الخلافة هي التي ستوحّد جيوش المسلمين للقضاء على كيان يهود
الخلافة هي التي ستوحّد جيوش المسلمين للقضاء على كيان يهود

  الخبر: ذكرت قناة الجزيرة في 6 تموز/يوليو 2020م أن كيان يهود قال إنه شن غارات جوية جديدة على قطاع غزة رداً على ثلاثة صواريخ مزعومة أُطلقت من قطاع غزة المحاصر. ولم ترد أنباء عن وقوع خسائر في الهجمات التي وقعت وسط توترات متزايدة بشأن خطة كيان يهود التي تم انتقادها على نطاق واسع لضم أجزاء من الضفة الغربية المحتلة. وفي الأيام الطويلة منذ الهجمات، لم يكن هناك أي رد من حكام المسلمين، بما في ذلك حكام باكستان، وجيشها المصنف بسادس جيش في العالم.

0:00 0:00
Speed:
July 16, 2020

الخلافة هي التي ستوحّد جيوش المسلمين للقضاء على كيان يهود

الخلافة هي التي ستوحّد جيوش المسلمين للقضاء على كيان يهود
(مترجم)


الخبر:


ذكرت قناة الجزيرة في 6 تموز/يوليو 2020م أن كيان يهود قال إنه شن غارات جوية جديدة على قطاع غزة رداً على ثلاثة صواريخ مزعومة أُطلقت من قطاع غزة المحاصر. ولم ترد أنباء عن وقوع خسائر في الهجمات التي وقعت وسط توترات متزايدة بشأن خطة كيان يهود التي تم انتقادها على نطاق واسع لضم أجزاء من الضفة الغربية المحتلة. وفي الأيام الطويلة منذ الهجمات، لم يكن هناك أي رد من حكام المسلمين، بما في ذلك حكام باكستان، وجيشها المصنف بسادس جيش في العالم.

التعليق:


قلوبنا تنزف من أجل إخواننا وأخواتنا في غزة؛ غزة المحاطة بالعديد من الدول العربية. تم التخلي عن فلسطين لأن حكام المسلمين اليوم مشغولون بجعل هذه الدنيا جنة لأنفسهم. تحت سيطرة الحكام، يقوم كيان يهود بعمليات لتعزيز سيطرته على فلسطين. تحت أنوف الحكام، يقوم غير المسلمين اليوم في أنحاء مختلفة من العالم بقمع إخواننا وأخواتنا المسلمين، سواء أكانوا من الهندوس في كشمير أم الروس في سوريا أم اليهود في فلسطين... الخ، وينتظر مسلمو فلسطين جيوش المسلمين لتحريرهم من كيان يهود المجرم. ومع ذلك، فإننا مخطئون إذا اعتقدنا أن الحكام الحاليين للأنظمة الكافرة سوف يحشدون قواتنا المسلحة. فبدلاً من جمع ملايين القوات التي تمتلكها الأمة الآن لتحرير المسجد الأقصى، فإنها تبقيهم مقسمين إلى أكثر من خمسين دويلة.


من الواضح أن الطريقة الوحيدة لتحرير جميع البلاد التي احتلها الكفار، سواء أكانت كشمير أو فلسطين، إنما هي بإقامة الخلافة على منهاج النبوة وإعلان الجهاد ضد الكافر المحتل. قال الله سبحانه وتعالى: ﴿وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ﴾ سورة البقرة. هذه الآية الكريمة تخاطب كل المسلمين أينما كانوا، حيث يأمرهم الله سبحانه وتعالى بمحاربة الكفار الذين يطردونهم من ديارهم. ويقع الواجب على أولئك القادرين على القتال. وهكذا، على الجيوش المسلمين، سواء أكانوا في مصر أو باكستان أو إندونيسيا، أن يحشدوا من أجل تحرير فلسطين كلها.


في الواقع، طوال فترة تطبيق الحكم بما أنزل الله سبحانه وتعالى، اجتمعت جيوش المسلمين من مختلف المناطق كقوة واحدة لمحاربة قوات العدو، يقول رسول الله ﷺ: «إنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» رواه مسلم


رسول الله بصفته الإمام الأول والأفضل للمسلمين، قام ﷺ بتعبئة الجيش لطرد يهود بني قينقاع من المدينة المنورة عندما انتهكوا شرف امرأة مسلمة واحدة في أحد أسواقهم. ومن بعده عليه الصلاة والسلام تمسك أئمة المسلمين بسنته، طوال فترة تطبيق نظام الحكم الذي أنزله الله سبحانه وتعالى، وعملوا كلهم كدروع للأمة، وهكذا عندما أساء الرومان لامرأة مسلمة واحدة، قاد الخليفة نفسه الجيش لمعاقبة الجناة وفتح بلادهم. وقوبل اضطهاد رجا ضاهر (جد مودي) للحجاج المسلمين، بسيوف جيش محمد بن القاسم.


لماذا لا يُمكن للقوات المسلحة الباكستانية أن تأخذ نصيبها من الثواب والأجر من تحرير المسجد الأقصى؟ في عام 1993م أنقذت قوات الجيش الباكستاني الجنود الأمريكيين في الصومال، فلماذا لا يتم حشدهم لإنقاذ المسجد الأقصى؟! إذا تم إرسال نسورنا الجوية الباكستانية، كما تمّ إرسال سيف الله أعظم رحمه الله لمحاربة كيان يهود في عام 1967م، وإسقاط طائراتها كطيار لكل من القوات الجوية الأردنية والقوات الجوية العراقية، فلماذا لا نرسل أبطالنا في الوقت الحالي، مثل قائد السرب حسن صديقي وقائد الجناح نعمان علي خان، الذين أسقطوا طائرات الدولة الهندوسية في شباط/فبراير 2019م؟! لماذا لا نطلب تمركز مجموعة النخبة للخدمات الخاصة لدينا في أمان لدعم هجوم موحد على مركز قيادة كيان يهود، في تل أبيب؟ فلماذا لا ننشر أسلحتنا النووية في معظم مناطقنا الغربية لإدخال تل أبيب إلى المدى، وإبراز قدراتنا الهائلة وإثارة الخوف في قلوب يهود الجبناء، الذين هم أكثر الناس تشبثاً بالحياة الدنيا؟ يقول الله تعالى: ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ﴾ وبالمثل، لماذا لا يمكن لمسلمي القوات المسلحة في إيران، وأفغانستان، وباكستان، وأوزبيكستان، وبنغلادش، وماليزيا، وإندونيسيا... أن يحشدوا معا من أجل تحرير كشمير المحتلة، على الرغم من أن الجيش الباكستاني وحده هو أكثر من كاف لقيادة القوات الهندية المنقسمة؟!


من الواضح أن بلاد المسلمين محتلة اليوم فقط بسبب غياب الإمام الصالح، الذي يحكم بالإسلام ويوحد المسلمين كقوة واحدة ضد أعدائهم. قلوبنا ستنزف حتى تلتئم على يد خليفة راشد يقود قواتنا الراغبة والقادرة في السعي للاستشهاد والنصر. ولذلك فليعمل المؤمنون للحكم بكل ما أنزل الله سبحانه وتعالى.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
قاسم عبد الله – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست