الديمقراطية هي المشكلة وليست الحل
الديمقراطية هي المشكلة وليست الحل

أعلن قادة الحكومة العلمانية عن حزب جديد يسمى "تحيا تونس" يوم الأحد القادم الذي سيقوده رئيس الوزراء سيتنافس مع الإسلاميين المعتدلين في الانتخابات القادمة. وقد شكلت الحركة الجديدة بعد أشهر من المشاحنات داخل حزب الائتلاف الحاكم نداء تونس، مما أدى إلى استقالة عشرات القادة. ويكافح التحالف الهش، الذي يضم أيضا حزب النهضة الإسلامي المعتدل، لتمرير الإصلاحات الاقتصادية التي يطالب بها المقرضون الأجانب.

0:00 0:00
Speed:
February 01, 2019

الديمقراطية هي المشكلة وليست الحل

الديمقراطية هي المشكلة وليست الحل

(مترجم)

الخبر:

أعلن قادة الحكومة العلمانية عن حزب جديد يسمى "تحيا تونس" يوم الأحد القادم الذي سيقوده رئيس الوزراء سيتنافس مع الإسلاميين المعتدلين في الانتخابات القادمة.

وقد شكلت الحركة الجديدة بعد أشهر من المشاحنات داخل حزب الائتلاف الحاكم نداء تونس، مما أدى إلى استقالة عشرات القادة.

ويكافح التحالف الهش، الذي يضم أيضا حزب النهضة الإسلامي المعتدل، لتمرير الإصلاحات الاقتصادية التي يطالب بها المقرضون الأجانب.

وقالت زهرة إدريس، المشرعة وعضو الحزب الجديد، لرويترز عبر الهاتف "إن هدفنا هو أن يكون لدينا حزب قوي يقود الإصلاحات الاقتصادية ويعيد الأمل إلى التونسيين اليائسين". "نحن نسعى لقياده الأمة والتنافس مع الإسلاميين، سيكون الشاهد القائد". (رويترز نيوز 2019/01/27)

التعليق:

كانت تونس هي مسقط رأس الربيع العربي، وقد تم التبشير به كنجاح ديمقراطي على عكس الدول الأخرى التي لا تزال في صراع، مثل سوريا المتدمرة في حرب مستمرة أو مثل ليبيا، والتي على الرغم من زوال القذافي لا تزال هناك فوضى سياسية.

وهذا ما قصدنا أن نؤمن به، وأن الديمقراطية هي ذروة التنمية السياسية في الأمة، وأن النضالات الأخرى في المجتمع تشكل جزءا طبيعيا من عمليه التنمية، وما دامت العملية السياسية تعتبر "صحية" و"تقدمية" وفقا للنموذج الغربي، فإن المشاكل الأخرى للمجتمع اقتصادية واجتماعية وغيرها، لا ترتبط ارتباطا واضحا بالعملية السياسية.

فالحزب السياسي الجديد والعديد من الأحزاب السياسية تتقدم دائما على أنها تثري العملية الديمقراطية، الديمقراطية السليمة هي حيث يتم توسيع عملية التصويت وزيادة خيارات الأشخاص الذين يأتون إلى السلطة وإعطاء الناس المزيد من الخيارات.

ولكن بعد 8 سنوات من "الثورة" في تونس، لم تتم تسوية الأمور مع المشاكل الاقتصادية التي لا يزال يواجهها الناس على الرغم من العديد من وعود التغيير، ومع ذلك، فإن السياسات الاقتصادية التي يجري وضعها مرتبطة دائما بصندوق النقد التي تذكرنا بالاستعمار بدلا من التحرير الفعلي.

ما مدى خير هذه الديمقراطية على كل حال؟ إذا كان للمرء أن ينظر إلى المجتمع ككل في تطور الديمقراطية، مثل كندا وبريطانيا أو أمريكا، فإنه من الواضح أكثر من أي وقت مضى أن هناك مشاكل مجتمعية ضخمة، وأن الناس يفتقرون إلى الاحتياجات الأساسية، والفجوة بين الأغنياء والفقراء تتزايد أكثر من أي وقت سابق.

اليوم، تونس مثل أي بلد آخر في العالم، تتبع شكلا من أشكال المشاركة الحكومية والسياسية التي تقود العالم إلى الفوضى، إن الديمقراطية هي حكم الشعب للشعب، ولكن الإنسان ليس قادرا حتى على إدارة شؤونه بدون توجيه، وبالتالي تظهر الاضطرابات التي نراها من حولنا، وهذا النظام بالذات يسمح بوضع التدخل الخارجي الذي يؤدي بنا إلى مزيد من المشاكل الاقتصادية والإنسانية، وفي الوقت نفسه هو إساءة وتباين في الأنظمة والأفكار الحقيقة.

لقد حان الوقت لجميع البلاد الإسلامية والسياسيين والمفكرين وأصحاب السلطة المخلصين أن يعيدوا التفكير في النظام الذي يشاركون فيه وأن يفحصوه بجدية، وقد حان الوقت أيضا للاستيقاظ وتحقيق النجاح. الفشل لا يكمن في كيفية عملنا ضمن الإطار السياسي العلماني، والبحث عن حلول من المصادر التي لا تتفق مع العقيدة، لقد أنعم الله علينا بنظام صالح واحد يمكنه اقتلاع النظام الديمقراطي الحالي الرأسمالي العلماني، وهذا النظام لن يغير الوجوه فحسب، بل سيزيل الهيمنة الغربية التي تهيمن على بلادنا وعقولنا في البحث عن حلول من الغرب الكافر بدلا من الإسلام.

الحل الذي يقدم مرارا وتكرارا في بلادنا الإسلامية هو وجوه جديدة أو قديمة معاد تدويرها باسم جديد أو فريق من السياسيين الذين تمت تسميتهم حديثا، والمشكلة هي أنه يمكنك تغيير اللاعبين في فريق ولكن إذا كانت قواعد اللعبة ليست صحيحة، لا أحد سيفوز!

قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: "إنَّا كنَّا أذلَّ قوم، فأعزَّنا الله بالإسلام، فمهما نطلب العِزَّة بغير ما أعزَّنا الله به أذلَّنا الله".

وهذا درس بسيط، بالنسبة لدهاء السياسيين المخلصين، فإن فشل الديمقراطية واضح، لذلك، حان الوقت لأن نستبدل بهذه الفكرة نموذجا سياسياً إسلامياً للحكم، وهو الخلافة على منهاج النبوة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نادية رحمان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست