الحق الخالص في أداء فرض العين قضية إقامة صلاة الجمعة في ماليزيا
الحق الخالص في أداء فرض العين قضية إقامة صلاة الجمعة في ماليزيا

الخبر:   في الآونة الأخيرة، أصدرت وزارة الشؤون الدينية والسلطات الدينية في كل ولاية في ماليزيا إعلانات فيما يتعلق بأداء صلاة الجمعة. وللأسف، زادت القرارات المتخذة من الارتباك بشأن وضع صلاة الجمعة في هذا البلد الذي يشكل الأغلبية المسلمة. حيث تسمح بعض الولايات بصلاة الجمعة مع 12 شخصاً كحد أقصى، وتسمح بعض الولايات بما يصل إلى 30 شخصاً. ولكن مع الأسف، لا تزال بعض الولايات تغلق المساجد وتحظر صلاة الجمعة، على الرغم من أن الدولة موجودة بالفعل في المنطقة الخضراء. وقد وضعت معظم الولايات حداً أقصى قدره 12 شخصاً يمكنهم الصلاة، وقد أوضحت بعض الولايات أن هؤلاء الـ12 ليسوا مدنيين عاديين. وبعبارة أخرى، لا يزال الجمهور ممنوعاً فعلياً من الالتحاق بالصلوات. ومما يزيد الطين بلة أنه لا يُسمح إلا لعدد قليل من المساجد بإقامة صلاة الجمعة في كل ولاية.

0:00 0:00
Speed:
May 30, 2020

الحق الخالص في أداء فرض العين قضية إقامة صلاة الجمعة في ماليزيا

الحق الخالص في أداء فرض العين

قضية إقامة صلاة الجمعة في ماليزيا

(مترجم)

الخبر:

في الآونة الأخيرة، أصدرت وزارة الشؤون الدينية والسلطات الدينية في كل ولاية في ماليزيا إعلانات فيما يتعلق بأداء صلاة الجمعة. وللأسف، زادت القرارات المتخذة من الارتباك بشأن وضع صلاة الجمعة في هذا البلد الذي يشكل الأغلبية المسلمة. حيث تسمح بعض الولايات بصلاة الجمعة مع 12 شخصاً كحد أقصى، وتسمح بعض الولايات بما يصل إلى 30 شخصاً. ولكن مع الأسف، لا تزال بعض الولايات تغلق المساجد وتحظر صلاة الجمعة، على الرغم من أن الدولة موجودة بالفعل في المنطقة الخضراء. وقد وضعت معظم الولايات حداً أقصى قدره 12 شخصاً يمكنهم الصلاة، وقد أوضحت بعض الولايات أن هؤلاء الـ12 ليسوا مدنيين عاديين. وبعبارة أخرى، لا يزال الجمهور ممنوعاً فعلياً من الالتحاق بالصلوات. ومما يزيد الطين بلة أنه لا يُسمح إلا لعدد قليل من المساجد بإقامة صلاة الجمعة في كل ولاية.

التعليق:

لقد أجبرنا وباء كوفيد-19 بالفعل على العيش في ظل حالة جديدة - شاعت بمصطلح "الوضع الطبيعي الجديد". ضمن أمور أخرى، فمن المتوقع الآن أن نطيع مختلف الإجراءات التنفيذية الموحدة في حياتنا اليومية، ابتداء من فحص درجة حرارة الجسم عند الدخول إلى المتاجر ومراكز التسوق، إضافة إلى مطهرات اليدين الموجودة تقريبا في أي مكان نذهب إليه. كما أنه يجب ممارسة تدابير التباعد (الاجتماعي) عند الذهاب للتسوق وفي أماكن العمل. وحتى يوم العيد لا يمكن أن يفلت من هذه التدابير الصارمة. وبكل أسف، مع كل هذه الإجراءات المعمول بها، ما زال المسلمون ينتظرون الإجراءات التنفيذية الموحدة لصلاة الجمعة وصلاة الجماعة، وحتى الآن يمرون بخيبة أمل كبيرة.

ومن المحير حقا أن صناع القرار يتجاهلون حقيقة أن صلاة الجمعة هي فرض عين. وقد لاحظنا البلدان الإسلامية الأخرى التي لا تزال تقيم صلاة الجماعة مع الإجراءات الموحدة والصارمة جدا. بينما تسمح السلطات في ماليزيا لـ12 أو 30 شخصاً لأداء هذه الصلوات. في الواقع، كانت هناك صورة مثيرة للسخرية على وسائل الإعلام الرئيسية لـ12 شخصاً يؤدون صلاة الجمعة في المسجد الوطني، ويراقبون التباعد (الاجتماعي) في الصف، بينما كان أكثر من 50 صحفياً يزاحمون بجانب الجماعة، ويلتقطون الصور!! مفارقة مثيرة للسخرية فعلا! ما هو الأساس المنطقي للسماح لـ12 شخصاً، أو حتى 30 شخصاً فقط لأداء صلاة الجمعة، حيث لا يُمنح سوى أعضاء لجنة المساجد و"الأفراد المحظوظين" "الحق الخالص" في أداء صلاة الجمعة؟ أما المسلمون الآخرون فهم ممنوعون من أداء الفرض في المسجد؟! كما أنه تم تحذير الذين يؤدون الصلوات خارج المساجد من تكرار فعلهم.

منذ نحو شهرين، يحث المسلمون المعنيون الحكومة على الخروج بعملية تنفيذية جادة من أجل إعادة فتح المساجد وتمكين كل مسلم من أداء صلاة الجمعة، وليس فقط أعضاء اللجان في المساجد من الصلاة. للأسف، بعد شهرين من انتظار الأخبار السارة، اتخذوا قرارهم الخاص ومنحوا "الحقوق الحصرية" لأداء صلاة الجمعة فقط لبعض الأفراد.

واليوم، يُسمح لجميع الوكالات الحكومية تقريباً بالعمل، وجميع المحلات التجارية تقريباً مفتوحة أمام الناس. ونحن نرى الطرق والمكاتب وأسواق الجملة والمطاعم وغيرها من الأماكن مليئة بالناس الذين يخرجون من حبسهم، في حين إن الحكومة تناشد الناس باستمرار أن يعتادوا على "الوضع الجديد". ولكن لماذا لا تزال المساجد مغلقة أمام الناس لأداء صلاة الجمعة التي هي فرض عين على كل فرد مسلم؟ إذا كان السبب هو منع انتقال كوفيد-19، فمن المؤكد أن الشيء نفسه ينطبق على جميع المنافذ الأخرى التي يسمح للعامة بالدخول إليها في الوقت الحالي - وبالتأكيد مع إجراءات الوقاية الصارمة. لكن يبدو أن صناع القرار هؤلاء يعتقدون أن كوفيد-19 لا يمكن أن ينتقل إلا في المساجد، وليس في أي مكان آخر، لذلك يجب أن تبقى المساجد مغلقة، أو مفتوحة فقط لأشخاص محددين. والغريب في الأمر، أنه حتى المساجد في المناطق الخضراء لا تزال مغلقة أمام الناس. ولا حول ولا قوة الا بالله...

هل نسوا أن المسجد هو بيت الله، وأنه لا يحق لأحد أن يغلق بيته إلا هو!

يقول سبحانه وتعالى: ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُوْلَـئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلاَّ خَآئِفِينَ لهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾.

هناك مثل في الثقافة الماليزية يقول: (إذا أراد المرء شيئاً ما، فإنه سيعمل جاهداً من أجله، ولكن إذا كان المرء لا يريده، فإنه سيخلق ألف مبرر لعدم قيامه بأي شيء حياله).

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور محمد – ماليزيا

#كورونا                   |        #Covid19             |         #Korona

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست