الله أكبر! تكبيرات الصلاة والنداء للصلاة تظهر العنصرية في السياسة الدنماركية
الله أكبر! تكبيرات الصلاة والنداء للصلاة تظهر العنصرية في السياسة الدنماركية

الخبر: في حدث وقع خلال شهر رمضان، اجتمع مسجد وكنيسة لحدث في حديقة، حيث ترن أجراس الكنيسة ويدعى للصلاة (الأذان) كجزء من الحدث. وفي وقت لاحق تم رفع إدانة من القاعة البرلمانية واقترح في الآونة الأخيرة مطالبات بحظر الأذان، على الرغم من عدم رفع أي مسجد للأذان في الدنمارك. وقد أوضحت الحكومة منذ ذلك الحين أنها تحتقر الدعوة الإسلامية للصلاة، ويقول وزير الاندماج إنه يعتبرها "صرخة معركة تندلع فوق أسطح المنازل عند نزولهم لشراء حلوى الجمعة". تريد الحكومة أن يحظرها أئمة ورواد المساجد أنفسهم، لكنها مستعدة لحظرها بموجب القانون.

0:00 0:00
Speed:
July 12, 2020

الله أكبر! تكبيرات الصلاة والنداء للصلاة تظهر العنصرية في السياسة الدنماركية

الله أكبر! تكبيرات الصلاة والنداء للصلاة تظهر العنصرية في السياسة الدنماركية

(مترجم)

الخبر:

في حدث وقع خلال شهر رمضان، اجتمع مسجد وكنيسة لحدث في حديقة، حيث ترن أجراس الكنيسة ويدعى للصلاة (الأذان) كجزء من الحدث. وفي وقت لاحق تم رفع إدانة من القاعة البرلمانية واقترح في الآونة الأخيرة مطالبات بحظر الأذان، على الرغم من عدم رفع أي مسجد للأذان في الدنمارك. وقد أوضحت الحكومة منذ ذلك الحين أنها تحتقر الدعوة الإسلامية للصلاة، ويقول وزير الاندماج إنه يعتبرها "صرخة معركة تندلع فوق أسطح المنازل عند نزولهم لشراء حلوى الجمعة". تريد الحكومة أن يحظرها أئمة ورواد المساجد أنفسهم، لكنها مستعدة لحظرها بموجب القانون.

التعليق:

لا تعتبر الدعوة إلى الحرية والديمقراطية "صرخة معركة"، على الرغم من أن السياسيين الدنماركيين استخدموا هذه العبارات لإضفاء الشرعية على إرسال الجنود إلى الخارج وقصف الشرق الأوسط.

في المقابل، الأذان الذي يدعو المسلمين للصلاة وذكر الله سبحانه وتعالى، يفهم على أنه صرخة للمعركة والقتال. هذا الأذان الذي ينقضي في غضون ثوان، من بدايته حتى نهايته، يمكن أن يجعل الآلاف وحتى الملايين يقفون جنباً إلى جنب، بكل تفانٍ وتواضع للصلاة لله سبحانه وتعالى.

هذا الأذان الذي يجمع المسلمين، بغض النظر عن العرق والجنسية واللغة والثقافة والطبقة المجتمعية، في مجتمع واحد حيث جميعهم متساوون أمام الله تعالى وحيث إنهم جميعاً كالجسد الواحد، ينحني وينهض في وقت واحد.

يا وزير الاندماج، أم علينا أن ندعوك بوزير العنصرية؟ - إنه مجرد أذان وليس استدعاء أو صرخة معركة. إنها العنصرية بحد ذاتها هي التي تدعوك للحط من قدر السكان واحتقارهم بسبب دعوتهم الإسلامية! إنه انتهاك صارخ لما يسمى بالفقرة 266 ب، إن قرارك لا يمكن اعتباره إلا حكماً عنصرياً ضدك، ويؤكد فقط أن المساواة أمام القانون هي أسطورة في الدنمارك اليوم.

في هذه الأيام وخلال هذه السنوات، يتم خوض صراع من أجل القيم في الدنمارك، فمن جهة هنالك سياسيون ووزراء من اليمين إلى اليسار، ومن ناحية أخرى هنالك مسلمون يتمسكون بالإسلام. المنتصر هو الذي نجح في مجابهته لقيم الحزب المعارض أن يحافظ على قيمه الخاصة، دون المساس بها أو تشويهها أو دوسها. هذا لأنه لا يمكن للمرء أن يتفوق على القيم الأخرى عن طريق ليّ القيم الخاصة به.

لكن الحقيقة هي أن السياسيين الدنماركيين هم أبطال العالم في دوس قيمهم الخاصة عند الصدام مع الإسلام، ويلجأون إلى تعقيدات مأساوية، حتى لا يواجهوا تعقيدات قانونية في هوس الحظر. في معظم الأحيان بدون أي أساس على الإطلاق للحظر، حيث لا يوجد أي مسجد يقوم برفع الأذان! ووصفوا الحظر المفروض على البرقع بأنه حظر على إخفاء الهوية، على الرغم من أن تحقيقات الحكومة الخاصة تظهر أن ثلاث نساء فقط يرتدين النقاب في الدنمارك! يسمون الحظر المفروض على ما يسمى محاكم الشريعة حظراً على المحاكم الموازية، على الرغم من أن تقريراً، بأمر من الحكومة، ينص على أنه لا يوجد شيء مثل المحاكم الشرعية في الدنمارك! والآن، يتم حظر الأذان في إطار حظر الدعوات للصلاة التي تتم عن طريق مكبرات الصوت.

من السهل الحظر، ولكن من الصعب إقناع المسلمين بالقيم العلمانية. لقد أدرك السياسيون ذلك، ولهذا يستخدمون القوة والقانون ضد المسلمين، لإجبارهم على نبذ إسلامهم، حتى إذا اضطر السياسيون إلى دفن قيمهم الخاصة في هذه العملية والانغماس في اللعب بالكلمات.

لذا فإن المسلمين ليسوا عدائيين إذا شاركوا في صراع القيم، لأن الكفاح مستمر بالفعل وتم رسم الخطوط. لقد حان الوقت للمسلمين للانضمام إلى صراع القيم، ورفع النقاش، والتحدي في مطالباتهم وقول الأشياء كما هي.

إن الإسلام، كان وسيظل، هو المعتقدات الصحيحة والقيم المتفوقة، ومن خلال جهود المسلمين الذين يعيشون في البلاد، يدرك الشعب الدنماركي أن الإسلام هو الخلاص والرحمة للبشرية جمعاء.

قال الله سبحانه وتعالى: ﴿أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىَ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إبراهيم أطرش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست