آنَ أنْ تتحول عواصفنا العاطفية إلى عواصف عاتية من الأعمال السياسية
آنَ أنْ تتحول عواصفنا العاطفية إلى عواصف عاتية من الأعمال السياسية

الخبر:   جرائم دول الكفر الصليبية على المسلمين...

0:00 0:00
Speed:
March 26, 2019

آنَ أنْ تتحول عواصفنا العاطفية إلى عواصف عاتية من الأعمال السياسية

آنَ أنْ تتحول عواصفنا العاطفية إلى عواصف عاتية من الأعمال السياسية

الخبر:

جرائم دول الكفر الصليبية على المسلمين...

التعليق:

إن أشكال وحجم الجرائم المستمرة التي تقوم بها دول الكفر الصليبية أكثر وأكبر من أن تخفى على أحد من المسلمين على وجه الأرض، فقد أزهقوا أرواحنا وهتكوا الأعراض وشوهوا الأجساد، واحتلوا بلادنا وعذبونا في السجون وشردونا، ودمروا الكثير من مدننا وقرانا ومساجدنا ومدارسنا وبيوتنا، ونهبوا أموالنا وخيراتنا، ودعموا حكامنا الطغاة بأسباب البقاء في الحكم للاستمرار في الظلم والطغيان لقهرنا، واستهدفوا الإسلام ولا زالوا يستهدفونه وتطاولوا على الإسلام وعلى رسوله الكريم والقرآن العظيم ولا زالوا يتطاولون... فالجرائم الصليبية كانت وما زالت في أماكن كثيرة قبل مجزرة المسجدين في نيوزيلندا وأثناءها وبعدها، وما نعلمه ويجب أن تعلمه الأمة الإسلامية أن دول الكفر الصليبية مستمرة وتخطو خطوات سريعة في استهدافها الأمة الإسلامية أرضاً وإنسانا وعقيدة وأحكاماً، فهي وإن تصارعت فيما بينها على المصالح فهي على قلب رجل واحد في الحرب على الإسلام والمسلمين حقدا - ضارب الجذور في أعماق التاريخ - وأملا واهماً منهم في إجبار الأمة الإسلامية على الاستسلام والتنازل عن الإسلام الذي يرون فيه - وهو كذلك - بأنه المحفز الأقوى للمسلمين والمحرض الفعلي الخطير لهم على الوقوف في وجه مخططاتهم وإفشالها وعلى التضحية بالمال والنفس والولد لنصرة الإسلام وقضايا الأمة ومقاومة الاستعمار ودحر الكافر المستعمر مهما كانت قوته ومهما بلغ جبروته وطغيانه...

والأمر الذي يجب على الأمة أن تعلمه أيضا هو أن حكام بلاد المسلمين بتبعيتهم وعمالتهم للغرب الصليبي وبمحاربتهم لمشروع نهضة الأمة الإسلامية المتمثل باستئناف الحياة الإسلامية بإقامة دولة الخلافة، هم الذين زادوا من شهية دول الكفر في استعباد شعوب المسلمين وقهرهم وهم الذين زرعوا عند قوى الغرب الصليبي الأمل في إمكانية انتزاع الاستسلام من الأمة والتنازل عن عقيدتها الإسلامية لصالح عقيدة الكفر العلمانية بعد هدمهم لدولة الخلافة وإيقاف تأثير الإسلام في المواقف الدولية وإخراجه من الساحة الدولية مستفيدين في ذلك من سكوت الأمة الطويل عن إقصاء الإسلام من واقع حياتها كمنهج للحياة وطريقة للعيش وتأخر اتخاذها من قضية إعادة الخلافة كيانها السياسي الشرعي الوحيد قضية مصيرية لها.

والأمر الثاني الذي أغراهم وزاد من إصرارهم على استهداف ديننا ومقدساتنا وأرواحنا وبلادنا وثرواتنا هو قبول أفكار الكفر من علماء فاسدين أخذوا على عاتقهم نشر تلك الأفكار وتسويقها والدعوة لها على أنها من الإسلام أو لا تتعارض مع العقيدة الإسلامية وما انبثق عنها من أحكام؛ كالديمقراطية وحوار الأديان والدولة المدنية وغيرها من الأفكار، إلى جانب تلك الأحزاب والحركات المسماة إسلامية وتعمل للدولة المدنية العلمانية وتضلل المسلمين بقولها بالدولة المدنية ذات المرجعية الإسلامية تضليلا للمسلمين وخيانة لله ولرسوله وللمؤمنين ومغازلة لدول الاستعمار الصليبي أملا بالرضا والقبول.

لقد أصبح واضحا وضوح الشمس في رابعة النهار ولكل الدنيا أن دول الكفر الصليبية في الشرق والغرب توسع حربها على الإسلام والمسلمين مستخدمة كل الأساليب والوسائل وكل أدواتها، ومن جنودهم المخلصين في حربهم القذرة هذه حكام بلاد المسلمين، وعلماء فاسدون وكُتاب ومفكرون ضُبعوا بثقافة الكفار، وأحزاب وحركات وصولية نفعية رأسمالية متكسبة ارتضت لنفسها أن تكون جسورا للصليبيين...

فعلى الأمة الإسلامية أمام هذه الحرب الشرسة القذرة التي ستتعاظم في ظل هذا الواقع الأليم وغياب خليفة المسلمين، عليها وبسرعة وبدون أي تردد أو خوف، عليها أن تحول عواصفها العاطفية - التي تجتاح العالم بعد كل جريمة صليبية - إلى عواصف عاتية مستمرة من الأعمال السياسية القوية والمركزة، الجماهيرية منها وغير الجماهيرية؛ تتعرض فيها لكل حدث يهم المسلمين أينما كان، بل وتصنع الأحداث، لتزلزل بها الأرض من تحت أقدام الكافر المستعمر وتقف بها في وجه خيانة وتواطؤ حكام المسلمين، وتصنع أجواء تؤثر وتستميل بها قوى الأمة الحقيقية القادرة فعلا على نصرة الإسلام وعلى حماية المسلمين بانحيازها للأمة وقضاياها وعقيدتها وتخلصها من حكامها العملاء وتمكن الأمة من تنصيب خليفة واحد لها يقاتل من ورائه ويتقى به...

إن هذا الوقت العصيب لا يُقبل فيه البكاء والعويل والنحيب، ولا يعول فيه على العواطف والغضب ولا يكفي فيه الدعاء على الأعداء أو الدعاء للعاملين لنصرة هذا الدين بالتوفيق والسداد، بل إن هذا هو وقت استجابة الرجال الرجال لنداء الحق وبذل كل الجهود وتسخير كل الإمكانيات وتقديم التضحيات من أجل استرجاع سلطان الأمة وانتزاعه من الطغاة الذي اغتصبوه وإعادة كيان الأمة (دولة الخلافة) لرفع راية الدين وتلبية نداء المستجيرين والمستغيثين وقطع دابر الكفار والمنافقين، وجعل كلمة الله هي العليا وكلمة الذين كفروا هي السفلى، ولنتذكر دائما قول الله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾، وقوله تعالى: ﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الأستاذ ممدوح أبو سوا قطيشات

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست