القيادة الإسلامية ستهتم حتى بالحيوانات  (مترجم)
القيادة الإسلامية ستهتم حتى بالحيوانات  (مترجم)

تخطط ألمانيا لوقف جميع محطات الطاقة الحرارية للفحم حتى عام 2038. تقارير DW تقول بأن هذا سيكلف ألمانيا 40 مليار يورو. وقد تمت الموافقة على القرار لتسريع الانتقال إلى الطاقة النظيفة لألمانيا لتحقيق الأهداف الوطنية والدولية بشأن إنقاذ المناخ. المصدر: https://zn.ua/WORLD/v-germanii-k-koncu-2038-goda-dolzhny-ostanovit-tes-rabotayuschie-na-ugle-306927_.html­­­

0:00 0:00
Speed:
January 31, 2019

القيادة الإسلامية ستهتم حتى بالحيوانات (مترجم)

القيادة الإسلامية ستهتم حتى بالحيوانات

(مترجم)

الخبر:

تخطط ألمانيا لوقف جميع محطات الطاقة الحرارية للفحم حتى عام 2038. تقارير DW تقول بأن هذا سيكلف ألمانيا 40 مليار يورو. وقد تمت الموافقة على القرار لتسريع الانتقال إلى الطاقة النظيفة لألمانيا لتحقيق الأهداف الوطنية والدولية بشأن إنقاذ المناخ. المصدر: https://zn.ua/WORLD/v-germanii-k-koncu-2038-goda-dolzhny-ostanovit-tes-rabotayuschie-na-ugle-306927_.html­­­

التعليق:

تعرف الدول الأوروبية اليوم بما في ذلك ألمانيا، بالمواصفات القياسية الصحية العالية. مثل: السيطرة على الانبعاثات الضارة، وتطوير مصادر الطاقة المتجددة، والمواصفات الغذائية العالية - هذه القضايا تحتل مكاناً مهماً وفقاً للحكومات الأوروبية. في كثير من الأحيان إهمال مثل هذه القضايا يؤدي بمسؤولين حكوميين لتقديم استقالتهم.

في الوقت نفسه، من الخطأ الافتراض أنه لا يمكن الوصول إلى هذا الازدهار إلا من خلال تطبيق الرأسمالية والديمقراطية. فبدون شك، لا تحتكر الرأسمالية والديمقراطية المواصفات القياسية العالية للحياة، أو الاكتشافات العلمية، أو القيادة السياسية أو الاقتصادية. بل والأسوأ من ذلك، أن نذكر أن هذا الازدهار الأوروبي يتم الوصول إليه عن طريق نهب موارد البلدان الإسلامية، والتي لا يمكن تحقيقها بدون دعم من حكام المسلمين.

على الرغم من ذلك، يجب أن نأخذ بالاعتبار أن هذا الازدهار يتم ضمانه من خلال وجود مؤسسات الدولة التي تقوم على المبدئية.

عندما بنى المسلمون دولتهم على أساس الإسلام، يقودها الخليفة، الذي عاش وفقا للمصالح والتطلعات الإسلامية، كان هناك اهتمام مماثل لجميع رعايا تلك الدولة، سواء أكانوا مسلمين أم غير مسلمين، وحتى بالنسبة للحيوانات.

على سبيل المثال في الخلافة العثمانية، كانت هناك مؤسسات حكومية مثل الخدمات البيطرية الحديثة، التي اهتمت بالحيوانات المريضة وعالجتها. حتى الآن يوجد بين المسلمين في تركيا، عرف أصله من زمن الخليفة عثمان حيث يقوم المسلمون في فصل الشتاء بنثر البذور في الغابة للحيوانات البرية حتى لا تموت جوعاً.

من الجدير ذكره أن هذا حدث في دولة كانت في شدة ضعفها، وكان هناك الكثير من الإغفال والتجاوزات في فهم الإسلام وتطبيقه ونشره، لم تكن هذه الدولة رائدة، وكانت تسمى في أوروبا باسم "الرجل المريض".

خلال فترة التاريخ الإسلامي كانت الأمة الإسلامية تقاد من حكام يريدون أن يكونوا مثل عمر بن الخطاب، ليس فقط بشأن الناس، بل وحتى الحيوانات. أدان عمر بشدة الأشخاص الذين كانوا ينهكون الحيوانات ولا يطعمونها. في أحد الأيام، أرسل عمر حاجبه يرفأ ليحضر له سمكاً. وعندما عاد يرفأ مع الأسماك، ورأى عمر أن الجمل منهك ويتصبب عرقاً. قال عمر: "عذبت بهيمة في شهوة عمر؟! لا والله لا يذوق عمر مكتلك".

هذا هو موقف الحكام المسلمين الحقيقيين تجاه الحيوانات، كما هو الحال بالنسبة لموقفهم تجاه رعاياهم، المسلمين وغير المسلمين، - بل كان موقفهم أكثر حزماً.

إن حرمة حياة وممتلكات وشرف رعايا الدولة الإسلامية، والاهتمام باحتياجاتهم، صغيرة كانت أم كبيرة، هي أمور مستمدة من قاعدة ثابتة ألا وهي النصوص الإسلامية في القرآن الكريم والسنة الشريفة. سأتطرق فقط لثلاثة أبواب:

في الحديث الذي رواه أحمد عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَطْلُبُنِي أَحَدٌ بِمَظْلَمَةٍ ظَلَمْتُهَا إِيَّاهُ، فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ». كما يروي ابن ماجه عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال بينما كان ينظر إلى الكعبة: «ما أعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ». وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِداً، أَوِ انْتَقَصَهُ، أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ، أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئاً بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ، فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

كان الحكام المسلمون الذين تم تثقيفهم بهذه النصوص الإسلامية يجسدون الرعاية الحقيقية لرعاياهم بغض النظر عن دينهم أو لونهم أو وضعهم في المجتمع.

بالنسبة للوضع الحالي للبلدان الإسلامية، لدينا الآن حكام يهدفون إلى إثراء أنفسهم فقط. هؤلاء الحكام يبيعون مصالحنا وينظمون حروباً داخليةً بين البلدان الإسلامية من أجل مصالح الدول الغربية. بدلاً من أن يكونوا درعاً لشعبهم، فإنهم، على العكس من ذلك، هم السلاح الرئيسي للغرب ضدنا. دماء المسلمين ليست لها قيمة عند هؤلاء الحكام، ونتيجة لذلك لن يهتموا بتطبيق أنواع الطاقة النقية للبيئة في البلدان الإسلامية. همهم الوحيد هو إثراء أنفسهم والحفاظ على ذلك، والتي لا يمكن الوصول إليها حسب اعتقادهم إلا من خلال الخضوع الضمني للدول الاستعمارية الكبيرة مثل أمريكا وبريطانيا وفرنسا وروسيا والصين. لقد حذرنا رسول الله من مثل هؤلاء الحكام في الحديث الذي رواه أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم: «سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتُ، يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ، قِيلَ: وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ».

هذه الحالة السيئة ستستمر حتى ينصب خليفة راشد في بلاد المسلمين. وفقط بعد ذلك سوف يتمتع جميع الرعايا، المسلمون وغير المسلمين، وحتى الحيوانات بالرعاية والاهتمام من هذه الدولة، التي ستكون منارة العدالة والقيادة السياسية والاقتصادية في العالم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فضل أمزاييف

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في أوكرانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست