النظام في مصر يعتبر أهلها هم العدو ويوجه نحوهم سلاحه!
النظام في مصر يعتبر أهلها هم العدو ويوجه نحوهم سلاحه!

الخبر:   ذكرت صحيفة نيويورك تايمز الأمريكية في تقرير لها الخميس 2019/10/3م، أن الهجمات السيبرانية (الإلكترونية) التي تعرّض لها سياسيون ونشطاء وحقوقيون ومحامون وصحافيون وأكاديميون مصريون بارزون قبل سنوات كان مصدرها مكاتب تابعة للحكومة المصرية، نقلت الصحيفة على موقعها على الإنترنت نقلاً عن تقرير لشركة "تشيك بوينت سوفت وير تكنولوجيز" (Check Point Software Technologies)، وهي واحدة من أكبر شركات "الأمن السيبراني" في العالم، أن "الخادم المركزي المستخدم في الهجمات تم تسجيله باسم وزارة الاتصالات وتكنولوجيا المعلومات المصرية، وأن الإحداثيات الجغرافية الموجودة في أحد التطبيقات المستخدمة لتتبع النشطاء تتوافق مع موقع تابع للحكومة".

0:00 0:00
Speed:
October 09, 2019

النظام في مصر يعتبر أهلها هم العدو ويوجه نحوهم سلاحه!

النظام في مصر يعتبر أهلها هم العدو ويوجه نحوهم سلاحه!

الخبر:

ذكرت صحيفة نيويورك تايمز الأمريكية في تقرير لها الخميس 2019/10/3م، أن الهجمات السيبرانية (الإلكترونية) التي تعرّض لها سياسيون ونشطاء وحقوقيون ومحامون وصحافيون وأكاديميون مصريون بارزون قبل سنوات كان مصدرها مكاتب تابعة للحكومة المصرية، نقلت الصحيفة على موقعها على الإنترنت نقلاً عن تقرير لشركة "تشيك بوينت سوفت وير تكنولوجيز" (Check Point Software Technologies)، وهي واحدة من أكبر شركات "الأمن السيبراني" في العالم، أن "الخادم المركزي المستخدم في الهجمات تم تسجيله باسم وزارة الاتصالات وتكنولوجيا المعلومات المصرية، وأن الإحداثيات الجغرافية الموجودة في أحد التطبيقات المستخدمة لتتبع النشطاء تتوافق مع موقع تابع للحكومة".

التعليق:

لقد حول هذا النظام وأدواته مصر إلى معتقل كبير تحوطه حدود وأسلاك سايكس بيكو، فمن يعيشون في مصر الآن لا يأمنون في بيوتهم ولا أعمالهم ولا حتى أثناء سيرهم في الطرقات من مساءلة الأجهزة الأمنية للنظام التي تمنع الناس حتى من حق الكلمة ولا تسمح بوجود صوت لمعارض أو حتى منافس في العمالة، فلا صوت يعلو فوق صوت جوقة النظام طالما بقيت على الخط المرسوم، ومن يتجاوز ويخرج عن الإطار الذي حدده ورسمه السادة فمصيره معروف، وقد رأينا كيف انقلب رأس النظام على معاونيه ممن عارضوا قراراته... في النهاية فإن هذا النظام يرى في أهل مصر العدو الحقيقي الذي يهدد كيانه سواء على مستوى النظام نفسه أو على أدواته ومنفذيه، فأهل مصر كما يراهم بعينه هم بين صنفين؛ الأول منافس في العمالة يسعى لاستمرارية النظام الرأسمالي وتبعيته لأمريكا مع تغيير الوجوه، بما يسمح بخداع أهل مصر ولو لسنوات ريثما يلتقطون أنفاسهم ويعيدون استنساخ النظام مرة أخرى كما فعلوا سابقا بعد ثورة يناير 2011م، وأما الصنف الثاني وهو الأغلب فهم أهل الكنانة بطموحهم لتغيير حقيقي، وإن لم يملكوا طريقته ولو تباينت أفكارهم حول مرادهم من التغيير وكيفيته، إلا أنهم هم الرقم الصعب في المعادلة وهم حقيقة من يعول عليهم، فما يطمحون إليه مستحيل الحدوث في ظل أنظمة الغرب وأدواتها العميلة التي تحكم بلادنا بالحديد والنار، ومهما تغيرت الوجوه التي تنفذه فستظل أقنعتها تتساقط ويكشفها حراك الشعوب واحدا تلو الآخر، حتى يدرك الناس في النهاية أن طموحهم للتغيير والنهوض لن يكون بغير إسقاط النظام وحمل مشروع الإسلام الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، والغرب يدرك هذا جيدا أكثر من كثير من أبناء الأمة، وأدواته من الحكام العملاء يدركون هذا جيدا ويستغلونه لنيل رضا السادة وحظوتهم وتغاضيهم عن قمعهم وقهرهم للشعوب، ولعل هذا ما أشار إليه السيسي أثناء لقائه بترامب إبان وجوده في أمريكا لإلقاء خطاب مصر في الأمم المتحدة وتزامنا مع مظاهرات حاشدة للمطالبة برحيله عمت القاهرة ومحافظات مصر وتأكيده على أن الذي يهدد أمن واستقرار المنطقة هو الإسلام السياسي، نعم فأمن واستقرار المنطقة كما يراه السيسي وسيده ترامب هو خلوها من كل من يعتبرون الإسلام طريقة عيش، كما عبر عن ذلك بومبيو وزير خارجية ترامب سابقا في قلب القاهرة، وكأن السيسي يستجدي سيده البقاء في حكم مصر دون منافسيه في العمالة الداعمين للمقاول محمد علي صاحب دعوة التظاهر الأخيرة لرحيله، لكونه هو من يقف محاربا للإسلام وحائلا دون وصوله للحكم.

هذه هي حقيقة النظام وهو يعلنها دون مواربة، فهو يتبنى رؤية سادته وحربهم على الإسلام محاولين تشويه صورته ووصفه بـ(الإرهاب)، ولأنه كمم كل الأفواه بالقمع والقهر والقتل والاختطاف فلم يعد متنفس أمام الناس إلا ما يبثون من خلال مواقع التواصل فأراد مرارا وتكرارا غلق هذا الباب إما بالتجسس كما يفعل، أو بمحاولة سن القوانين التي تعاقب المدونين على تلك المواقع واختطاف واعتقال من يتمكن من الوصول إليه منهم حتى يبث الرعب في البقية فيمتنعوا. فالنظام ورأسه حقيقة لا يرى عدوا سواكم أنتم، فأنتم حقيقة من يهدد عرشه المعوج، برغبتكم في التغيير والانعتاق من التبعية والتي ستلجئكم حتما لحمل الإسلام بمشروعه الخلافة الراشدة على منهاج النبوة مهما حاول الغرب صرفكم عنه وتشويه صورته في أعينكم، فلا خيار أمامكم غيره مهما جربتم، وقد جربتم، فلا نجاة لكم ولا نجاح لحراك ثورتكم إلا به كاملا كما يحمله لكم ويضعه بين أيديكم حزب التحرير، وهذا يوجب حملكم له كمبدأ ومنهج حياة والسعي لاستئناف الحياة الإسلامية به من خلال الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وهذا يحتاج انحياز أبنائكم وإخوانكم المخلصين في جيش الكنانة ونصرتهم لهذا المشروع بتفاصيله التي كفاكم حزب التحرير مشقة البحث عنها واستنباطها، وتسليمهم الحكم للمخلصين القادرين على قيادتكم بالإسلام وتطبيقه عليكم وحمله بكم للعالم ليحق الله الحق بكلماته ويقطع دابر الرأسمالية ويخرج الناس من ظلماتها وجورها إلى عدل الإسلام الذي ليس فوقه عدل، واعلموا أن حمل الإسلام وتطبيقه مسؤوليتكم أمام الله وأنه لا نجاة لمصر ولا للأمة ولا للعالم الذي يكتوي بنيران الرأسمالية إلا به فاحملوه براءة لذمتكم أمام ربكم عسى أن يكتب النصر والفتح على أيديكم فتفوزوا فوزا عظيما، وستذكرون ما أقول لكم وأفوض أمري إلى الله والله بصير بالعباد.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست