المسلمات لا يحتجن إلى ذكرى سنوية للفشل العالمي في حل مشاكل المرأة بل يحتجن إلى الخلافة التي ستكون درعهن وحاميتهن
المسلمات لا يحتجن إلى ذكرى سنوية للفشل العالمي في حل مشاكل المرأة بل يحتجن إلى الخلافة التي ستكون درعهن وحاميتهن

الخبر: تم الاحتفال باليوم العالمي للمرأة، في الثامن من آذار/مارس، بالاحتفالات السنوية المعتادة والتجمعات والاحتجاجات في بلدان في جميع أنحاء العالم، بما في ذلك البلاد الإسلامية للاعتراف بالإنجازات التي حققتها المرأة في جميع أنحاء العالم، وكذلك الدعوة إلى العمل لتعزيز قضية المساواة بين الجنسين داخل المجتمعات وحماية المرأة وتحسين حقوقها ونوعية الحياة.

0:00 0:00
Speed:
March 12, 2020

المسلمات لا يحتجن إلى ذكرى سنوية للفشل العالمي في حل مشاكل المرأة بل يحتجن إلى الخلافة التي ستكون درعهن وحاميتهن

المسلمات لا يحتجن إلى ذكرى سنوية للفشل العالمي في حل مشاكل المرأة
بل يحتجن إلى الخلافة التي ستكون درعهن وحاميتهن
(مترجم)


الخبر:


تم الاحتفال باليوم العالمي للمرأة، في الثامن من آذار/مارس، بالاحتفالات السنوية المعتادة والتجمعات والاحتجاجات في بلدان في جميع أنحاء العالم، بما في ذلك البلاد الإسلامية للاعتراف بالإنجازات التي حققتها المرأة في جميع أنحاء العالم، وكذلك الدعوة إلى العمل لتعزيز قضية المساواة بين الجنسين داخل المجتمعات وحماية المرأة وتحسين حقوقها ونوعية الحياة. كان موضوع عام 2020 هو "الكل من أجل المساواة" الذي دعا إلى العمل الجماعي لتحقيق المساواة بين الجنسين في الحكومات وأماكن العمل والرياضة والتغطية الإعلامية بالإضافة إلى القطاعات الأخرى داخل الدول. كان موضوع الأمم المتحدة للاحتفال باليوم العالمي للمرأة هذا العام هو "أنا جيل المساواة: إعمال حقوق المرأة"، وهو جزء من الحملة العالمية التي أطلقتها نساء الأمم المتحدة في عام 2020 بهدف تحفيز جيل جديد من النساء داخل الدول في جميع أنحاء العالم، بما في ذلك البلاد الإسلامية، من أجل الدعوة إلى المساواة بين الجنسين داخل دولهم.

التعليق:


يتم تقديم مفهوم "المساواة بين الجنسين" الذي يدعو إلى المساواة في الحقوق والأدوار والمسؤوليات بين الرجل والمرأة في الحياة الأسرية والمجتمع، كنوع من الوصفة السحرية التي يجب على الدول والأفراد تناولها لتحسين محنة ونوعية الحياة، وحماية حقوق المرأة. ومع ذلك، لم تحقق المساواة بين الجنسين والسياسات النسوية شيئاً يذكر في تقليل حجم العنف الذي تواجهه النساء داخل مجتمعاتهن، أو في رفع معاناتهن الاقتصادية أو حالة القمع.


ففي بلدان مثل تونس وتركيا على سبيل المثال، والتي يُشاد بها كرمز في تشريعات المساواة بين الجنسين في البلاد الإسلامية، فإن مستوى العنف الموجه ضد المرأة وصل مستويات مروعة. وفقاً لإحصائيات عام 2016 الصادرة عن وزارة المرأة والأسرة والطفولة في تونس، فإن 60٪ من النساء في البلاد يتعرضن للعنف المنزلي، بينما في تركيا، وفقاً لوزارة العدل التركية، من عام 2003 إلى عام 2014، كانت هناك زيادة بنسبة 1.400 في المائة في عدد جرائم قتل النساء.


علاوة على ذلك، ما الذي قامت به بالضبط قوانين المساواة بين الجنسين واتفاقات المرأة مثل منهاج عمل بيجين واتفاقية القضاء على جميع أشكال التمييز ضد المرأة لحماية عشرات الآلاف من النساء في سوريا اللائي ذبحهن الجزارَان الأسد وبوتين؛ أو لتوفير ملاذ كريم لملايين اللاجئات من الحرب اللائي يعشنها في مخيمات غير إنسانية؛ أو لحماية الآلاف من النساء والفتيات المسلمات من الروهينجا والإيغور المضطهدات وكذلك في فلسطين وكشمير وأفريقيا الوسطى وأماكن أخرى ممن تعرضن للتعذيب والعنف والإساءة والقتل على أيدي مضطهديهم ومحتليهم؟ وكيف أدت سياسات المساواة هذه إلى رفع الفقر الذي تعاني منه ملايين النساء في بلاد الشرق والغرب؟ وفقاً للبنك الدولي، ما زال نصف سكان العالم تقريباً - 3.4 مليار نسمة - يكافحون من أجل تلبية الاحتياجات الأساسية، بينما في بريطانيا، وهي إحدى الدول التي نشأت فيها الدعوة للمساواة بين الجنسين منذ أكثر من قرنين من الزمان، 45٪ من الوالدين الوحيدين - 90٪ منهم من النساء - يعيشون في فقر (وفقا لوزارة العمل والمعاشات التقاعدية التابعة لحكومة المملكة المتحدة). وما الذي قامت به الهيئات الدولية والمنظمات النسائية وحكومتا باكستان وأفغانستان في تنفيذ جداول أعمال المساواة بين الجنسين والمساواة بين الجنسين لتحسين الفرص التعليمية للأعداد الكبيرة من النساء والفتيات في هذه البلدان؟ في أفغانستان اليوم، 40٪ من جميع المدارس في البلاد ليس لديها مبان، ما يقدر بثلثي الفتيات الأفغانيات لا يذهبن إلى المدرسة (هيومن رايتس ووتش، 2017) و84٪ من النساء في البلاد أميات (وسط أفغانستان هيئة الإحصاء، 2017).


في الحقيقة، لم تكن المساواة بين الجنسين سوى دواء لتخدير الحواس بعيداً عن إدراك أنه النظام الرأسمالي بمُثُل وقيم العلمانية والليبرالية، فضلاً عن الأيديولوجيات والأنظمة الأخرى التي وضعها الإنسان والتي تُطبق على البلاد، والتي تحمل المسؤولية الأولى عن الظلم والعنف والجرائم الأخرى التي تُرتكب ضد المرأة على المستوى الدولي. ويشمل ذلك تأجيج الدول الرأسمالية الحروب من أجل الربح ودعمها للديكتاتوريات التي تقوم بتقديم عطاءاتها، بغض النظر عن اضطهاد الرجال والنساء الذين يحكمونهم. وبالتالي، صرفت الحركات النسائية وقت وجهود النساء في معارك عقيمة فشلت حتى في تخفيف حجم المشكلات التي تواجههن.


في الحقيقة، لا يوجد أي ارتباط بين حجم قوانين وسياسات المساواة بين الجنسين المطبقة داخل الدول ونوعية حياة النساء. ومع ذلك، هناك علاقة مؤكدة بين السنوات التي انقضت منذ فقدان دولة الخلافة وحجم الشدة والمعاناة والبؤس التي تؤثر على النساء في البلاد الإسلامية والنساء المسلمات في جميع أنحاء العالم. يوافق رجب هذا 99 عاماً بحسب التقويم الهجري الذي مر على هدم هذه الدولة المجيدة، نظام الحكم الذي أنزله لنا الله سبحانه وتعالى. كانت هذه الكارثة هي ما بدأ أحلك فصل في تاريخ هذه الأمة، الذي كانت فيه النساء والأطفال أكبر الضحايا، لأننا فقدنا دولة وقفت كحامية ودرع لكرامتنا وحقوقنا ورفاهنا كنساء. قال النبي e: «الإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ». لقد فقدنا دولة أوجدت الرخاء في بلادنا، وضمنت لنا أن نتمتع دائماً بنوعية حياة جيدة؛ دولة أنشأت أنظمة تعليم ورعاية صحية من الدرجة الأولى استفاد منها الرجال والنساء استفادة كبيرة؛ ونظام لم يكن لديه أي تسامح مع أي شكل من أشكال العنف أو الأذى للمرأة، بل وجيش الجيوش للدفاع عن شرفها. لذلك، ينبغي توجيه تركيزنا ووقتنا وجهودنا بوصفنا نساء مسلمات نحو إقامة الخلافة على منهاج النبوة، لأنها أمر من ربنا سبحانه وتعالى ولأنه لن يتحقق أي تغيير حقيقي من أجل بلادنا، وهذا العالم وحياتنا كنساء دون عودتها.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
د. نسرين نواز
مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

#أقيموا_الخلافة
#ReturnTheKhilafah
#YenidenHilafet

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست