الحق أولا، ثم رضا الناس (مترجم)
الحق أولا، ثم رضا الناس (مترجم)

الخبر:   قال الرئيس التركي ورئيس حزب العدالة والتنمية رجب طيب أردوغان، خلال اجتماع لرؤساء مجالس حزب العدالة والتنمية: "سنقنع شعبنا بأخلاقنا وموقفنا وتواضعنا وخدمتنا ومشاريعنا ورؤيتنا". "السياسة هي الفن الذي يجعلك محبوبا عند الناس، لا أن تصبح مكروها". (وكالة الأناضول، جريدة مليات، 2019/01/11م)

0:00 0:00
Speed:
January 19, 2019

الحق أولا، ثم رضا الناس (مترجم)

الحق أولا، ثم رضا الناس

(مترجم)

الخبر:

قال الرئيس التركي ورئيس حزب العدالة والتنمية رجب طيب أردوغان، خلال اجتماع لرؤساء مجالس حزب العدالة والتنمية: "سنقنع شعبنا بأخلاقنا وموقفنا وتواضعنا وخدمتنا ومشاريعنا ورؤيتنا". "السياسة هي الفن الذي يجعلك محبوبا عند الناس، لا أن تصبح مكروها". (وكالة الأناضول، جريدة مليات، 2019/01/11م)

التعليق:

في المقالات السياسية للملوك، كُتب التعبير التالي: "ليكن عملك أفضل من كلمتك. فبالتأكيد، الكلمة اللطيفة دون عمل، ستؤدي إلى العصيان".

السمة العامة لحكام المسلمين، والتي أصبحت أكثر وضوحا؛ استندت السياسة إلى كلمات خيالية، وتضخيم للأفعال، وعكس الحقائق. وبالتأكيد ليس من المستغرب أن يكون أردوغان في مقدمة أولئك الذين يستخدمون هذه الأكاذيب. كان الفوز في جميع الانتخابات لمدة 17 عاماً ممكناً بسبب التعابير اللفظية التي استخدمها أردوغان.

وهناك من جديد، أي قبل أيام من الانتخابات، أخذ أردوغان الذي حذر حزبه من هذه القضية، يلخص الكلمات التي استند إليها في سياسته "السياسة هي الفن الذي يجعلك محبوبا عند الناس".

كلا! فالسياسة هي الفن الذي يحكم الناس بالفكر. لكن للأسف، وبسبب حقيقة أن الحكم في العالم اليوم يتشكل وفقاً للفكر الرأسمالي، لا يرى الحكام ضرراً في عدم ترك أي طريق غير مطروق من أجل ضمان نفوذهم وتوفير ما يؤدي لاستمرار سلطتهم، حتى لو كان من تلك الأساليب مداهنة الناس.

في العالم الإسلامي، يُخدع المجتمع من خلال حكمه بأفكار كالديمقراطية والرأسمالية التي تعتبر غريبة عن المسلمين، وخاصة من خلال اللعب بمشاعر المسلمين. إن الأشخاص الذين يمزجون سمّ الديمقراطية مع الخطابات الإسلامية ويعرضونها على المجتمع، ويبدون حسنة النية، لا يقلقون على الحق، ولا على الشعب.

أولئك الذين زرعوا شوكة الديمقراطية في تراب الأمة ويعملون على ضمان ازدهارها، ارتكبوا أكبر اضطهاد لهذا المجتمع، ويريدون منا فوق ذلك أن نحب هذه الشوكة ونحميها. أولئك الذين ينشرون كل أنواع الفتن، والإفساد، والشرور، والاضطهاد والطغيان في الأمة من خلال سياسات هذا الفكر، ويحاولون أن يقربوا أنفسهم للناس من خلال تلميع هذا الفكر القبيح بإنشاء المتنزهات والحدائق والأعمال العامة البسيطة التي أقاموها.

هذا ملخص مشاريعك ورؤيتك وأخلاقك ومواقفك:

عدم رؤية أي ضرر في جميع أنواع الشراكات والتعاون الاستراتيجي مع أعداء الإسلام والمسلمين ضمن سياستكم...

لا تشعرون بالعار عند تسليمكم مئات المليارات من الدولارات التي جمعتموها من الأمة، إلى جماعات الضغط كل سنة...

لا تخجلون من تلويث العقول النقية بالديمقراطية والعلمانية، من خلال تغيير نظام التعليم باستمرار...

دفع المجتمع إلى حافة الولوج في النار من خلال دفعه إلى الربا الذي حرمه الله...

توليد دخل ضخم من خلال الترويج ونشر القمار والخمور من كل نوع...

فتح الباب أمام جميع أنواع الفواحش من خلال نشر الزنا والبغاء بكل أشكاله تحت مسمى الحرية...

علمنة النظام التعليمي أكثر فأكثر، مما يؤدي إلى ظهور شباب ملحد كافر...

مساعيكم لتحبيب الناس بكم عبر خداعهم ببيانات إحصائية مزيفة، في حين إن مئات المسلمين الأبرياء هم ضحايا لسلطتك الاستبدادية، الذين يسجنون فقط لأنهم قالوا ربنا الله، هو الاضطهاد في الحقيقة ولا شيء إلا نفاق في نظر الناس. ما يطلبه الناس منك هو أن تحببهم بنفسك عبر قول الحقيقة. وهكذا "أن يكون الحاكم على الطريق الصحيح الصادق، أفضل من أن يحقق الغنى والرفاهية في فترة زمنية معينة".

إن سياسة المسلمين قائمة على أساس الدفاع عن حكم المجتمع بفكر صحيح. لا بصناديق الاقتراع التي توضع أساسا لضمان سلطتك، والتي من خلالها تتملق الشعب من أجل المصالح. إن الشيء الصحيح الذي يجب القيام به هو تقديم الحقيقة أولاً وفق المقياس الذي أمرك الله به، ومن ثم خدمة الشعب.

إن الأشياء التي تقوم بها في هذه الحياة الدنيا لإثبات نفسك للناس من أجل استمرارك في السلطة، بإمكانها أن تكسبك بعض الاهتمام. لكن هذه التهويلات التي تنافي الحق والحقيقة، ستصيبك بخيبة أمل في الآخرة. علي رضي الله عنه "اعتاد أن يستعيذ بالله من لسان كثير الكلام، وقلب لا يخشع وعمل لا ينفع". للأسف، فإن خطابات وقلوب وأفعال حكام اليوم تختلف من واحد لآخر. وإن الحاجة اليوم بالتأكيد إلى الانفضاض عن الحكام الذين يحاولون أن يقربوا أنفسهم من أصحاب الأفكار الخرافية، وإقامة النظام الذي سيحبه الله والمؤمنون، حيث يحكم الحكام بالحق. وهذا أمر لازم لإيماننا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست