القانون الأمريكي بشأن رد الممتلكات اليهودية ولكن "نحن من يجب علينا أن نحصل على التعويضات"
القانون الأمريكي بشأن رد الممتلكات اليهودية ولكن "نحن من يجب علينا أن نحصل على التعويضات"

ذكرت رويترز في 11 أيار/مايو أن "أنصار اليمين المتطرف البولنديين يحتجون على القانون الأمريكي بشأن إعادة الممتلكات اليهودية التي تم الاستيلاء عليها خلال أو بعد الحرب العالمية الثانية"، وأن 3 مليون من يهود بولندا لقوا حتفهم في المحرقة، يلزم قانون العدالة للناجين غير المعوضين، وزارة الخارجية الأمريكية بتقديم تقرير إلى الكونغرس حول التقدم الذي تحرزه الدول التي وقعت على إعلان تيرزيني في 2009 الذي تعهد بإعاده الأصول اليهودية التي تم الاستيلاء عليها خلال أو بعد الحرب العالمية الثانية وجاء في شعارات المتظاهرين أن "بولندا ليست لديها التزامات" و"ضباع المحرقة" وأن رئيس الوزراء البولندي ماتيوس مورياويكي ردد هذا القول "لن نسمح بدفع اي تعويض ضرر لأي شخص لأننا نحن الذين يجب أن نحصل على التعويضات".

0:00 0:00
Speed:
May 16, 2019

القانون الأمريكي بشأن رد الممتلكات اليهودية ولكن "نحن من يجب علينا أن نحصل على التعويضات"

القانون الأمريكي بشأن رد الممتلكات اليهودية

ولكن "نحن من يجب علينا أن نحصل على التعويضات"

(مترجم)

الخبر:

ذكرت رويترز في 11 أيار/مايو أن "أنصار اليمين المتطرف البولنديين يحتجون على القانون الأمريكي بشأن إعادة الممتلكات اليهودية التي تم الاستيلاء عليها خلال أو بعد الحرب العالمية الثانية"، وأن 3 مليون من يهود بولندا لقوا حتفهم في المحرقة، يلزم قانون العدالة للناجين غير المعوضين، وزارة الخارجية الأمريكية بتقديم تقرير إلى الكونغرس حول التقدم الذي تحرزه الدول التي وقعت على إعلان تيرزيني في 2009 الذي تعهد بإعاده الأصول اليهودية التي تم الاستيلاء عليها خلال أو بعد الحرب العالمية الثانية وجاء في شعارات المتظاهرين أن "بولندا ليست لديها التزامات" و"ضباع المحرقة" وأن رئيس الوزراء البولندي ماتيوس مورياويكي ردد هذا القول "لن نسمح بدفع أي تعويض ضرر لأي شخص لأننا نحن الذين يجب أن نحصل على التعويضات".

التعليق:

كانت وجهة نظر رئيس الوزراء مورياويكي هي أن بولندا احتلتها ألمانيا النازية، بالتالي فإن جميع البولنديين، وليس يهودها وحدهم، كانوا ضحايا معا لاحتلال أجنبي، بيد أن وزير خارجية كيان يهود كاتس كان له رأي آخر: "تعاون البولنديون مع النازيين حتما. وكما قال إسحاق شامير [رئيس الوزراء الأسبق]، فإنهم يرضعون معاداة السامية بحليب أمهاتهم"، وستتواصل المناقشة حول دور البولنديين في المحرقة، ولكن شيئا واحدا يكرر نفسه في أوروبا، وهو أن اعتناق القيم "الليبرالية" قد أخفق في إخماد أشكال عنصرية خبيثة من النزعة القومية التي تهدد الأقليات بالاضطهاد من الشرق إلى الغرب، وثمة شيء آخر ليس جديدا هو تطبيق المعايير المزدوجة في مسألة العنصرية.

إن الديمقراطيات الليبرالية التي تدعو إلى تعويض يهود صامتة بشكل غريب بشأن عودة الممتلكات والأراضي الفلسطينية التي سرقها يهود في الحرب الدامية من أجل إنشاء كيانهم في 1948 وزيادة توسعه في 1967. وفي الواقع، اعترفت إدارة ترامب مؤخرا بسيادة كيان يهود على مرتفعات الجولان المحتلة، وأفادت صحيفة هارتس يوم 13 أيار/مايو، بأن خطة ترامب البشعة للسلام ستشمل الاعتراف بسيادة كيان يهود في مستوطنات الضفة الغربية المبنية على الأراضي الفلسطينية المسروقة.

بالنسبة لخمسة ملايين لاجئ فلسطيني، خفض ترامب تمويل وكالة غوث وتشغيل اللاجئين الفلسطينيين التابعة للأمم المتحدة (الاونروا) المكلفة بدعمهم لأنه وفقا لأمريكا، فإنه لا معنى لتعريف "ورثة" اللاجئين كلاجئين، ومع ذلك، وعلى النقيض من حقوق الفلسطينيين، صاغ الكونغرس الأمريكي المنافق قانون العدالة للناجين لدفع تعويضات، ليس فقط "لورثة" ضحايا المحرقة، ولكن، حتى في حالة عدم وجود ورثة معروفين، للضغط من أجل منح تعويضات للمنظمات اليهودية والصهيونية بوجه عام.

في هذا الأسبوع، ستقام مسابقة الأغنية الأوروبية في تل أبيب وبعض الجماعات المنفردة، ولكن ليس الحكومات، تدعو إلى مقاطعة هذا الحدث بسبب اضطهاد كيان يهود للفلسطينيين، وردا على ذلك، يشن كيان يهود هجوما إعلاميا ويغلق حدوده أيضا لأي شخص يشتبه في اعتزامه المشاركة في احتجاجات مشروعة ضد الاحتفال، وليس عليه أن يحاول جاهدا رغم ذلك، لأن وسائل الإعلام الليبرالية السائدة في الغرب تقوم بعملها من أجلهم، ولخصت أروى مهداوي النفاق بشكل جيد جدا في مقال رأي في صحيفة الجارديان:

ووفقا لصحيفة واشنطن بوست في 6 أيار/مايو، قتل أربعة يهود، و23 فلسطينيا لقوا حتفهم، وذكرت شبكة سي إن إن أن 23 شخصا "لقوا حتفهم في غزة" بينما "في (إسرائيل)، قتل أربعة أشخاص". حياة الفلسطينيين غير مهمة، فإن وسائل الإعلام الأمريكية توضح ذلك في كل مرة تتحدث فيها عن الوفيات الفلسطينية، والتي تصفها بشكل روتيني سلبي أنها حوادث عشوائية.

ولإضافة المزيد من الإهانة إلى الإصابات، سترسل الدول الأوروبية مطربيها وراقصيها إلى تل أبيب خلال الاحتفالات الحادية والسبعين لتأسيس كيان يهود المجرم، بينما يواصل الفلسطينيون المحبوسون خلف جدران خرسانية بارتفاع 4 أمتار وأسلاك شائكة، الحداد بصمت، كل ما يمكنهم فعله هو الموت، لأنهم وعلى عكس يهود، فإن وسائل الإعلام العالمية نادرا ما تمنحهم حتى كرامة التعرض للقتل في تقاريرها، أما بالنسبة للتعويض، فإن الغرب لا يزال مشغولا جدا بالأخذ من العالم الإسلامي ليطلب من أي كان أن يعيد شيئا ما.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست