الحكم السعودي البائس
الحكم السعودي البائس

الخبر: تحتفظ السعودية، وهي واحدة من أغنى الدول على وجه الأرض، بمئات إن لم يكن الآلاف من المهاجرين الأفارقة محبوسين في ظروف مروعة تذكر بمعسكرات العبيد في ليبيا كجزء من حملة لوقف انتشار كوفيد-19، وفقاً لتحقيق أجرته صحيفة صنداي تلغراف.

0:00 0:00
Speed:
September 04, 2020

الحكم السعودي البائس

الحكم السعودي البائس


(مترجم)


الخبر:


تحتفظ السعودية، وهي واحدة من أغنى الدول على وجه الأرض، بمئات إن لم يكن الآلاف من المهاجرين الأفارقة محبوسين في ظروف مروعة تذكر بمعسكرات العبيد في ليبيا كجزء من حملة لوقف انتشار كوفيد-19، وفقاً لتحقيق أجرته صحيفة صنداي تلغراف.


تُظهر الصور الرسومية للهواتف المحمولة التي أرسلها مهاجرون محتجزون داخل مراكز الاحتجاز إلى الصحيفة، عشرات الرجال الهزالى الذين أصيبوا بالشلل بسبب الحرارة وهم مستلقون بلا قمصان في صفوف مكتظة بإحكام في غرف صغيرة ذات نوافذ بقضبان. وتظهر إحدى الصور ما يبدو أنه جثة ملقاة ببطانية أرجوانية وبيضاء في وسطهم. يقولون إنها جثة مهاجر مات من ضربة شمس وأن الآخرين بالكاد يحصلون على ما يكفي من الطعام والماء للبقاء على قيد الحياة.


وتظهر صورة أخرى، أكثر من أن تنشر، شاباً أفريقياً معلقاً بنافذة في جدار داخلي من البلاط. وقتل المراهق نفسه بعد أن فقد الأمل، كما يقول أصدقاؤه، وكثير منهم محتجزون منذ نيسان/أبريل.


يزعم المهاجرون، الذين تظهر على ظهورهم ندوب عدة، أنهم تعرضوا للضرب على أيدي الحراس الذين كالوا لهم الشتائم العنصرية. "إنه الجحيم هنا". قال أبيبي، وهو إثيوبي محتجز في أحد المراكز لأكثر من أربعة أشهر، "نعامل كالحيوانات ونضرب كل يوم". "إذا رأيت أنه لا مفر، سأنتحر بنفسي". وأضاف عبر وسيط تمكن من التواصل عبر هاتف مهرّب "جريمتي الوحيدة هي مغادرة بلدي بحثاً عن حياة أفضل، لكنهم ضربونا بالسياط والأسلاك الكهربائية وكأننا قتلة".


لطالما استغلت السعودية الغنية بالنفط العمالة المهاجرة من أفريقيا وآسيا. في حزيران/يونيو 2019، كان ما يقدر بنحو 6.6 مليون عامل أجنبي يشكلون حوالي 20 في المائة من سكان الدولة الخليجية، معظمهم يشغلون وظائف منخفضة الأجر وغالبا ما تكون شاقة بدنيا. (ديلي تليغراف)


التعليق:


نظراً لظهور رواية فظيعة أخرى لانتهاكات حقوق الإنسان في السعودية، يجب أن نتساءل عن سبب ارتباط هذه الدولة التي تدعي أنها تمثل دين الإسلام الكريم مراراً وتكراراً بالانتهاكات المروعة ضد سكانها من العمال المهاجرين واللاجئين.


عوضا عن تكريم الفقراء والمعوزين، ودفع أجر عادل لمن يبحث عن عمل كما ينص الإسلام - تم تمديد الممارسة الحالية المتمثلة في إسكان العمال المهاجرين من جنوب آسيا في ملاجئ مزدحمة مع توفير غير ملائم للمنشآت الصحية والمرافق الطبية، لهؤلاء اللاجئين المتدفقين من القرن الأفريقي.


كثيرون هم ضحايا وكلاء التوظيف ومهربي البشر، الذين سافروا هرباً من الفقر في بلادهم، لكنهم حوصروا في السعودية جزئياً نتيجة للوباء ولكن أيضاً بسبب إصلاحات القوى العاملة التي أدخلها العام الماضي محمد بن سلمان، الذي تجب محاسبته كونه المسؤول عن الظروف اللاإنسانية التي يتعرض لها هؤلاء الرجال.


انتشار معدلات الانتحار والأمراض العقلية إلى جانب الأمراض الأخرى بين المعتقلين؛ ومع ذلك، على الرغم من هذه الظروف المروعة، فقد تم التخلي عن الخطط الفورية للترحيل، مما ترك الرجال يعانون في أكثر الظروف بؤساً، والمحتجزون بأعداد تتجاوز المئة في الغرفة الواحدة. علاوة على ذلك، يبدو أن الإيماءات السعودية الكبرى لتوزيع الماء والطعام لا تُمنح إلا للحجاج والمعتمرين، لأن هؤلاء الرجال يتعرضون لمزيد من التجريد من الإنسانية بسبب محدودية الوصول إلى المياه، ولا يُعطون سوى قطعة خبز في الصباح وبعض الأرز في المساء لتناول الطعام.


وتُظهر صور الأقمار الصناعية أن هناك العديد من المباني التي تؤوي مهاجرين غير شرعيين في الشميسي بالقرب من مكة المكرمة وجازان وهي مدينة ساحلية بالقرب من اليمن، يحتمل أن يكون في كل منها آلاف الرجال.


أولئك الذين زاروا المملكة من المحتمل أن يكونوا قد شاهدوا العنصرية الواضحة وراء نظام الدرجتين الذي يخضع له الأفارقة والجنوب آسيويين. من طريقة معالجتهم عند الوصول إلى التجمعات والسكن والنزل المخصصة لهم، هناك فرق شاسع في معاملتهم وفرصهم، مقارنة بمعاملة العرب وأي شخص من الغرب.


في ظل رأسمالية الغرب، العنصرية متجذرة، ومنسوجة في أنظمتها، موجودة في كل مستوى من مستويات المجتمع وهي أساس في القيم والديناميكيات المجتمعية للدولة القومية مهما كانت الكراهية العنصرية مستترة. لكنها تختبئ وراء التعددية الثقافية وشعارات تكافؤ الفرص، لكن كل شخص ملون يعرف أن هذه الادعاءات رفيعة المستوى تفشل فشلا ذريعا عندما يتم اختبارها فعلياً من قبل القضاء والشرطة والقوى العاملة.


وبالمثل تسعى السعودية كدولة قومية إلى فكرة تغليب المنفعة الذاتية فوق كل مفاهيم المشاركة الأخلاقية والإنسانية مع سكانها المهاجرين. لقد حددت أجندتها القومية سياساتها العنصرية، حيث يتجلى كره وتنازل النخبة الحاكمة على أنه خيط علني للرأسمالية. وهو ما يفسر الانتهاكات التي لا تعد ولا تحصى تجاه العمال الذكور وليس ذلك فحسب، بل أيضا عمليات التعذيب والقتل التي تتعرض لها المربيات والخادمات دون عقاب.


على عكس الرأسمالية، يقدّر نظام الحكم الإسلامي الناس بما يتجاوز أي منفعة يمكنهم تقديمها ولا يحتاجون إلى العمل وفقاً للتسلسل الهرمي أو النظام الطبقي. بغض النظر عن القبيلة والجنسية والخلفية والقدرة والجنس، يمنح الإسلام شرفاً واحتراماً كبيرين للعامل والمسافر والمحتاج، كما تثبت أحكامه المفصلة والتقاليد الواضحة المشهورة.


تمتلئ التقاليد الإسلامية بأمثلة على العدل والمعاملة الطيبة وطرق تكريم الفقراء كما يتضح من نبينا الكريم محمد ﷺ وأصحابه وأجيال المسلمين بعد ذلك.


في الواقع، يتجه المبدأ الإسلامي بأكملها نحو تلبية احتياجات الناس من خلال التخفيف من حدة الفقر عبر التوزيع العادل والمنصف - وليس فقط الإنتاج الضخم.


وإن ذلك جلي أيضا في فعل الأنصار في المدينة المنورة، في دعمهم المهاجرين خدمة لبلدهم، ووفاء بواجباتهم الفردية.


روى عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عن النبي ﷺ: «أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ». ومن المعروف أن نبينا ﷺ كان يحرص دائماً على أن يعيش خادمه ويأكل ويلبس مثله ﷺ وليس أقل. وبالمثل، لم يكن الخليفة الراشد عمر بن الخطاب يسير في الشوارع ليلاً ليضمن سلامة الناس وأمنهم ويسير في حاجة الأسر بنفسه إذا كانت هناك حاجة فحسب، بل كان يوزع الطعام في جميع أنحاء الدولة الإسلامية قائلاً إنه يخشى أن يظلم أي مخلوق مهما كان صغيراً، لأن لهم الحق جميعاً في العيش بسلام وأمان في ظل الإسلام.


إن مبادئ الإسلام السامية وقيمه وشرائعه قد صممها خالق السماوات والأرض للارتقاء بالبشرية كأفراد وأمة. وإن حقيقته قادرة على تقديم الخير والخير فقط لكل شخص يصل الإسلام إليه.


﴿وَقُلْ جَاء الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً﴾


كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
مليحة حسن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست