اجتماع الرزاز مع الحراك الشبابي مزيد من الالتفاف والوعود الكاذبة
اجتماع الرزاز مع الحراك الشبابي مزيد من الالتفاف والوعود الكاذبة

الخبر:   اجتمع رئيس الوزراء الأردني، عمر الرزاز، مع مجموعة من الناشطين في الحراك الشعبي الذي عاد إلى الشارع احتجاجا على سياسات الحكومة الاقتصادية، وإقرار قانون ضريبة الدخل الجديد. وكان الرزاز قد أرسل لدعوة 30 شخصية من شخصيات الحراك، امتنع عدد منهم عن الحضور. ونشرت مواقع محلية أن الرزاز قال بحضور الناشطين إن الحكومة تدرك معاناة المواطن، وتأثير الأوضاع الاقتصادية عليه، مؤكدا على أن الأردن يمر بظروف استثنائية يجب على الحكومة مواجهتها. وعن ملفات الفساد التي يطالب الناشطون بحلها وجلب الفاسدين إلى العدالة، قال الرزاز إن الحكومة لن تغلق أي ملف فساد، ولن تسمح بأن يكون أي متهم بالفساد فوق القانون. ووافق الرزاز النشطاء على ضرورة الخروج بقانون انتخابات عصري يعبر على حقيقة طموحات الشعب الأردني ويخدم مصالح الوطن، بحسب مواقع محلية. (موقع عربي21)

0:00 0:00
Speed:
December 12, 2018

اجتماع الرزاز مع الحراك الشبابي مزيد من الالتفاف والوعود الكاذبة

اجتماع الرزاز مع الحراك الشبابي مزيد من الالتفاف والوعود الكاذبة

الخبر:

اجتمع رئيس الوزراء الأردني، عمر الرزاز، مع مجموعة من الناشطين في الحراك الشعبي الذي عاد إلى الشارع احتجاجا على سياسات الحكومة الاقتصادية، وإقرار قانون ضريبة الدخل الجديد.

وكان الرزاز قد أرسل لدعوة 30 شخصية من شخصيات الحراك، امتنع عدد منهم عن الحضور.

ونشرت مواقع محلية أن الرزاز قال بحضور الناشطين إن الحكومة تدرك معاناة المواطن، وتأثير الأوضاع الاقتصادية عليه، مؤكدا على أن الأردن يمر بظروف استثنائية يجب على الحكومة مواجهتها.

وعن ملفات الفساد التي يطالب الناشطون بحلها وجلب الفاسدين إلى العدالة، قال الرزاز إن الحكومة لن تغلق أي ملف فساد، ولن تسمح بأن يكون أي متهم بالفساد فوق القانون.

ووافق الرزاز النشطاء على ضرورة الخروج بقانون انتخابات عصري يعبر على حقيقة طموحات الشعب الأردني ويخدم مصالح الوطن، بحسب مواقع محلية. (موقع عربي21)

التعليق:

منذ الربيع العربي والحراك الأردني يتحرك بخجل والحكومة تحتويه مرة بعد أخرى ثم قامت بإدخاله غرفة الموت السريري بعد عام 2014 باستخدام أدواتها في تفكيك الحراك واختراقه وامتصاص النقمة الشعبية عن طريق تغيير رؤساء الوزارات والوزراء والنواب والأعيان وتشديد القبضة الأمنية واعتقال الحراكيين وتكميم الأفواه بتهم تقويض النظام وإطالة اللسان ولم ينج شباب حزب التحرير من ذلك.

واستمر النظام في خضوعه للمؤسسات الدولية التي دمرت البلاد والعباد وأوجدت شريحة كبيرة من الفاسدين الذين نهبوا المليارات من قوت الشعب الأردني مما دفع الشباب إلى الخروج نحو الدوار الرابع للمطالبة بما يلي:

  1. إلغاء رفع ضريبة المبيعات على السلع الأساسيّة التي خضعت للرفع بداية عام (2018)، وإعفاء الدواء مِنْ هذه الضريبة، وتخفيض نسبتها على باقي السلع من 16% إلى 8%، والعودة عن قانون ضريبة الدخل الجائر الذي تمّ تمريره مؤخراً.
  2. إلغاء بند فرق أسعار الوقود على فواتير الكهرباء.
  3. تخفيض الضرائب والرسوم على المحروقات لتتناسب مع السعر العالميّ.
  4. إطلاق سراح جميع المعتقلين السياسيين ومعتقلي الرأي وإسقاط منظومة القوانين التي تقيّد الحريّات العامّة.

وأرسل الرزاز لدعوة 30 شخصية من شخصيات الحراك، امتنع عدد منهم عن الحضور لعدم قدرته على امتلاك القرار وأنهم يريدون التحدث مع من يملك القرار أو من بيده السلطات الثلاث مشيرين بذلك إلى الملك عبد الله الثاني.

إن عدم قدرة الحراك على اتخاذ موقف موحد من مقابلة رئيس الوزراء بحيث يمتنع البعض ويوافق البعض الآخر دليل ضعف وعدم قدرة على الصمود والتحدي، وهذا ينعكس بدوره سلبا على النتائج، فالذين قابلوا رئيس الوزراء لم يحصلوا على شيء سوى معسول الكلام من الوعود بإخراج قانون انتخابات عصري وعدم إغلاق أي ملف للفساد وأن الحكومة تدرك معاناة الناس، وتأثير الأوضاع الاقتصادية عليهم، وأن الأردن يمر بظروف استثنائية...

وهذه الوعود سئم الناس من سماعها؛ فقانون الانتخاب تم تعديله سابقا ولكنه مفصل على قد الحكومة بحيث لا ينجح إلا من تريدهم، كما أن الظروف الاستثنائية التي يمر بها الأردن هي ظروف دائمة منذ نشأته، لأنه كيان مصطنع اقتطع من عالمه الإسلامي ليكون حاجزا يحمي كيان يهود من غضب المسلمين.

إن الناظر في سقف المطالب يجد أنه منخفض جدا عن المطالب التي يطلبها الشارع مما يجعل الظن قويا بأن القائمين على الحراك خاضعون للنظام ولم يخرجوا عنه فهم جزء من النظام.

والحقيقة أنه لن يتغير شيء إلا بتغيير النظام برمته، فالمآسي التي يتعرض لها الشعب ناتجة عن تطبيق النظام العلماني الرأسمالي، والحراك يتحرك ضمن النظام العلماني الرأسمالي فمطالبه بتخفيف الضرائب وإلغاء فرق أسعار الوقود كلها حلول ترقيعية رأسمالية لا تسمن ولا تغني من جوع.

وإن الحل يكمن في تغيير النظام بوضع النظام الإسلامي محل النظام العلماني، فلا يوجد في العالم نظام يملك حلولا جذرية غير الإسلام، فالإسلام هو الذي يملك نظاما اقتصادياً يختلف كليا عن النظام العلماني يحقق العدالة لجميع الرعايا ويعيد توزيع الثروة توزيعا عادلا بينهم، في حين لا يملك النظام الرأسمالي التوزيع العادل للثروة بل لا يوجد عنده نظام لتوزيع الثروة وإنما يتركه للثمن والسوق الذي يتحكم فيه الحيتان والفاسدون.

وشتان بين نظام بشري تتحكم فيه فئة فاسدة بشعب بأكمله وبين نظام رباني عادل إذا أحسن تطبيقه حقق الرفاه والعيش الكريم لكل الناس في الدولة، قال تعالى: ﴿وْلو أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [الأعراف: 96]

فالله الذي خلق الخلق جعل في الأرض أقواتا تكفي الناس إلى يوم الدين، وأنزل للناس نظاما عادلا لتوزيع الثروة بين الناس، وحذر الناس من مخالفة هذا النظام وأن العقوبة ستحل بهم، قال تعالى: ﴿أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتاً وَهُمْ نَائِمُونَ * أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ * أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ﴾ [الأعراف: 97-99]

ونحن في الأردن حلت بنا عقوبة الله لأننا فرطنا في تطبيق شرعه واستبدلنا به قوانين من هنا وهناك جعلت حياتنا ضنكا وشدة مصداقا لقوله تعالى ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾ [طه: 124]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أميمة حمدان – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست