المزيد من الانتهاكات بحق الأبرياء في الأرض المباركة - فلسطين (مترجم)
المزيد من الانتهاكات بحق الأبرياء في الأرض المباركة - فلسطين (مترجم)

الخبر:   سلسلة غير مرتبطة من أعمال قتل للرجال والأطفال من أهل فلسطين في العديد من قرى فلسطين. حيث أصيب فلسطيني في هجوم استهدفت فيه قوات يهود سيارة الضحية، حسبما أفادت وكالة الأنباء والإعلام الفلسطينية "وفا". قالوا إنهم "فتحوا النار على سيارة مشبوهة بعد أن فشل السائق الذي كان في القدس بدون تصريح في التوقف". وذكرت الوكالة أن الضحية هو رياض محمد شماسنة من قطنة، وهي قرية تقع شمال غرب القدس. (برس تي في، 2019/01/25)

0:00 0:00
Speed:
January 30, 2019

المزيد من الانتهاكات بحق الأبرياء في الأرض المباركة - فلسطين (مترجم)

المزيد من الانتهاكات بحق الأبرياء في الأرض المباركة - فلسطين

(مترجم)

الخبر:

سلسلة غير مرتبطة من أعمال قتل للرجال والأطفال من أهل فلسطين في العديد من قرى فلسطين. حيث أصيب فلسطيني في هجوم استهدفت فيه قوات يهود سيارة الضحية، حسبما أفادت وكالة الأنباء والإعلام الفلسطينية "وفا". قالوا إنهم "فتحوا النار على سيارة مشبوهة بعد أن فشل السائق الذي كان في القدس بدون تصريح في التوقف". وذكرت الوكالة أن الضحية هو رياض محمد شماسنة من قطنة، وهي قرية تقع شمال غرب القدس. (برس تي في، 2019/01/25)

يوم الجمعة، أطلقت قوات يهود النار على رجل آخر، وهو حمدي سعادة نعسان، 38 سنة، وهو أب لأربعة أطفال من قرية المغير. (وكالة معا، 2019/01/26)

كما ذكر تقرير هذا الأسبوع: كيان يهود قتل ما لا يقل عن 45 طفلاً فلسطينياً في غزة. تم تقديم التقرير إلى لجنة الأمم المتحدة للتحقيق بشأن الاحتجاجات في عام 2018 في الأرض الفلسطينية المحتلة، والتي تم إنشاؤها خلال جلسة خاصة لمجلس حقوق الإنسان التابع للأمم المتحدة في أيار/مايو 2018.

ويشير التقرير إلى أنه من بين 56 طفلاً فلسطينياً قُتلوا على أيدي قوات يهود والمستوطنين في الأراضي الفلسطينية المحتلة خلال عام 2018، قُتل ما مجموعه 45 طفلاً في قطاع غزة منذ 30 آذار/مارس، وفقاً للأدلة التي جمعتها الحركة العالمية للدفاع عن حقوق الأطفال. في الأغلبية الساحقة من الحالات، تمكنت الحركة العالمية للدفاع عن حقوق الأطفال من التأكد من أن الأطفال لم يشكلوا أي تهديد وشيك أو تهديد بالإصابة الخطيرة عند قتلهم من قوات يهود. (وكالة معا، 2019/01/19)

بالتنازل عن تهمة القتل في قتل الفلسطينيين، يفشل كيان يهود في ردع الإرهاب اليهودي القادم. (هآرتس). هذا ردا على الحكم على القاتل المراهق لعائشة رابي من بديا التي قتلت بوحشية على أيدي المستوطنين اليهود.

التعليق:

أدان الرئيس الفلسطيني محمود عباس عملية القتل، وقال في بيان نشرته وكالة الأنباء الرسمية "وفا": "إن الحكومة (الإسرائيلية) تواصل سياسة التصعيد". (الجارديان)

يجرؤ عباس على وصفه بـ"التصعيد" بدلاً مما هو عليه… جريمة قتل!

على وسائل التواصل، يظهر شريط فيديو عن أحد أقرباء الشهيد (نعسان) وهو يصرخ إلى الصحافة قائلاً إنه لا فائدة من العرب ولا يتوقّع أي دعم منهم - التعبير المجهد عن الأنظمة غير المجدية - هذا الإحباط وكسر الروح من شأنه أن يضع أولئك الذين لديهم ميداليات لامعة معلقة على صدورهم وأكتافهم في عار عميق لترك هذا الرجل والملايين من الأشخاص الضعفاء الآخرين الذين يحتاجون أولئك الناس أصحاب القوة لأداء واجبهم وعدم البقاء خاملين في ثكناتهم يلمعون أحذيتهم. أخرجوا كتب السيرة وقصص الحكام والقادة الصالحين لاستلهام بطولة حقيقية تنبثق من الحكمة العميقة للالتزام بالإسلام الذي يربط الجانب الروحي بالأفعال المادية للطاعة الحقيقية لله سبحانه وتعالى.

إلى أهل القوة: لا تخذلوا أما أو أبا آخر ليدفنوا أطفالهم مرارا وتكرارا، مغادرة روح أخرى إلى السماء تعيد إليهم ألم الحزن على رحيل أحبائهم لأنهم يعرفون ما هي التجارب الأخرى لوجع القلب وعدم وجود عدالة على الإطلاق.

عند الاعتداء لا بد من الانتقام من خلال الاستجابة السريعة للجيش نحو العدو وفي حالة الأرض المباركة - فلسطين، كيان يهود هو العدو المحارب ولا يوجد خيار آخر لقلعه إلا من خلال الحرب... ليس من خلال المفاوضات ولا وكالات حقوق الإنسان، ولا التغطية الإعلامية الوضيعة، ولا الإدانة الباردة من رئيس السلطة الفلسطينية. ضعوا حدا للاحتلال الذي دام لعقود... الذي غمر الأرض المباركة بدماء الأبرياء... الأرض تصرخ من أجل الماء ليس من أجل الدم الثمين الذي سفكه يهود المحتلون. لا يمكن للفاكهة والخضرة أن تنمو من الدم، لكن الأجيال يمكن أن ترتفع وتحيا من خلال تعبئة جيوش المسلمين لتحرير أرض فلسطين المباركة، مما يرسل إشارة قوية بأن بقية الأراضي المحتلة ستكون التالية.

إلى الأمهات والآباء الذين يدفنون أطفالهم، ابقوا أقوياء واعلموا أن جرائم قتل أحبائكم لن تذهب دون رد. أرواحهم سوف تنعم بإذن الله في سلام جنات النعيم، ونسأل الشفاء لأهلهم وأحبائهم. إن شاء الله سيكونون مصدر إلهام للشباب لاتخاذ موقف مشرف ورفض حالة الاضطهاد والاحتلال الحالية، والانضمام إلى الذين يعملون بجد من أجل إقامة العدالة إلى جانب صفوف حزب التحرير.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

منال بدر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست