أعمال الإلغاء المتعلقة باتفاقية إسطنبول (مترجم)
أعمال الإلغاء المتعلقة باتفاقية إسطنبول (مترجم)

الخبر:   خلال اجتماعات المجلس التنفيذي المركزي واجتماعات رؤساء المقاطعات التي ترأسها رجب طيب أردوغان أمس، تم طرح اتفاقية إسطنبول، التي تجري مناقشتها علناً، على جدول الأعمال. وأوعز أردوغان إلى موظفيه بـ"دراستها ومراجعتها، وإبطالها إذا طالب الشعب بذلك، وإذا كان مطلب الشعب في اتجاه الإلغاء، فينبغي اتخاذ قرار وفقا لذلك، علينا أن نفعل، مهما كان ما يريده الشعب". (سبوتنيك، 2020/7/3م)

0:00 0:00
Speed:
August 02, 2020

أعمال الإلغاء المتعلقة باتفاقية إسطنبول (مترجم)

أعمال الإلغاء المتعلقة باتفاقية إسطنبول

(مترجم)

الخبر:

خلال اجتماعات المجلس التنفيذي المركزي واجتماعات رؤساء المقاطعات التي ترأسها رجب طيب أردوغان أمس، تم طرح اتفاقية إسطنبول، التي تجري مناقشتها علناً، على جدول الأعمال. وأوعز أردوغان إلى موظفيه بـ"دراستها ومراجعتها، وإبطالها إذا طالب الشعب بذلك، وإذا كان مطلب الشعب في اتجاه الإلغاء، فينبغي اتخاذ قرار وفقا لذلك، علينا أن نفعل، مهما كان ما يريده الشعب". (سبوتنيك، 2020/7/3م)

التعليق:

تم وضع الاتفاقية الفاسدة، المعروفة عالمياً باسم اتفاقية القضاء على جميع أشكال التمييز ضد المرأة "اتفاقية سيداو"، ولكن تم تسويقها في البلاد الإسلامية تحت عنوان "منع العنف ضد المرأة" وتسمى "اتفاقية إسطنبول" في تركيا، للتوقيع في 11 أيار/مايو 2011 في إسطنبول وكانت تركيا أول دولة وافقت على الاتفاقية في 12 آذار/مارس 2012. ومن المعروف أن حزب التحرير يقوم بعدد من الأنشطة في كثير من الدول، وخاصة في البلاد الإسلامية، لتوعية المسلمين على هذه الاتفاقية الفاسدة ومضمونها.

في هذه الأيام التي نمر بها، خاصة بعد القرار الذي اتخذه أردوغان بشأن إعادة فتح آيا صوفيا للعبادة، وأيضا اتفاقية إسطنبول أخذت مكانها بشكل رئيسي على جدول الأعمال. وفي واقع الأمر "تم الكشف عن أن أردوغان، في اجتماع المجلس التنفيذي المركزي لحزب العدالة والتنمية في 15 تموز/يوليو 2020، والذي استمر حوالي خمس ساعات، أمر بالعمل على نتائج الإنهاء الأحادي لاتفاقية إسطنبول، التي يتم قبولها كنص مرجعي دولي في مكافحة العنف ضد المرأة ووقعت عليها تركيا لأول مرة، مع إبداء تحفظ على المواد المثيرة للجدل". (صحيفة ملّيات).

يمكننا إجراء التقييمات التالية حول التطورات المتعلقة بالموضوع:

1-  بدأ حزب التحرير في ولاية تركيا حملة واسعة حول هذا الموضوع في عام 2019م، وقد حظي هذا العمل بقبول واسع أمام الأوساط الإسلامية. فقبل أن يبدأ حزب التحرير مثل هذا العمل، كان الحديث عن هذه القضية في الأوساط الإسلامية العاملة في تركيا على مستويات شبه معدومة، دون استهداف الحكومة أو إيذائها أو حتى تهامس إذا جاز التعبير. ونتيجة لكون شباب حزب التحرير قد قدموا هذه المسألة على جدول الأعمال ببيانات علنية وواضحة، وعقدوا مؤتمرات في 26 منطقة مختلفة في جميع أنحاء تركيا قبل القيود التي فرضها كوفيد-19 وقابلوا الكثير من دوائر المجتمع وجها لوجه، حتى انتهى الأمر بالحديث عنها بصوت عال، وطرحها وزيادة الانتقادات الموجهة إلى السياسيين. وفي واقع الأمر "قال الرئيس أردوغان إنه أمر بدراسة حول هذا الموضوع من خلال مراعاة الانتقادات المتعلقة باتفاقية إسطنبول، التي تدمر هيكل الأسرة التركية بحجة وقف العنف ضد المرأة". (يني وقت 2020/2/19م)

2-  كما يمكن أن يظهر في تصريحات أردوغان في الخبر أعلاه، فإنه من الصعب على السياسيين تنحية الموقف الذي اتخذه المجتمع جانباً. ولهذا السبب، فإن أنشطة المسلمين لتشكيل الرأي العام حول الحلول الإسلامية، أينما كانوا، مهمة للغاية. خاصة أن فرصة استخدام وسائل التواصل اليوم لها تأثير خطير على السياسيين. وأيضا حقيقة أنه بعد قرار إعادة فتح آيا صوفيا للعبادة، بدأ الناس بالحديث عن الخلافة على شاشة التلفزيون التركي، حيث تعتبر إشارة مهمة في هذه الحالة. وبعبارة أخرى، أظهرت أعمال حزب التحرير من أجل تشكيل الرأي العام تأثيرها. كما حظيت حملة تويتر التي نفذها حزب التحرير حول المثليات والمثليين ومزدوجي الميل الجنسي ومغايري الهوية الجنسية الذين استخدموا تصريحات قبيحة ضد رسول الله ﷺ في الأيام القليلة الماضية، حظيت بدعم كبير من المسلمين في جميع أنحاء تركيا.

3-  لكن هل سيتم إلغاء الاتفاقية الفاسدة بالكامل أم أنه ستكون هناك بعض التعديلات على المحتوى في إطار تعليمات أردوغان؟ إن هذه المسألة ليست واضحة حتى هذا الوقت. فقد قال وزير الخارجية مولود جاويش أوغلو، الذي قدم معلومات فنية عن إلغاء الاتفاقية الفاسدة خلال اجتماع المجلس التنفيذي المركزي الذي عقد في 13 تموز/يوليو واستمر خمس ساعات "إن الأحكام المتعلقة بالاتفاق ستنفذ من مجلس الوزراء. واليوم، بما أن سلطة مجلس الوزراء قد أسندت إلى رئيس الجمهورية، فقد يتسنى الانسحاب من الاتفاقية بموجب مرسوم رئاسي". وبعبارة أخرى، وفقا لبيان جاويش أوغلو، فإن قرار الانسحاب من الاتفاقية الفاسدة هو قرار في يد أردوغان تماما، كما كان الحال في قرار إعادة آيا صوفيا إلى مسجد مرة أخرى، فيمكنه بسهولة الانسحاب من الاتفاقية وقتما يشاء. وفي الواقع، انسحبت بلغاريا وكرواتيا وهنغاريا من الاتفاقية.

4-  من جهة أخرى، خلال اجتماع المجلس التنفيذي المركزي "قال بعض الأشخاص مثل وزيرة الأسرة زهرة زمرد سلجوق ونائب رئيس مجموعة حزب العدالة والتنمية محمد موس إنه سيكون من السيئ الانسحاب من الاتفاقية". وقال نعمان كورتولموش، الذي حاول إرضاء الأوساط الإسلامية فيما يتعلق بالاتفاقية، قال "كما وقعنا عليها حسب الأصول، سننسحب منها"، وقال خلال اجتماع المجلس التنفيذي المركزي "هناك مسألتان في هذه الاتفاقية لا نوافق عليهما. أولا، قضية نوع الجنس، والأخرى هي مسألة الميل الجنسي. هناك أيضا قضايا أخرى ولكن هذين المفهومين لعبا في أيدي عناصر المثليات والمثليين ومزدوجي الميل الجنسي ومغايري الهوية الجنسانية والعناصر الهامشية. وقد لجأوا وراء هذه المفاهيم". كما يعارض نائب رئيس مجموعة حزب العدالة والتنمية أوزليم زينين وأعضاء منظمة المجتمع نفسه الذين ينتمون إلى نفس المجتمع مثل كاديم الانسحاب من الاتفاقية.

5-  لا ينبغي أبداً أن ننسى أن هذه الاتفاقية الفاسدة ليست خاطئة فقط من حيث مفاهيم الجنس والتوجه الجنسي، بل هي كذلك غير إسلامية جملة وتفصيلا. لذلك، على جميع المسلمين أن ينظروا إلى المسألة بهذه الطريقة، ولن تحل المشكلة بتغيير بعض المواد فقط. ونظراً لأن هذه الاتفاقية الفاسدة التي تفرض الالتزام بإدماج مبدأ المساواة بين الجنسين في التشريعات المحلية بما فيها الدستور وضمان تنفيذه، فإن التمييز لا يمكن أن يحدث في أي ظرف من الظروف، بما في ذلك "الميل الجنسي". ولذلك، فإن التغيير لا يحدث فقط مع الإلغاء الكامل أو الجزئي لهذه الاتفاقية الفاسدة، بل على العكس من ذلك، لا يمكن أن يتحقق إلا من خلال إلغائها كاملة - من الدستور إلى القوانين السارية، وجميع الاتفاقات والتحالفات مع العالم الغربي - ومن خلال التنفيذ الشامل لجميع أحكام الإسلام. وهذه الأيام قريبة بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد حنفي يغمور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست