أحلام ديب هالاند في أرض الأحلام
أحلام ديب هالاند في أرض الأحلام

الخبر:   شهد العالم ضجة إعلامية حول ما سموه بلحظة تاريخية وانتصار لنون النسوة حيث شهد الكونغرس الأمريكي وصول أكبر عدد من النساء للكونغرس وأدت مئة وامرأتان اليمين الدستورية، 35 منهن انتخبن للمرة الأولى في تشرين الثاني/نوفمبر في موجة نجاح تاريخية للمرشحات. وقد سلط الإعلام الأمريكي والعالمي الضوء بشكل خاص على نسوة من الأقليات أدين اليمين الدستورية في مجلس النواب من بينهن أول امرأة مسلمة، أول امرأة من الأمريكيين الأصليين (الهنود الحمرK( أول امرأة من أصل إسباني، وأصغر امرأة منتخبة في الكونغرس. ...

0:00 0:00
Speed:
January 06, 2019

أحلام ديب هالاند في أرض الأحلام

أحلام ديب هالاند في أرض الأحلام

الخبر:

شهد العالم ضجة إعلامية حول ما سموه بلحظة تاريخية وانتصار لنون النسوة حيث شهد الكونغرس الأمريكي وصول أكبر عدد من النساء للكونغرس وأدت مئة وامرأتان اليمين الدستورية، 35 منهن انتخبن للمرة الأولى في تشرين الثاني/نوفمبر في موجة نجاح تاريخية للمرشحات. وقد سلط الإعلام الأمريكي والعالمي الضوء بشكل خاص على نسوة من الأقليات أدين اليمين الدستورية في مجلس النواب من بينهن أول امرأة مسلمة، أول امرأة من الأمريكيين الأصليين (الهنود الحمرK( أول امرأة من أصل إسباني، وأصغر امرأة منتخبة في الكونغرس.

تباهى الإعلام الأمريكي بما حققته النسوة من الأقليات في أرض الأحلام وتداولت روايات العضوة من ولاية مينيسوتا عن أداء اليمين بمصحف جدها وقصة الكفاح ونزوح الأسرة من مخيم للاجئين في كينيا وصولا إلى أمريكا.

في خضم هذه "الانتصارات التاريخية استعادت نانسي بيلوسي لقبها السابق كرئيسة لمجلس النواب، وقد صنعت التاريخ في عام 2007 كأول امرأة تشغل هذا المنصب، قبل تسليم المطرقة عندما فاز الحزب الجمهوري بمجلس النواب عام 2011.

التعليق:

من ضمن من وصلن للكونغرس الأمريكي امرأة من السكان الأصليين (الهنود الحمر) تدعى ديب هالاند وهي أول امرأة من السكان الأصليين يتم انتخابها عضوا في مجلس النواب الأمريكي وقد انتخبت عن الحزب الديمقراطي في ولاية نيو مكسيكو. ولكن وصول هالاند إلى هذه اللحظة لم يكن سهلا.

مر السكان الأصليون بالعديد من اللحظات السوداء والمجازر في تاريخهم، حتى يصلوا إلى انتخاب هالاند وغيرها. وتعرضوا لحملات ممنهجة من الإبادة عبر حروب غير متكافئة استخدمت فيها الآليات الحديثة من الأوروبيين، وتم نشر الأمراض المعدية في مناطق سكن الهنود الحمر وتم تهجير قبائل بأكملها. ناهيك عن وحشية الاستعمار الإسباني وقهره الممنهج للهنود الحمر مما أدى ببعضهم إلى الانتحار كوسيلة للخلاص من إذلال المستعمر الإسباني. ولم تقتصر محنة الهنود الحمر على التطهير العرقي وتقليص وجودهم في أمريكا. لم يقتصر العداء للهنود الحمر على حقبة تاريخية وحروب مضت فقد سعى المستعمر لإلغائهم من الأرض الجديدة. وذلك عبر ممارسة الاستعمار الثقافي بتهميش هوية الهنود الحمر وإجبارهم على التنصل من لغاتهم الأصلية وثقافتهم وفرض سياسات الدمج والاستيعاب.

يعيش ما تبقى من السكان الأصليين كأقلية تتعرض للتمييز والتهميش وتحمل إرثاً ثقيلا من التشويه الإعلامي الممنهج عبر عقود صورتهم كأشرار وغزاة معادين للحضارة والمدنية يحملون أفكاراً عقيمة وثقافة بالية لا ترقى لقيم العصر. يعيشون للآن في محميات صنعها المستعمر وحصرهم فيها تحيط بهم آفات البطالة والجهل وتعطى المواد المضرة لترسخ الصورة النمطية عنهم كشعوب لا تستحق تلك الأرض وثرواتها وتحتاج لوصاية. تلك الصورة صنعت لتغسل عار الماضي وتنفي جرم الاستعمار وأدواته.

نعم لم يكن وصول السيدة هالاند سهلا ولم يقبل بها الرأي العام إلا وهي تحمل قيم المستعمر وإن سمح لها بإظهار ولاء شكلي لتراث وزي وبعض معتقدات السكان الأصليين. وصلت وهي حريصة على أن تبدو كالأخريات وتظهر فروض الولاء والطاعة لضوابط الاندماج. وبالرغم من هذه الجهود تدرك أن سقف طموحها محدود جداً في بلد لم تحقق فيه نساء المستعمر الوافد أي انتصار حقيقي. هل تنفعها الأحلام وهل ينفعها التلون والانصهار... وهل يصلح العطار ما أفسد الاستعمار ويمحو تاريخ الإبادة والتهجير والتعتيم؟!

وصلت هالاند للكرسي وقد سبقها 10 آلاف شخص في كرسي عضوية الكونغرس منذ انعقاد أول كونغرس في 1789.

إن كفاح هالاند وأمثالها للوصول لكرسي الكونغرس لا يتعدى أحلام يقظة ولحظات عابرة لا تمثل شيئاً حقيقيا أكثر من تجميل الاستعمار. إنه سراب يفرح به البعض ليتناسى معاناة الشعوب مع الاستعمار وقبحه.

وصفت هالاند لحظة فوزها بالحلم فهنيئا لهالاند بهذا الكرسي "الثمين" وهنيئا لمن احتفل بوصول مسلمتين للكونغرس ولتسر الأمة في دربها لتحقيق واقع يرضي العباد ورب العباد...

﴿فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

هدى محمد (أم يحيى)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست