العرائس المهربة إلى الصين: سعر باهظ للاتصال بطريق الحرير (مترجم)
العرائس المهربة إلى الصين: سعر باهظ للاتصال بطريق الحرير (مترجم)

الخبر:   في 23 حزيران/يونيو، أفادت وكالة الأنباء الإندونيسية (ديتيك) أن 29 امرأة إندونيسية أصبحن عرائس في الصين، وكانت هناك 13 امرأة من سانغغاو، وكاليمانتان الغربية، و16 امرأة من جاوة الغربية، وقد وُعدن بالزواج من رجل صيني ثري في حين أن أسر النساء ستُرسل بعض الأموال. ولكن في الحقيقة، تستغل المرأة وتستعبد من زوجها وأسرته في الصين. قبل شهر من ذلك وفي أيار/مايو 2019 نشرت بي بي سي قصة عن العرائس الباكستانيات اللاتي يتم الاتجار بهن في الصين، ويعتقد ناشط في مجال حقوق الإنسان أن ما لا يقل عن 700 امرأة باكستانية، معظمهن نصرانيات، قد تزوجن من رجال صينيين خلال عام، ما يحدث للعديد من هؤلاء النساء غير معروف ولكن منظمة مراقبة حقوق الإنسان تقول إنهن معرضات لخطر العبودية الجنسية، وهذا يرتبط أيضاً بتقريرها الخاص عن قضية ميانمار في آذار/مارس 2019. وأفادت منظمة مراقبة حقوق الإنسان بأن 1115 امرأة ميانمارية تم الاتجار بهن حتى من المناطق التي تسيطر عليها الحكومة إلى الصين بوصفهن "عرائس"، ولا توجد إحصاءات موثوقة عن العدد الإجمالي، كما أن جمع هذه الإحصاءات بدقة أمر صعب، حيث لم يتم الإبلاغ عن العديد من الحالات، ولم يتم العثور على العديد من النساء والفتيات المتاجر بهن. ...

0:00 0:00
Speed:
July 28, 2019

العرائس المهربة إلى الصين: سعر باهظ للاتصال بطريق الحرير (مترجم)

العرائس المهربة إلى الصين: سعر باهظ للاتصال بطريق الحرير

(مترجم)

الخبر:

في 23 حزيران/يونيو، أفادت وكالة الأنباء الإندونيسية (ديتيك) أن 29 امرأة إندونيسية أصبحن عرائس في الصين، وكانت هناك 13 امرأة من سانغغاو، وكاليمانتان الغربية، و16 امرأة من جاوة الغربية، وقد وُعدن بالزواج من رجل صيني ثري في حين أن أسر النساء ستُرسل بعض الأموال. ولكن في الحقيقة، تستغل المرأة وتستعبد من زوجها وأسرته في الصين.

قبل شهر من ذلك وفي أيار/مايو 2019 نشرت بي بي سي قصة عن العرائس الباكستانيات اللاتي يتم الاتجار بهن في الصين، ويعتقد ناشط في مجال حقوق الإنسان أن ما لا يقل عن 700 امرأة باكستانية، معظمهن نصرانيات، قد تزوجن من رجال صينيين خلال عام، ما يحدث للعديد من هؤلاء النساء غير معروف ولكن منظمة مراقبة حقوق الإنسان تقول إنهن معرضات لخطر العبودية الجنسية، وهذا يرتبط أيضاً بتقريرها الخاص عن قضية ميانمار في آذار/مارس 2019. وأفادت منظمة مراقبة حقوق الإنسان بأن 1115 امرأة ميانمارية تم الاتجار بهن حتى من المناطق التي تسيطر عليها الحكومة إلى الصين بوصفهن "عرائس"، ولا توجد إحصاءات موثوقة عن العدد الإجمالي، كما أن جمع هذه الإحصاءات بدقة أمر صعب، حيث لم يتم الإبلاغ عن العديد من الحالات، ولم يتم العثور على العديد من النساء والفتيات المتاجر بهن.

التعليق:

الواقع أن التجارة بالبشر ليست حالة جديدة، فهي ستظل دائما كطبيعة للنظام الرأسمالي الوحشي الذي يستهلك أي شيء كسلعة تجارية، ولهذا السبب سيستمر تجريد المرأة من إنسانيتها واستغلالها ما دامت الرأسمالية موجودة، وحالات العرائس المُتاجر بهن التي حدثت في العديد من البلدان الآسيوية (ميانمار، وباكستان، وكوريا الشمالية، وإندونيسيا) مجرد نمط جديد، بسبب العلاقة المتنامية بين العالم والصين، وعلى غرار الخطاب الأخير لنائب الرئيس الصيني، وانغ تشي شان، "لا يمكن لتنمية الصين أن تغلق بقية العالم، وكذلك التنمية في العالم لا يمكن أن تُغلق الصين"، التي تعلن بوضوح عن الدور العدواني للصين في مشاريع تطوير البنية التحتية الضخمة في مناطق مختلفة من العالم، بما في ذلك البلاد الإسلامية.

ما هي بالضبط العلاقة بين مبادرة التنمية الصينية وحالات الاتجار بالبشر؟ من الواضح أن الأمر يرتبط ارتباطا وثيقا لأن العالم يرتبط بشكل متزايد بالصين برا وجوا وبالمحيطات على حد سواء. وقد جاءت حالات الاتجار بالعرائس من باكستان إلى الصين وسط تدفق غير مسبوق لعشرات الآلاف من الصينيين إلى البلاد، وتستثمر الصين مليارات الدولارات فى الممر الاقتصادي الصيني الباكستاني، وهو شبكة من الموانئ والطرق والسكك الحديدية ومشاريع الطاقة.

إن النقل الرخيص والبنية التحتية السهلة تجعل النساء المسلمات - شرف الأمة - أكثر سهولة لتتعرض لهن الأيدي القذرة للرأسماليين الشرقيين، وترتبط البلاد الإسلامية بشكل متزايد مع الصين، فضلا عن ترابط مشاكلهم الاجتماعية، وترجع المشكلة الداخلية في الصين إلى تطبيق سياسة الطفل الواحد والتصنيع، حيث انخفضت النسبة المئوية للنساء في سكان الصين باطراد منذ عام 1987، وتتزايد الفجوة بين الرجال والنساء الذين تتراوح أعمارهم بين 15 و29 سنة، ويقدر الباحثون أن الصين لديها ما بين 30 إلى 40 مليون "امرأة مفقودة" يجب أن تكون على قيد الحياة اليوم، واقترنت هذه الأزمة أيضاً بظاهرة النساء العازبات في الصين اللواتي يترددن في الزواج، فضلاً عن التكلفة المرتفعة للزواج من النساء الصينيات - وقد أثارت كل هذه الأزمات "طلباً" قوياً على العرائس الأجنبيات من خارج الصين.

جميع العوامل المعقدة أعلاه كان لها تأثير كبير على البلاد الإسلامية، إن الأمة تُنهب وتمس بسهولة كبيرة، أستغفر الله! ومن الواضح أن الهيمنة الرأسمالية هي حزمة واحدة، فهي تنهب مواردنا الطبيعية، وتمس نساءنا، وفي الوقت نفسه تضعف هويتنا كمسلمين، ولهذا أثر ضار آخر لمبادرة طريق الحرير الصينية.

والدرس المستفاد للأمة هو مدى أهمية القضاء على الفيروس المادي في الأسر المسلمة، فقط بسبب المال والعرسان الأثرياء، يتركون بناتهم للأجانب، وهذا ليس صحيحاً، فالإسلام يعلمنا مدى قدسية الزواج، وأن الغرض من الزواج هو عبادة الله سبحانه وتعالى وليس فقط السعي إلى الرفاه المادي، كما أن الإسلام يرشد المرأة المسلمة إلى اختيار زوجها المستقبلي على أساس معايير التقوى، لأن الزوج يقع في مكان القوّام على أسرته فيعلم زوجته ويربي أطفاله بالعقيدة الإسلامية.

ومن جهة ثانية، فإن الإسلام أيضاً يوجب قيام الدولة بدورها في حماية نسائها، أي على عكس النظام الرأسمالي الذي يقلل من دور الدولة ويعطي الأولوية لدور السوق. أما في الإسلام فإن الدولة مسؤولة بالكامل عن شؤون رعيتها بما في ذلك صون شرف المرأة المسلمة، حيث يسجل التاريخ بماء الذهب كيف جهز الخليفة المعتصم بالله عشرات الآلاف من الجنود لغزو مدينة عمورية فقط للحفاظ على شرف امرأة مسلمة استنجدت به.

لذلك، دعونا نوقف الاتجار بالبشر من خلال رؤية جديدة، بدءا بالقضاء على الظلم والقسوة التي تحدث للمرأة منذ القدم؛ وبناء مجتمع قوي وصحي من خلال تعزيز بناء الأسرة من خلال تعزيز القيم الإسلامية، ثم إقامة دولة مختصة قادرة على إدارة ثروة البلاد من أجل رخاء الناس ورفاهيتهم؛ والتوزيع العادل للثروة؛ دون اعتمادها على الاستثمار الأجنبي في التنمية الاقتصادية، وأيضا، من خلال تحقيق دولة قوية ذات سيادة - دولة مستقلة، وقبل كل شيء من شأنها أن ترفض أي شكل من أشكال التدخل الأجنبي الذي يهدد سيادة البلاد، ولا يمكن تحقيق كل ذلك إلا من خلال التنفيذ الكامل للنظام الإسلامي في إطار الدولة الإسلامية أي دولة الخلافة الراشدة.

﴿الر كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست