الربا سيدمر اقتصاد باكستان
الربا سيدمر اقتصاد باكستان

الخبر: رفع البنك المركزي الباكستاني (SBP) الأسبوع الماضي نسبة الربا فجأة بمعدل 25 نقطة فوصل إلى 10.25٪ وكان هذا الرفع الخامس على التوالي منذ تولي عمران خان الحكم، مما أثار الشائعات التي تقول بأن صندوق النقد الدولي هو الذي يملي السياسة النقدية على البلاد.

0:00 0:00
Speed:
February 09, 2019

الربا سيدمر اقتصاد باكستان

الربا سيدمر اقتصاد باكستان

الخبر:

رفع البنك المركزي الباكستاني (SBP) الأسبوع الماضي نسبة الربا فجأة بمعدل 25 نقطة فوصل إلى 10.25٪ وكان هذا الرفع الخامس على التوالي منذ تولي عمران خان الحكم، مما أثار الشائعات التي تقول بأن صندوق النقد الدولي هو الذي يملي السياسة النقدية على البلاد.

التعليق:

في سياق تبرير الزيادة غير المتوقعة في نسبة الربا، قال محافظ البنك المركزي الباكستاني طارق باجوا إن تدابير الاستقرار الاقتصادي التي تم تطبيقها حتى الآن "تثبت نجاعتها تدريجيا وتتحسن الثقة وسط انخفاض في عدم الاستقرار الاقتصادي". ومع ذلك، ظل المحافظ صريحا حول ما إن كانت تلك التدابير توفر الثقة، بل على العكس من ذلك، فقد ظل أهل باكستان يشكون من ممارسة رفع نسبة الربا المتكرر، وانخفاض في قيمة الروبية المستمر، فبدل أن يظل أهل باكستان واثقين في الاقتصاد، أصبحوا يغلون من الغضب تجاه سياسات عمران خان الاقتصادية.

 وفي محاولة من البنك المركزي للحفاظ على رباطة الجأش لاسترضاء ممثلين آخرين في خضم انعدام الأمن الاقتصادي في البلاد، كانت الإمارات والسعودية ليس لديهما أي اعتراض، على الرغم من إيداع كل واحدة منهما 6 مليارات دولار، وتؤكد التقارير أن الصين سوف تودع مزيدا من الأموال. وهذا يترك صندوق النقد الدولي وحيدا في عدم قناعته بالتدابير الاقتصادية التي وضعتها الحكومة. ومع ذلك، فإن تطبيق التدابير الوقائية التي يتخذها صندوق النقد الدولي - مثل رفع نسبة الربا، وخفض قيمة العملة، وتوسيع القاعدة الضريبية، وخصخصة مقدرات الدولة وما إلى ذلك - كل هذه التدابير نادراً ما تنجح. لقد جربت باكستان العديد من التغييرات في هذه الإجراءات على مدى الثلاثين سنة الماضية من خلال الإصلاحات الهيكلية لصندوق النقد الدولي وقد فشلت جميعها في كل مرة، فما الجديد إذا؟

 السؤال الذكي الذي يجب على الاقتصاديين الباكستانيين طرحه على صندوق النقد الدولي هو ما إذا كانت حزم الإصلاح تنجح فعلا أم لا، في ظل أن تكون فيها نسبة الربا هي حجر الزاوية في أي سياسة نقدية، مع ملاحظة أن البنوك المركزية في جميع أنحاء العالم تستخدم الربا للسيطرة على الناتج المحلي الإجمالي من خلال التوسع في العرض النقدي أو الانكماش، وبعبارة أخرى، عندما تكون نسبة الربا منخفضة، يزيد النشاط الاقتصادي وكذلك في نمو الناتج المحلي الإجمالي. وعندما تكون النسبة مرتفعة، ينكمش النشاط الاقتصادي ويتراجع نمو الناتج المحلي الإجمالي. وفي وقت لاحق، يؤثر الناتج المحلي الإجمالي على نسبة الربا، أي أن هناك علاقة سلبية بين نسبة الربا والنمو، وهذه المعادلات بديهيات في الاقتصاد عند خبراء الاقتصاد.

في بحث جديد قلب هذا الفهم رأسا على عقب، نشر في مجلة Ecological Economics تحت عنوان "إعادة النظر في السياسة النقدية: دراسة تجريبية للعلاقة بين أسعار الفائدة والناتج المحلي الإجمالي الاسمي (الناتج المحلي الإجمالي)" يؤكد على أن هناك علاقة إيجابية بين الناتج المحلي الإجمالي والربا. وتحدث الكاتب عن العلاقة بين معدلات الناتج المحلي الإجمالي والربا الاسمية للفترة بين 1957-2008 في أكبر أربعة اقتصادات في العالم: أمريكا وبريطانيا واليابان وألمانيا، وتبين أن العلاقة طردية أي أن الزيادة في الناتج المحلي الإجمالي يؤدي إلى ارتفاع في نسبة الربا وليس العكس.

والتفسير المحتمل لهذه الظاهرة يمكن أن يكمن في حقيقة أنه عندما تخفض البنوك المركزية نسبة الربا، تنخفض الودائع المصرفية، وبما أن البنوك هي الوسيلة الأساسية لتداول الأموال في المجتمع، فإن انخفاض الودائع ينعكس على قلة وجود النقد المتاح للاقتراض. وعندما يرفع البنك المركزي من أسعار الربا، تزداد الودائع فيصبح هناك المزيد من الأموال للإقراض. والخلل واضح في هذه الحجة وهو أن سعر الربا يؤثر على النمو.

تعتبر أسعار الربا لغزا في الرأسمالية الغربية، ولا يعرف أحد كيف تعمل. وقد يئس مجلس الاحتياطي الفيدرالي الأمريكي من تحديد أسعار الربا لدرء الفقاعات الاقتصادية ومن عدم حدوث الكساد. لكن على الرغم من هذه الحقائق الصارخة، لا يزال الاقتصاديون عُمياً في تبني نموذج سياسة الفائدة الربوية والنمو الاقتصادي.

لا يحرم الإسلام سياسة النمو القائم على الربا فحسب، بل ويعرض نموذجاً تنظيمياً بديلاً لضمان النمو الحقيقي في المجتمع. والدعامة الأساسية للإطار التنظيمي في الإسلام للنمو الاقتصادي يدور حول مبدأ حظر تراكم الثروة في المجتمع. وهذا نقيض النموذج الرأسمالي، الذي يحمي مبدأ كنز الثروات.

وعلاوة على ذلك، فإن نموذج النمو التنظيمي الاقتصادي في الإسلام يعتمد على معيار الذهب والفضة في النقد. وتسن الدولة الإسلامية إجراءات لضمان عدم التلاعب في المعروض من الذهب والفضة، أو التلاعب في تحديد الأسعار. كما تسمح الدولة "وليس البنوك الخاصة" لكل فرد في الدولة الإسلامية من الحصول على النقد لشراء السلع والخدمات.

يعتبر الإطار التنظيمي الإسلامي للنمو فريداً من نوعه، وسوف يزيل التضخم والتغير في قيمة العملة والكساد، ويعزز من استقرار الأسعار ويزيل الضرائب على الدخل. كما يمتلك الإطار القدرة على القضاء على الفقر والأمية وسوء الصحة وغيرها من القضايا التي تؤثر على المجتمعات الرأسمالية. ومع ذلك، فإن هذا لا يمكن أن يحدث إلا بتطبيق الإسلام بشكل صحيح في ظل الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة. وقبل ذلك، ينبغي على الاقتصاديين الباكستانيين التوقف عن طاعتهم العمياء لنظام النمو والربا ويصبحوا دعاة للإطار التنظيمي الإسلامي للنمو الاقتصادي.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد المجيد بهاتي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست