بنود الصفقة ونتائجها، غير أن لسان حالهم وتمنعهم يقول "كم نصيبي المالي من الصفقة لأحاول بهذا المال تثبيت حكمي وإقناع شعبي كي لا يثور علي؟".

3- إنه صار من الواضح كل الوضوح لكل متابع للأحداث، بأن محاربة يهود وقلعهم من أرض فلسطين وتطهير المسجد الآقصى من دنسهم، لم يكن يوما من الأيام على قائمة الأولويات السعودية، بل إن المؤشرات تسير نحو الاتجاه الآخر، وهو أنها لا تمانع حدوث سلام وتعايش مع يهود، وذلك من خلال النظر في تفاصيل المبادرة العربية "السعودية" وأيضا بمتابعة التصريحات الجانبية التي تصدر بين الفينة والأخرى والتي تدعو إلى علاقات كاملة ومنسجمة مع كيان يهود، نذكر من أواخرها وتزامنا مع اجتماعات المنامة ما صرح به عادل الجبير في لقائه مع قناة فرنسا 24 في يوم 2019/06/23م من أن "أي شيء يقبل به الفلسطينيون سيقبله العرب" وقال "أعتقد أن أي شيء يحسن وضع الشعب الفلسطيني ينبغي أن يكون موضع ترحيب. والآن نقول إن العملية السياسية مهمة للغاية". وهو التصريح نفسه بل العبارات نفسها التي استعملها الملك سلمان في مناسبات عدة، وذلك في إشارة إلى أن السعودية تقبل بأي حل يوصل إلى اتفاق وانسجام مع كيان يهود وأنها مستعدة مقابل ذلك أن تغري الشعب الفلسطيني بتحسين الأوضاع والمال السياسي القذر.

4- إن على حكام الضرار هؤلاء أن يفكروا ألف مرة قبل أن يتخذوا خطوات متسارعة نحو التطبيع مع كيان يهود والتنازل عن مقدسات المسلمين، فالشعوب المسلمة قد وصلت إلى مرحلة من الوعي يصعب معها تمرير هذه المخططات والمؤامرات الخبيثة، ولذلك يجب على هؤلاء الحكام أن يعلموا أن نهايتهم - بإذن الله - سوف تكون من حيث اجتماعهم للمكر بالإسلام وبلاد المسلمين وأهله، وأن مصيرهم لن يكون إلا إلى زوال.

5- إن على شعوب المسلمين في العالم أجمع وفي بلاد الحرمين على وجه الخصوص، أن يعرفوا حقيقة هؤلاء الحكام وأن يكشفوا مخططاتهم، وأن يتحركوا لقلعهم، وذلك بالعمل مع العاملين لإقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، والتي سوف تقلع الاستعمار وأذنابه من بلاد المسلمين، وتطارده إلى عقر داره إن شاء الله، فتزيل الباطل فيه وتهدي أهله إلى الحق، وما ذلك على الله بعزيز.

اللهم عجل بقيام دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، لكي تقيم شرعك وسنة نبيك في الحكم بين الناس، وتقف سداً منيعا بين الأمة وبين أمثال هذه المؤامرات والدسائس التي تحاك للإسلام وأهله ليل نهار، فتقيم الحق بين الناس وتنزع الباطل من جذوره.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ماجد الصالح – بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست