الهاربون من اليمين المتطرف "يدعمون موقف بوريس جونسون من الإسلام الراديكالي"
الهاربون من اليمين المتطرف "يدعمون موقف بوريس جونسون من الإسلام الراديكالي"

الخبر:   انضم أكثر من 5 آلاف من أنصار جماعة اليمين المتطرف إلى حزب المحافظين في الأسابيع الأخيرة، وحسب وصفهم فإن ما جذبهم للحزب هو موقف بوريس جونسون السلبي تجاه الإسلام. وتقول المجموعة إن حوالي ثلثي الأعضاء البالغ عددهم 7500 عضو من المسجلين في منظمة "بريطانيا أولاً" المناهضة للإسلام علناً انضموا إلى حزب المحافظين منذ الانتخابات العامة. ...

0:00 0:00
Speed:
January 08, 2020

الهاربون من اليمين المتطرف "يدعمون موقف بوريس جونسون من الإسلام الراديكالي"

الهاربون من اليمين المتطرف "يدعمون موقف بوريس جونسون من الإسلام الراديكالي"

 (مترجم) 

الخبر:

انضم أكثر من 5 آلاف من أنصار جماعة اليمين المتطرف إلى حزب المحافظين في الأسابيع الأخيرة، وحسب وصفهم فإن ما جذبهم للحزب هو موقف بوريس جونسون السلبي تجاه الإسلام.

وتقول المجموعة إن حوالي ثلثي الأعضاء البالغ عددهم 7500 عضو من المسجلين في منظمة "بريطانيا أولاً" المناهضة للإسلام علناً انضموا إلى حزب المحافظين منذ الانتخابات العامة.

وقالت المنظمة، التي سجن قادتها العام الماضي بسبب جرائم الكراهية ضد المسلمين، إن نهج رئيس الوزراء تجاه "الإسلام الراديكالي" شجع غالبية الأعضاء على الانضمام إلى الحزب.

وقالت المتحدثة باسم "بريطانيا أولاً"، آشيا سيمون، التي كانت من بين كبار الشخصيات التي تمّ التحقيق معها من شرطة مكافحة الإرهاب مؤخراً: "سندعم حزباً مستعداً لاتخاذ موقف حازم ضد الإسلام الراديكالي ويبدو أن المحافظين على استعداد للقيام بذلك".

بعد أيام من فوزه في الانتخابات، أسقط جونسون تحقيقاً كان قد وعد به للبحث في نسبة تفشي الإسلاموفوبيا داخل حزب المحافظين وبعد فوزه اتُهم "بمكافأته على العنصرية" بعد أن منح زاك غولدسميث، والذي قيل عنه إنه استغل فكرة (الأحكام المسبقة ضد المسلمين) خلال حملته لمنصب عمدة لندن لعام 2016، وأعطي مظهر النبالة مدى الحياة. وظل في منصب وزير البيئة على الرغم من فقدان مقعده في مجلس العموم...

وقال سيمون إن أعضاء (بريطانيا أولا) أرادوا تشكيل حركة من الناشطين اليمينيين المتطرفين داخل حزب المحافظين، والتي ستدعم جونسون بالطريقة نفسها التي انضم بها مؤيدو مومنتوم إلى حزب العمال لتعزيز قبضة جيريمي كوربين على الحزب.

يؤكد الانشقاق الجماهيري لأنصار "بريطانيا أولا" دعم جونسون من شخصيات يمينية متطرفة في أعقاب فوزه في الانتخابات...

منظمة (بريطانيا أولاً)، التي تصف نفسها بأنها "حزب سياسي وطني يضع أمتنا أولاً"، احتجت على بناء المساجد أو توسيعها وتريد حظر اللحوم الحلال. (الغارديان) 

التعليق:

يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾ [الأنبياء: 92

لقد علمنا رسول الله r أن القبلية والعنصرية ليستا من الإسلام. فقد روى جندب بن عبد الله: قال رسول الله r : «مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يُقَاتِلُ عَصَبِيَّةً وَيَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ»

لذا فإن العنصرية مبغوضة في الإسلام، فقد كانت تعتبر من أفكار الجاهلية منذ أكثر من 1400 عام.

إذن من الغريب، في العقد الثاني من القرن الواحد والعشرين لبريطانيا وأوروبا المتحضرة، أن نجد أن العنصرية المسعورة والفاشية منتشرة ومزدهرة. سمعت كلاب الصيد العنصرية صفير الكلب بوضوح وتوافقت مع حزب المحافظين الحاكم. بينما هم يتسابقون في الرد على معاداة السامية، فإنهم يرفضون ويخدعون وينكرون عداءهم تجاه الإسلام والمسلمين. لأنه يخدمهم جيداً وهم متعجرفون بشأنه. فالعنصرية أو الفاشية أو المصطلح الأكثر قبولاً "الشعبوية" له فوائده:

داخلياً، لا يسمح للناس بملاحظة البؤس والمعاناة في حياتهم اليومية وانحرافها بسبب إخفاقات حكومتهم وحلولها. الأطفال الذين يعيشون في الفقر، والعدد المتزايد يوميا لما يسمى بنوك الغذاء، والمشردون الذين يعيشون (ويموتون) في الشوارع. إنها ليست من فساد الحكومة، بل هي ضرورة لخدمة النسبة الأعلى الـ 2٪. كل ذلك سببه الإسلام والمسلمون.

خارجياً، اتُهم الإسلام بالشيطنة وتمّ تجريد المسلمين من إنسانيتهم، هذا كله من أكاذيب الصليبية القديمة في العصور الوسطى التي برّرت سياستها الخارجية الاستعمارية وأخفت نواياها، ونهبت أراضينا واستعملت الوحشية ضد أمتنا. لقد دمروا مجتمعاتنا وقتلوا وشردوا الملايين.

في تقرير لمنظمة أطباء من أجل المسؤولية الاجتماعية صدر في آذار/مارس 2015، فإنه منذ بدء حرب الغرب على "الإرهاب"، قُتل ما يصل إلى 1.3 مليون شخص، وقد يصل العدد الحقيقي إلى 2 مليون من البشر. هذه الأرقام تستثني الملايين الذين قتلوا بسبب الحصار والعقوبات وتدمير البنية التحتية الأساسية مثل قنوات المياه والطاقة. والغالبية العظمى من هؤلاء كانوا مسلمين.

يخاف المرء أن يفكر فعلياً في ما هو الرقم الحقيقي اليوم. الأرقام هي "تقديرات"، لأنه بينما هم يحتفظون بسجلات دقيقة لقواتهم التي تحتل بلادنا، لا يبدو أن الغرب يهتم بالأرواح التي فقدت في محرقة المسلمين المستمرة.

من يُرهب من؟

إن شيطنة الإسلام وتجريد المسلمين من إنسانيتهم ​​يفضي أيضاً إلى بيع الأسلحة إلى "قادة بديلين" مزيفين. وتفوق ترامب على ذلك بقيامه بتنفيذ آخر اغتيال قام به خارج نطاق القانون. في 04/01، ذكرت منظمة (كومون دريمس) أن النائب رو خانّا (نائب ديمقراطي عن كاليفورنيا) غرّد على صفحته "إذا كنت تتساءل من الذي يستفيد من الحروب التي لا تنتهي، فقم بإلقاء نظرة على كيفية تنامي وارتفاع إنتاج المخزون الخاص بمصنعي الأسلحة بمجرد مقتل سليماني".

جونسون والمحافظون الذين يضطهدون الإسلام، هم معقدون مجتمعياً في نفاقهم الهائل. لقد تجاوز الغرب الكافر فعلا سلفه من الصليبيين. القبلية والعنصرية والفاشية وإيذاء الأبرياء ليست من الإسلام. منذ أكثر من ألف وأربعمائة عام، حذرنا الله سبحانه وتعالى من هؤلاء وقال: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد حمزة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست