القول ما ترى لا ما تسمع
القول ما ترى لا ما تسمع

    الخبر: وجه رئيس الجمهورية أردوغان انتقادات لاذعة إلى رئيس حزب الشعب الجمهوري قلج دار أوغلو بسبب ظهوره في صورة جمعته مع عضو الحزب اليساري الألماني سفيم داغ دالان قائلا: "إنه لا حظ له من الوطنية، كيف لك أن تجتمع معهم على صعيد واحد؟ علينا أن نوضح لشعبنا هذه الأمور بشكل صحيح". (Haberler.com 2018/12/03)

0:00 0:00
Speed:
December 07, 2018

القول ما ترى لا ما تسمع

القول ما ترى لا ما تسمع

الخبر:

وجه رئيس الجمهورية أردوغان انتقادات لاذعة إلى رئيس حزب الشعب الجمهوري قلج دار أوغلو بسبب ظهوره في صورة جمعته مع عضو الحزب اليساري الألماني سفيم داغ دالان قائلا: "إنه لا حظ له من الوطنية، كيف لك أن تجتمع معهم على صعيد واحد؟ علينا أن نوضح لشعبنا هذه الأمور بشكل صحيح". (Haberler.com 2018/12/03)

التعليق:

لقد أطلق أردوغان هذه التصريحات ضد قلج دار أوغلو أثناء زيارته إلى ألمانيا بسبب صورة جمعته مع عضو الحزب الديمقراطي الاجتماعي الألماني سفيم داغ دالان الذي دافع عن وحدات حماية الشعب الكردية. فهو يهاجم قلج دار أوغلو بسبب صورة وقحة جمعته مع وحدات حماية الشعب. ونحن بدورنا نسأل؛ إذا كان التواجد مع وحدات حماية الشعب على صعيد واحد ليست من الوطنية في شيء، فهل الاجتماع مع الدب الروسي بوتين كل ثلاثة أشهر تقريبا وهو من يقتل المسلمين في سوريا ويزج بشباب حزب التحرير خصوصا والمسلمين عموما في السجون مدى الحياة، وتنظيم لقاءات سرية وعلنية مع مجرم العصر الدموي القاتل بشار الأسد؛ هو من الوطنية وحمية المسلمين؟! أيهما أولى بالاحتجاج التواجد مع وحدات حماية الشعب أم القول إلى القاتل والكافر بوتين أنت صديقي؟!

 نسأل أردوغان؛ هل اتخاذ رئيس أمريكا صديقا هو من حميّة المسلمين "والوطنية" في شيء، وهي أي أمريكا من أمطرت المسلمين في أفغانستان والعراق وسوريا وليبيا واليمن وغيرها من بلاد المسلمين بكل أنواع القنابل واستخدمت أكثر الأسلحة فتكا، وأدخلت الشعب التركي في أزمة مالية لكي تنجو هي بنفسها وأوصلته إلى حافة الهاوية وهي أكبر دولة إرهابية في العالم؟!

ونسأل أردوغان؛ هل القيام بالتعاون التجاري والاقتصادي (حجم التعاون التجاري لعام 2017 بلغ 3 مليار و409 مليون دولار) مع كيان يهود هو من حميّة المسلمين "والوطنية" في شيء، وهو أي كيان يهود العدو اللدود والقديم للمسلمين منذ سبعين عاما، حيث اغتصب الأرض المباركة مسرى الرسول  ﷺ  ودنس واغتصب المسجد الأقصى الذي نذود عنه بأرواحنا ودمائنا، وهو من قتل بكل وحشية عشرة أتراك أبرياء فيما بات يعرف بسفينة السلام (مرمرة 2010)؟!

ونسأل أردوغان؛ هل إرسال الجيش التركي إلى شمال سوريا تحت مسميات عدة مثل درع الفرات وغصن الزيتون على حساب الشعب التركي لغرض تحقيق المصالح الأمريكية في سوريا وتسليم منطقتي حلب والغوطة الشرقية إلى النظام وتقديمهما له على طبق من ذهب والسماح للنظام بالقيام بعشرات المجازر كالتي قام بها في حماة على الرغم من ادعائه بأنه لن يسمح له بالقيام بحماة ثانية، والأسوأ من هذا كله أن يدفن الثورة وهي حية، ويتعاون سرا مع الدكتاتور بشار الأسد الذي يسعى للقضاء على حلم المسلمين الذي طالما انتظروه لقرابة المئة عام ألا وهو دولة الخلافة الراشدة؛ هل هذا كله من حميّة المسلمين "والوطنية" في شيء؟!

 إن ما ذكرناه هو غيض من فيض فقط، وإلا فإن المقام لا يتسع لكتابة كل ما فعله أردوغان خلال الـ16 سنة الماضية خلافا لحميّة المسلمين و"الوطنية"، هذا عدا عن مسخه للمسلمين على الصعيدين الفكري والثقافي.

 ونود هنا أن نذكر بأننا لسنا في مقام الدفاع عن قلج دار أوغلو. فما فعله حزبه العلماني ضد المسلمين لم ولن يُنسى، فهي محفوظة في الذاكرة ورثوها عن آبائهم. لهذا فإن ما فعله حزب الشعب الجمهوري بالمسلمين لم ولن يُنسى. إن من يعمل ضد الإسلام والمسلمين سيُدوَّن في صحائف التاريخ السوداء أولا وفي أذهان المسلمين ثانيا ولن تُمحى منهما، وهذا لطف من الله تعالى.

 نعود إلى موضوعنا؛ فنحن نعلم ما كان عليه أردوغان في تسعينات القرن الماضي وما وصل إليه الآن، فالتصريحات النارية لا تُسمن ولا تُغني من جوع، وحميّة المسلمين و"الوطنية" لا تظهر بالتصريحات الخداعة والمؤامرات والتحايل بل بالجد والعمل، وصدق من قال الرد ما ترى لا ما تسمع!

لهذا فإن على أردوغان إذا كان صادقا في حميته على المسلمين أن ينهي علاقاته فورا مع الدول المحاربة والعدوة للمسلمين روسيا وأمريكا وكيان يهود، وإذا كان صادقا في "وطنيته" فعليه أن يتخلى فورا عن كل المنظمات والهيئات والأفكار والأنظمة الاستعمارية ويعود إلى النظام القديم، وبعبارة أخرى عليه أن يعود إلى نظام الخلافة الذي طبقته دولة الخلافة العثمانية وهي مصدر سعادة المسلمين. أما ما سوى ذلك من قول عن حمية المسلمين و"الوطنية" فلا قيمة له البتة. يقول الحق تبارك وتعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [المائدة: 51]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ارجان تكين باش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست