النزاع البحري بين كينيا والصومال: نزاع استعماري لتأمين مصالح الغرب (مترجم)
النزاع البحري بين كينيا والصومال: نزاع استعماري لتأمين مصالح الغرب (مترجم)

الخبر:   تصاعد الخلاف حول منطقة بحرية إقليمية في المحيط الهندي بين كينيا والصومال بعد أن قررت نيروبي قطع العلاقات الدبلوماسية مع مقديشو بسبب مزاعم بأن هذه الأخيرة قامت ببيع كتل نفطية تقع في منطقة حدودية متنازع عليها. في قلب النزاع يوجد مثلث ضيق على المحيط الهندي يبلغ 62 ألف ميل مربع. (standardmedia.co.ke)

0:00 0:00
Speed:
March 04, 2019

النزاع البحري بين كينيا والصومال: نزاع استعماري لتأمين مصالح الغرب (مترجم)

النزاع البحري بين كينيا والصومال:

نزاع استعماري لتأمين مصالح الغرب

(مترجم)

الخبر:

تصاعد الخلاف حول منطقة بحرية إقليمية في المحيط الهندي بين كينيا والصومال بعد أن قررت نيروبي قطع العلاقات الدبلوماسية مع مقديشو بسبب مزاعم بأن هذه الأخيرة قامت ببيع كتل نفطية تقع في منطقة حدودية متنازع عليها. في قلب النزاع يوجد مثلث ضيق على المحيط الهندي يبلغ 62 ألف ميل مربع. (standardmedia.co.ke)

التعليق:

نظام الحكومة الفيدرالية الصومالية التي مقرها في مقديشو ويقودها محمد عبد الله محمد "فارماجو" هو نظام موالٍ لأمريكا. منذ أن تولى فارماجو السلطة في 16 شباط/فبراير 2017، ظل نظامه يواجه العداء من الولايات الإقليمية الفيدرالية الموالية لبريطانيا في الصومال التي يقودها أحمد محمد إسلام "الشيخ أحمد مادوبي" الذي هو رئيس ولاية جوبالاند الصومالية وعاصمتها كيسمايو. نظم الزعماء الإقليميون الموالون لبريطانيا اجتماعهم الأول في تشرين الأول/أكتوبر 2017 واجتماعهم الثاني في أيلول/سبتمبر 2018 والذي حضره الرؤساء: عبد الوالي محمد علي غاس (بونتلاند)، وأحمد دوالي غيل (غالمودوغ)، ومحمد عبدي وير (هيرشابيل)، وشريف حسن الشيخ عدن (الولاية الجنوبية الغربية) والشيخ أحمد مدوب من جوبالاند الذي استضاف الاجتماع. إن المشاعر المشتركة في كلا الاجتماعين دعت القادة إلى تعليق التعاون بين الولايات الإقليمية والمركز (مقديشو) بحجة عدم قدرة الرئيس فارماجو على محاربة الشباب وتدخله المستمر في الشؤون الداخلية للولايات الفيدرالية. كان الشيخ أحمد مادوبي حاكم كيسمايو منذ عام 2006 في ظل محاكم الاتحاد الإسلامي قبل أن يقوم الاحتلال الإثيوبي الموالي لأمريكا بحل اتحاد المحاكم الإسلامية.

النظام في كينيا هو نظام موالٍ لبريطانيا ودخل الصومال لتأمين مصالح أسياده. ومن ثم، قامت قوات الدفاع الكينية (KDF) في 16 تشرين الأول/أكتوبر 2011 تحت ذريعة "مكافحة الإرهاب" باجتياح الأراضي الصومالية وخاضت إلى جانب الشيخ أحمد مادوبي الذي كان يقود لواء رأس كامبوني، وهو مجموعة شبه عسكرية كانت سابقاً تابعة لحركة رأس كامبوني. وحرروا معاً كيسمايو وهم الآن تحت قيادة مادوبي رئيساً لدولة جوبالاند الصومالية. تقع المنطقة الغنية بالنفط المتنازع عليها على حدود ولاية جوبالاند الصومالية.

أطلقت الحكومة الفيدرالية الصومالية الموالية لأمريكا عندما أدركت الخطر الذي يشكله رؤساء الولايات الإقليمية الموالية لبريطانيا بقيادة الشيخ أحمد مادوبي، حملة واسعة لتبديل القادة الإقليميين. وبالتالي، أدت مؤامراتهم إلى استبدال شريف حسن شيخ عدن (الولاية الجنوبية الغربية) مع عبد العزيز حسن محمد، وزير سابق للحكومة الفيدرالية للطاقة والموارد المائية، وفاز في الانتخابات يوم الأربعاء، 19 كانون الأول/ديسمبر 2018. عبد الولي محمد علي غاس (بونتلاند) استبدل به سعيد عبد الله دني، وزير سابق في الحكومة الفدرالية للتخطيط وفاز في الانتخابات يوم الثلاثاء، 8 كانون الثاني/يناير 2019. إن نتائج الانتخابات لبقية الأعضاء الفيدراليين المتبقين في هيرشابيل وجوبالاند وجالموودج غير معروفة لكن يبدو أن القيادة الإقليمية قلقة إلى حدٍ ما حيث في تشرين الأول/أكتوبر 2018 أعلن محمد عبدي وير (هيرشابيلي) أنه سيتعاون مع الحكومة المركزية (مقديشو) ومع معركة الانتخابات القادمة في جوبالاند في آب/أغسطس 2019 حيث يواجه الشيخ أحمد مادوبي تنازلات عن الحكومة المركزية!

نتيجة للأسباب المذكورة أعلاه، يتبين بأن أحداث هالاتابالو البحرية بين كينيا والصومال ليست سوى وسيلة للتحايل السياسي بين الدول المستعمرة التي تتعارض مع بعضها البعض وفقا لمطالب أسيادهم الاستعمارية الغربية التي تهدف إلى تأمين مصالحهم. حذرت الصومال كينيا من استضافة مؤتمر النفط الصومالي في لندن في 7 شباط/فبراير 2019. كينيا من ناحية أخرى، ردت بقسوة على التهديد الموجه لمصالح سيدها في الصومال ولا سيما في ولاية جوبالاند. ما يعني أن الانتخابات المقبلة في آب/أغسطس 2019 في جوبالاند تشكل تهديداً مباشراً لبريطانيا.

تخضع كل من كينيا والصومال لأيديولوجية رأسمالية علمانية غير صالحة وأنظمتها نتنة بما في ذلك الديمقراطية. أيديولوجية شريرة تهتم فقط بالنهب الواسع للموارد من قبل الشركات متعددة الجنسيات الغربية وتحيل الناس لظروف الفقر المدقع! علاوة على ذلك، الصومال أرض إسلامية كانت معظم مدنها الحديثة مثل مقديشو تحت خلافة عبد الملك بن مروان. في عام 1875، استولى المسلمون على كيسمايو ووضعت تحت الخلافة العثمانية وحكمها السلطان عبد العزيز بن محمود الثاني وانضمت إلى ولاية مصر تحت حكم الوالي إسماعيل باشا.

الحل الأكثر جذرية للنزاع البحري لقيادة البلدين المذكورين ولا سيما الصومال حيث إنه بلد إسلامي هو قطع العلاقات الدولية واحتضان الدعوة لاستئناف الحياة الإسلامية من خلال إقامة الخلافة على منهاج النبوة. الخلافة لا تعترف بالحدود الاستعمارية التي تهدف إلى تعزيز الصراع بين البشر من خلال إثارة القومية! وفي الوقت نفسه، يتم توزيع الموارد بشكل عادل بين الرعايا الخاضعين للخلافة لضمان تلبية الحاجات الأساسية للفرد والمجتمع وكذلك الحاجات الكمالية للأفراد بشكل كافٍ في حدود إمكانياتها. أما بالنسبة لكينيا، فهي دولة غير إسلامية، يجب عليها إعادة النظر في الإسلام على أنه مبدأ، ودراسته ومقارنته بملاحظاتها الخالية من التفسير الغربي للإسلام. فقط في ظل الخلافة ستتمتع كينيا والصومال وأفريقيا والعالم بأسره بالهدوء الحقيقي والتنمية والازدهار بفضل التطبيق الشامل للشريعة الإسلامية (القرآن والسنة) تحت حكم خليفة يحكم بالإسلام فقط.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

علي ناصورو علي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست