ءأنتم أعدل أم الله يا شيخ الأزهر؟!
ءأنتم أعدل أم الله يا شيخ الأزهر؟!

الخبر:   نقلا عن فرانس 24 السبت 2019/3/2م، أكد شيخ الأزهر أحمد الطيب أن تعدد الزوجات "ظلم للمرأة" وليس "الأصل" في الإسلام وأنه مشروط ومقيد، ما أثار جدلا واسع النطاق في مصر، وهذه ليست المرة الأولى التي يدلي فيها شيخ الأزهر بتصريح حول مسألة تعدد الزوجات منذ توليه منصبه عام 2010، فقد كانت له بعض التصريحات في 2016، خصوصا بعد أن أطلق الرئيس عبد الفتاح السيسي دعوة لتجديد الخطاب الديني عقب توليه السلطة عام 2014، لكنها المرة الأولى التي يصف فيها التعدد (غير المشروط) بـ"الظلم"، وبعد ظهر السبت أصدر الأزهر بيانا، نشره على موقعه الرسمي، أكد فيه تعليقا على ما نشر على بعض المواقع الإلكترونية ووسائل التواصل، أن الإمام الطيب "لم يتطرق مطلقا إلى تحريم أو حظر تعدد الزوجات" وشدد البيان على أن "حديث فضيلته انصب على فوضى التعدد وتفسير الآية الكريمة المتعلقة بالموضوع وكيف أنها تقيد هذا التعدد بالعدل بين الزوجات، كما رد فضيلته على من يعتبرون تعدد الزوجات هو الأصل".

0:00 0:00
Speed:
March 06, 2019

ءأنتم أعدل أم الله يا شيخ الأزهر؟!

ءأنتم أعدل أم الله يا شيخ الأزهر؟!

الخبر:

نقلا عن فرانس 24 السبت 2019/3/2م، أكد شيخ الأزهر أحمد الطيب أن تعدد الزوجات "ظلم للمرأة" وليس "الأصل" في الإسلام وأنه مشروط ومقيد، ما أثار جدلا واسع النطاق في مصر، وهذه ليست المرة الأولى التي يدلي فيها شيخ الأزهر بتصريح حول مسألة تعدد الزوجات منذ توليه منصبه عام 2010، فقد كانت له بعض التصريحات في 2016، خصوصا بعد أن أطلق الرئيس عبد الفتاح السيسي دعوة لتجديد الخطاب الديني عقب توليه السلطة عام 2014، لكنها المرة الأولى التي يصف فيها التعدد (غير المشروط) بـ"الظلم"، وبعد ظهر السبت أصدر الأزهر بيانا، نشره على موقعه الرسمي، أكد فيه تعليقا على ما نشر على بعض المواقع الإلكترونية ووسائل التواصل، أن الإمام الطيب "لم يتطرق مطلقا إلى تحريم أو حظر تعدد الزوجات" وشدد البيان على أن "حديث فضيلته انصب على فوضى التعدد وتفسير الآية الكريمة المتعلقة بالموضوع وكيف أنها تقيد هذا التعدد بالعدل بين الزوجات، كما رد فضيلته على من يعتبرون تعدد الزوجات هو الأصل".

التعليق:

موجات الثورة الدينية التي أطلقها رأس النظام المصري تتوالى وتتابع فصولها التي تهدف لسلخ الأمة عن دينها وطمس هويتها، لم نتعجب أن يصدر مثل هذا القول من شيخ الأزهر الذي وقع قبل قليل وثيقة العار مع بابا الفاتيكان، هذا القول ليس سوى بالون اختبار لجس نبض الناس ومعرفة رد فعلهم إذا طلبوا قانونا يحرم التعدد وإلقاء حجر في ماء راكد يتلقفه العلمانيون والمضبوعون فيبدأون هجوما جديدا على الإسلام، بينما يعمل رجال الأزهر على استخراج قول شاذ كعادتهم يبررون به تحريم ما أباحه الشرع!

إن القول بأن التعدد ظلم للمرأة هو لغو لا يخرج من فم فقيه ولا عالم شريعة ولا يتقول به إلا علماني مضبوع بثقافة الغرب حاقد على الإسلام وأحكامه وشرعه، وأمثال هؤلاء نعرفهم جيدا ونعرف سماتهم، ولكنهم يخادعون الأمة باللباس والسمت وتقعير اللسان، وكما يقال (جزى الله شدائد كل خير *** تعرّفني عدوي من صديقي)، فإننا نقول جزى الله هذه المحن والفتن كل خير فقد أسقطت عنهم باقي أقنعتهم أمام الناس وأبوا على أنفسهم إلا أن يستمروا في لعبة التعري لتظهر أمام الناس باقي عورات أفكارهم الخبيثة...

فكيف يبيح الله أمرا فيه ظلم للمرأة والمعلوم أنه لا يوجد دين ولا قانون ولا تشريع كرم المرأة كما كرمها الإسلام، ولا حفظها وحفظ حقوقها كما فعل الإسلام؟! والذي ظلم المرأة الآن ليس التعدد يا شيخ الأزهر وإنما تطبيق الرأسمالية التي ظلمت كل العباد، وأشاعت الفوضى في البلاد، فتحكم فيها قانون الغاب؛ يأكل القوي الضعيف والغني الفقير، ويتحدث في أمور الناس الرويبضة، فأصل الظلم هو في غياب أحكام الإسلام التي تحفظ حقوق الزوجة الواحدة والأربع، أما في ظل الرأسمالية فحتى الزوجة الواحدة مظلومة والمرأة بدون زوج مظلومة، فالرأسمالية هي عين الظلم ولا يقرها إلا ظالم خائن لله ورسوله ولو سمى نفسه شيخ الأزهر.

أيها المسلمون في مصر الكنانة! إن التعدد حكم شرعي أباحه الشرع ولم يوجبه وإنما أوجب على الزوج أن يعدل بين نسائه ولو تزوج من واحدة فقط ولم يعدد، وأما ما نرى من مشكلات وإساءات فكلها من جراء غياب أحكام الإسلام التي تحفظ الحقوق وتؤدي الواجبات، فمن يحمي المرأة ويعطيها حقوقها إذا غاب عدل الإسلام وجار القاضي بما بين يديه من قوانين عرجاء لأنها من وضع البشر؟!

يا أهل مصر الكنانة! إن الظلم الحقيقي واقع على الرجل والمرأة على حد سواء من تطبيق الرأسمالية التي طال ظلمها حتى الشجر والحجر والطير في السماء، وصار لزاما عليكم أن تزيلوا هذا الظلم من جذوره وأن تقتلعوا نظامه اقتلاعا لا يبقي له أثرا، وتطالبوا بتطبيق دينكم الذي ارتضاه لكم في دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، فهذا وحده الذي ينجيكم ويرفع الظلم عنكم.

يا أبناء جيش الكنانة! إن دوركم ليس حماية عروش الحكام، بل دوركم هو حفظ الإسلام ودولته، وقد كنتم كذلك حتى وقت قريب... فأعيدوا سيرتكم وجددوا عهدكم واقطعوا حبال عدوكم من أعناقكم وصلوها بالله ورسوله وأوليائه العاملين لتطبيق دينه وإقامة دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة؛ إخوانكم شباب حزب التحرير، فعسى الله أن يكتب الخير على أيديكم فتكونوا سببا في رفع الظلم عن البلاد والعباد ويكون لكم عز الدنيا وكرامة الآخرة...

اللهم عجل بنصرك يا الله واجعل من جند الكنانة خير أنصار اللهم آمين.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست