أفعالك في 2018 هي تأكيد لما سوف تفعله في 2019
أفعالك في 2018 هي تأكيد لما سوف تفعله في 2019

بعث الرئيس التركي رجب طيب أردوغان برسالة عامة جديدة إلى الرئيس الأمريكي دونالد ترامب، والرئيس الروسي فلاديمير بوتين، ورئيسة وزراء بريطانيا تيريزا ماي، والرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون، والرئيس الصيني شي جين بينغ، ورئيس وزراء الهند ناريندرا مودي، وفي رسالة العام الجديد التي وجهها إلى ترامب، خاطب أردوغان نظيره الأمريكي برسالة مفادها "عزيزي السيد الرئيس، صديقي العزيز"، مشيرا إلى أن العام الماضي كان فترة تغلبت فيها تركيا وأمريكا على الصعوبات وأظهرتا جهودا متبادلة لتحقيق المستوى المطلوب من العلاقات الثنائية. (المصدر: خبر7)

0:00 0:00
Speed:
January 04, 2019

أفعالك في 2018 هي تأكيد لما سوف تفعله في 2019

أفعالك في 2018 هي تأكيد لما سوف تفعله في 2019

(مترجم)

الخبر:

بعث الرئيس التركي رجب طيب أردوغان برسالة عامة جديدة إلى الرئيس الأمريكي دونالد ترامب، والرئيس الروسي فلاديمير بوتين، ورئيسة وزراء بريطانيا تيريزا ماي، والرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون، والرئيس الصيني شي جين بينغ، ورئيس وزراء الهند ناريندرا مودي، وفي رسالة العام الجديد التي وجهها إلى ترامب، خاطب أردوغان نظيره الأمريكي برسالة مفادها "عزيزي السيد الرئيس، صديقي العزيز"، مشيرا إلى أن العام الماضي كان فترة تغلبت فيها تركيا وأمريكا على الصعوبات وأظهرتا جهودا متبادلة لتحقيق المستوى المطلوب من العلاقات الثنائية. (المصدر: خبر7)

التعليق:

للأسف، أكد أردوغان في رسالة رأس السنة الجديدة إلى الرؤساء الكفار المستعمرين المذكورين أعلاه الذين احتلوا أراضي المسلمين وقتلوهم واضطهدوهم، أكد أن العلاقات الثنائية القائمة على الاحترام المتبادل والإخلاص والحوار ستتحسن بما يتمشى مع الجهود المشتركة والأهداف الاستراتيجية.

حسنا، ما هي الجهود المشتركة التي بذلتها تركيا مع أمريكا في 2018 وما قبله، أي نوع من الأعمال الجيدة التي أنجزتها من أجل رفاه المسلمين والإنسانية؟ ماذا جلب التعاون الاستراتيجي مع أمريكا إلى المجتمع المحلي والشعب التركي؟ ما هي المصلحة المشتركة التي دفعت بالتقاء تركيا مع أمريكا؟ أخبرنا بها؟ لماذا تركيا متمسكة بهذا التقييد، هل فقط لحماية سلطة أردوغان؟

ألم تروا مذابح روسيا في سوريا منذ 2015، ومع ذلك تريدون مواصلة واستمرار التعاون في 2019؟ ألا تعرفون ماذا فعلت الصين للمسلمين الإيغور في تركستان الشرقية، هل لذلك ترغبون في الاتفاقات التجارية بنسبة ست بنسات؟! هل هناك أحد لا يعرف العقلية الاستعمارية البريطانية والفرنسية؟ ومع ذلك ترغب تركيا في مواصلة التعاون معهم، هل نسيت ما قامت به الحكومة الهندية عدو الإسلام في كشمير، ومع ذلك أتتوسل لهم؟!

ما رأيك في النظر إلى الماضي في 2018؟ أفعالك في 2018، تنبئ ما سوف تفعله في 2019، حسنا، لنلقي نظرة على 2018.

لم تكن البلدان الإسلامية قاصرة عن الاضطهاد والدموع، فقد سفكت دماء المسلمين وسالت أنهارا وسقت الأراضي القاحلة، وقد لمست أيادي الكفار والمتعاونين القذرة عفة النساء المسلمات الشريفات. وإن إذلال المسلمين، ونهب ثرواتهم، وزيادة اضطهادهم من الكفار المستعمرين، قد استمرت هذا العام أيضا، وباختصار، لم تكن سنة 2018 مختلفة عن السنوات الـ95 الماضية منذ هدم الخلافة، فقد احتل يهود الأرض المباركة أرض الإسراء والمعراج والتي هي القبلة الأولى للمسلمين. وفي 2018 نشر كيان يهود الظلم في كل شبر من فلسطين ونقلت أمريكا المتغطرسة سفارتها إلى القدس، وتجرؤها ذلك بتشجيع من الحكام الجبناء في بلادنا.

ودع المسلمون في سوريا عاما آخر حيث اختلط صوت القنابل بالصراخ، بفضل صديقتك روسيا، أولئك الذين خانوا الثورة بتعليماتكم تم الكشف عنهم بشكل أكثر وضوحا في 2018، قلت إنك كنت إلى جانب الثورة السورية، لكنك مددت يدك إلى نظام الأسد، أصبحت الثورة مطالبة، باستثناء قلة من المسلمين والشعب السوري المخلص، في 2018 أصبحت سنة الفقر والجوع والموت بالنسبة لليمن، وبالنسبة لميانمار سنة اليأس، ولتركستان الشرقية سنة الوحدة، ولجميع البلاد الإسلامية مثل السودان وليبيا وهكذا دواليك سنة من التقصير والحرمان...

لم يكن مختلفا الأمر بالنسبة لتركيا، واستعيض عن النظام البرلماني البريطاني بالنظام الرئاسي الأمريكي. عندما يتم تأسيس النظام الرئاسي، كل شيء سيكون على ما يرام هكذا قلت، وكنت قد أقنعت الناس بتلك الأكاذيب المزخرفة، أما بالنسبة للمسلمين المخلصين فإنهم مظلومون ومضطهدون، لقد سجنت أولئك الذين يريدون الخلافة وفرضت عليهم المحاكمات الظالمة وغير القانونية، لكنك سلمت القس برونسون إلى أمريكا لمجرد أن ترامب أراد ذلك.

وباختصار، عندما تنظر إلى 2018، لا توجد قضية واحدة لصالح الأمة الإسلامية. لأن الأمة الإسلامية تشوشت! وتقسمت إلى أجزاء! لأن هذه الأمة بحاجه إلى الخليفة الذي يوحد بلادها وجيوشها وثروتها، وكلنا أمل في أن تكون سنة 2019 سنة خير، حيث تحل جميع مشاكل الأمة الإسلامية، سنة نعلن فيها عن عودة أيام الدولة الإسلامية الرائعة، سنة تقوم فيها دوله الخلافة وتدخل إلى الساحة العالمية، نأمل أن تكون السنة التي تزين فيها راية التوحيد السماء، ويطيح بالحكومات المستبدة واحدة تلو الأخرى، ويبحث فيها الكفار المستعمرون عن مكان للاختباء... دعاؤنا إلى الله سبحانه وتعالى هو أن تكون 2019 السنة التي تقام فيها دولة الخلافة الراشدة الثانية، وصدقوني، هذا أمر ليس بصعب ولا بعزيز على الله سبحانه وتعالى.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود كار

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست