النظام السعودي ينتهك حدود الله سبحانه وتعالى بفرضه ضريبة القيمة المضافة
النظام السعودي ينتهك حدود الله سبحانه وتعالى بفرضه ضريبة القيمة المضافة

الخبر: قال وزير المالية السعودي يوم الاثنين 2020/05/11، إن المملكة العربية السعودية ستضاعف معدل ضريبة القيمة المضافة بمقدار ثلاثة أضعاف وستعلق علاوة تكلفة المعيشة لموظفي الدولة، سعياً لدعم الموارد المالية التي تضررت بشدة من انخفاض أسعار النفط وفيروس كورونا. وقال وزير المالية محمد الجدعان في بيان نقلته الدولة "سيتم تعليق بدل المعيشة اعتباراً من 1 حزيران/يونيو 2020، وستزيد ضريبة القيمة المضافة إلى 15 بالمائة بعد أن كانت 5 بالمائة اعتباراً من 1 تموز/يوليو 2020". بحسب تصريحات وكالات إخبارية. (الجزيرة، 11 أيار/مايو 2020)

0:00 0:00
Speed:
May 22, 2020

النظام السعودي ينتهك حدود الله سبحانه وتعالى بفرضه ضريبة القيمة المضافة

النظام السعودي ينتهك حدود الله سبحانه وتعالى بفرضه ضريبة القيمة المضافة
(مترجم)


الخبر:


قال وزير المالية السعودي يوم الاثنين 2020/05/11، إن المملكة العربية السعودية ستضاعف معدل ضريبة القيمة المضافة بمقدار ثلاثة أضعاف وستعلق علاوة تكلفة المعيشة لموظفي الدولة، سعياً لدعم الموارد المالية التي تضررت بشدة من انخفاض أسعار النفط وفيروس كورونا. وقال وزير المالية محمد الجدعان في بيان نقلته الدولة "سيتم تعليق بدل المعيشة اعتباراً من 1 حزيران/يونيو 2020، وستزيد ضريبة القيمة المضافة إلى 15 بالمائة بعد أن كانت 5 بالمائة اعتباراً من 1 تموز/يوليو 2020". بحسب تصريحات وكالات إخبارية. (الجزيرة، 11 أيار/مايو 2020)

التعليق:


شهدت الدولة الغنية بالنفط انخفاضا في دخلها حيث أدى تأثير الوباء إلى انخفاض أسعار الطاقة العالمية. وأدخلت المملكة ضريبة القيمة المضافة لأول مرة منذ عامين كجزء من الجهود المبذولة لخفض اعتمادها على أسواق النفط الخام العالمية. تم تقديم بدل 1000 ريال (267 دولاراً) شهرياً لموظفي الدولة في عام 2018 للمساعدة في تعويض الأعباء المالية المتزايدة بما في ذلك ضريبة القيمة المضافة وارتفاع أسعار البنزين. جاء هذا الإعلان عن زيادة ضريبة القيمة المضافة من 5 إلى 15٪ بعد أن تجاوز الإنفاق الحكومي الدخل، مما دفع المملكة إلى عجز في الميزانية قدره 9 مليارات دولار في الأشهر الثلاثة الأولى من هذا العام.


ضريبة القيمة المضافة هي الضريبة التي سيتم فرضها على كل مستوى، من الشركة المصنعة والمزود وتاجر التجزئة والمستهلك والتي ستؤدي إلى زيادة في أسعار السلع والخدمات. إن هذه الزيادة في ضريبة القيمة المضافة غير فعالة في تقوية النظام الرأسمالي الإشكالي وحماية ثروة الحاكم الفاسد. إن الأغلبية ملزمة بدفع الضريبة من دمهم وعرقهم، من أجل راحة أقلية الأغنياء اليوم وغدا. السعودية، واحدة من أغنى البلاد بالنفط، وتحتكره الأسرة المالكة مع الإنفاق الفاخر وأسلوب الحياة الفريد من نوعه ما على الناس مسؤولية رعايتهم بما يدفعونه من ضرائب وغيرها من دخل الموارد الطبيعية التي يجب أن يعود ريعها للشعب. إن الإصلاح الاقتصادي السعودي الذي يتبع النظام الرأسمالي يخلق فجوة أخرى بين الفقراء والأغنياء.


تزيل السياسة المالية الإسلامية أشكال الضرائب المباشرة وغير المباشرة، مما يؤدي إلى النمو الاقتصادي. سيؤثر مستوى الضرائب في أي دولة على سلوك الناس، بما في ذلك اختياراتهم فيما يتعلق بأنماط العمل والادخار والاستثمار. خلقت الضرائب عددا من المشاكل في توزيع الثروة حيث يقع العبء بشكل كبير على الفقراء مع استخدام الأغنياء للثغرات والملاذات الضريبية. الإسلام له منظور مختلف تماماً عن الاقتصاد والضرائب حيث يختلف الأساس الإسلامي عن الرأسمالية.


الضرائب والرسوم غير المباشرة، بمسمياتها المختلفة، هي رسوم محرمة في الإسلام، لأنها استيلاء على أموال الناس بشكل غير شرعي، يقول النبي e: «لا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إلا عَنْ طِيبِ نَفْسٍ مِنْه».


أما الرسوم الجمركية فقد قال رسول الله e: «لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ».


أما ضريبة القيمة المضافة على السلع والتي تتسبب في ارتفاع سعرها فتحرم في الشريعة. يقول رسول الله e: «مَنْ دَخَلَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ لِيُغَلِّيَهُ عَلَيْهِمْ كَانَ حَقاً عَلَى الله أَنْ يُقْعِدَهُ بِعُظْمٍ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».


وكي تؤدي الدولة الواجب الذي فرضته عليها الشريعة، أعطت الشريعة للدولة سلطة تحصيل بعض الإيرادات؛ العائدات الثابتة لبيت المال وهي: "كل غنائم الحرب، والجزية، وضريبة الأرض العشر، والخراج، وخمس الكنز المدفون (الركاز)، وأملاك الدولة، وكذلك الضرائب الجمركية المأخوذة من المعاهدات والدول المحاربة، والأموال الناتجة عن الملكيات العامة، وميراث من لا وارث لهم، والأموال غير المشروعة المأخوذة من الولاة ومسؤولي الدولة، والأموال المكتسبة بشكل غير شرعي، وأموال الغرامات، وأموال المرتدين، والضرائب...". إن أموال بيت المال هي في الأساس أكثر من كافية لتغطية جميع هذه الواجبات.


ومع ذلك، يحق للدولة فرض الضرائب من أجل القيام بأي شيء تفرضه الشريعة على الأمة إذا كانت الأموال في بيت المال غير كافية لأن واجب الإنفاق حينها سيصبح على الأمة. ولا يحق للدولة أن تفرض ضريبة من أجل ما لا يجب على الأمة القيام به، فلا يجوز لها تحصيل رسوم للمحاكم أو الدوائر أو أداء أي خدمة.


يحرم على الدولة الإسلامية أن تأخذ من الأمة ما لا يجب على المسلمين، حتى من فائض ما لديهم! حتى لو لم يتبق شيء في خزينة بيت المال، فلا يجوز للدولة الاقتراض إلا من فائض أموال الأغنياء في الأمة، ومن أجل الواجب الذي تفرضه الشريعة على الأمة وبيت المال. وعند هذه الحالة فقط، حيث لم يتبق شيء في خزينة الدولة، يُسمح للدولة بأخذ المبلغ المطلوب لبيت المال ولا شيء آخر. لذا، قبل أن تطلب من الأثرياء من الأمة دعمها، على الدولة أن تستخدم كل درهم في بيت المال.


اقترح علي بن أبي طالب على عمر بن الخطاب رضي الله عنهما ألا يبقي شيئا في بيت المال فقال له: "قسم كل ما في بيت المال ولا تبقي منه شيئا" رواه ابن سعد عن الواقدي.


وقد روي أن عليا رضي الله عنه كان لا يبقي دينارا في بيت المال ويصلي ركعتين لله بعد أن يُفرغه.


إن المخرج من السياسات الضريبية الظالمة يبدأ بالعودة إلى الإسلام، وأخذ العلاجات من أحكامه، بحيث تستند عائدات ونفقات الدولة إلى الشريعة، التي تُخضع الناس لرب العالمين. الحل الوحيد هو التغيير على أساس الإسلام، وهو واجب في أعناقنا، الانخراط في العمل الجاد لتطبيق شريعة الله، عبر إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، التي تأخذ المال بحقه الشرعي وتصرفه كما أمرت الشريعة. وتضطلع بواجب رعاية الأمة، وعدم فرض الضرائب والعادات، وعدم تشديد المعيشة على الناس، بل تزويدهم بالطعام والملابس والسكن وكل ما يتعلق بحق رعاية شؤون الناس.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
حميد بن أحمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست